علماء کرام سے کیا کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی ؟

اوکاڑہ( ویب ڈیسک )وزیر اعظم عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کرنے والے علماء ومشائخ کو سعد رضوی سے ملاقات کے لئے 3مرتبہ وقت دیا گیا،علماء مشائخ ہوٹل میں سعد رضوی کے ساتھ ملاقات کے لئے انتظار کرتے رہے ،ادھر 3وفاقی وزراء نے مفتی منیب الرحمٰن کو ساتھ لے کر سعد رضوی سے ملاقات کر لی،

علماء و مشائخ سعد رضوی سے ملاقات کے بغیر ہی واپس آئے۔ علماء و مشائخ کے وفد میں شامل ملی یکجہتی کونسل و جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نےجنگ کو بتایا کہ بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد علماء ومشائخ نے وہاں نماز عصر پڑھی جس کے بعد ہم ہوٹل میں آ گئے ہمیں کہا گیا کہ آپ کی7 بجے سعد رضوی کے ساتھ ملاقات کروائی جائے گی اسی دوران ڈاکٹر زبیر کے بقول صاحبزادہ حامد رضا کو وفاقی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا فون بھی آیا کہ سعد رضوی کو احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کریں،صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر نے بتایا کہ 7 بجے سے کچھ وقت پہلے حکومت کی طرف سے ہمیں اطلاع دی گئی کہ سعد رضوی سے ملاقات ساڑھے 10 بجے کروائی جائے گی،ہم انتظار کرتے رہے پھر حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ ملاقات رات 12 بجے ہو گی، 12 بجے بھی ملاقات نہ ہو سکی۔ اس سوال پر کہ حکومت نے سعد رضوی سے کیوں نہ کروائی ،انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی،وفاقی وزیر علی محمد خان اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر مشتمل کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن کو ساتھ لے کر سعد رضوی سے ملاقات کر رہی تھی جبکہ ہمیں بار بار انتظار کا ہی کہا جا رہا تھا، حالانکہ کچھ وفاقی وزراء نے مشورہ دیا کہ ان علماء ومشائخ کو بھی سعد رضوی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں شامل کیا جائے جنہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے۔

Comments are closed.