علی یحییٰ نے حامد میر کو کیا کچھ بتایا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بریگیڈیئر (ر) اے آر صدیقی 1968سے 1973تک آئی ایس پی آر کے سربراہ رہے۔ اُنہوں نے جنرل یحییٰ خان کے ساتھ اُس وقت کام شروع کیا جب وہ کیپٹن تھے اور پھر اُنہوں نے کرنل بن کر جنرل یحییٰ خان کی وہ

پہلی تقریر لکھی جو اُنہوں نے جنرل ایوب خان کو ہٹانے کے بعد بطور چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر کی تھی۔بریگیڈیئر (ر) اے آر صدیقی کی کتاب 2020 میں شائع ہونے والی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے کیونکہ اِس کتاب میں سنی سنائی نہیں، آنکھوں دیکھی معلومات شامل ہیں اور کہیں پر بھی مصنف نے کسی کی غفلت کو چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب تک جنرل یحییٰ خان نے سیاست میں مداخلت نہیں کی، اُن کی ساکھ ایک پروفیشنل سولجر کی تھی جو دوسری ورلڈ وار میں اٹلی کا ایک قید خانہ توڑ کر فرار ہوئے۔1960میں وہ چیف آف جنرل اسٹاف تھے تو اُنہیں صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب مارگلہ کی پہاڑیوں میں ایک نیا دارالحکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی اور کیپٹن اے آر صدیقی پی آر او کے طور پر یحییٰ خان کے ساتھ منسلک کر دیے گئے۔یہ نیا دارالحکومت جو بعد میں اسلام آباد کہلایا، اُس کے ماسٹر پلان اور تعمیر میں یحییٰ خان نے دن رات ایک کر دیا۔ اے آر صدیقی لکھتے ہیں کہ جب بھی یحییٰ خان سے پوچھا جاتا کہ اِس نئے شہر میں آپ اپنا گھر کہاں بنائیں گے تو وہ جواب میں کہتے میں گھر نہیں، شہر بناتا ہوں۔ یہ سب پڑھتے ہوئے مجھے علی یحییٰ یاد آ گئے جو یحییٰ خان کے اکلوتے صاحبزادے تھے۔ایک دفعہ میں نے اُن سے پوچھا کہ گوہر ایوب سیاست میں آ گئے، اعجاز الحق بھی سیاست میں آئے، آپ سیاست میں کیوں نہیں آئے؟ علی یحییٰ مسکرائے اور کہا

تاکہ تم یہ طعنہ نہ دے سکو کہ اگر یحییٰ خان کا بیٹا سیاست میں آ سکتا ہے تو بھٹو کی بیٹی کیوں نہیں آ سکتی؟ پھر وہ سنجیدہ ہو گئے اور کہا، تم ہر 16؍دسمبر کو میرے باپ کی ایسی تیسی کرتے ہو، ٹھیک ہے، میرے باپ نے بہت غلطیاں کی ہوں گی لیکن اس نے پیسہ نہیں بنایا، پورا اسلام آباد شہر بنا دیا لیکن ایک کنال کا پلاٹ بھی نہیں لیا۔اے آر صدیقی لکھتے ہیں کہ 19؍فروری 1969کو بریگیڈیئر غلام عمر نے مجھے بلایا اور راز داری کے ساتھ کہا کہ جنرل یحییٰ خان کا قوم سے خطاب تیار کرو۔ صدیقی صاحب سے کہا گیا کہ کسی اسٹینو گرافر سے یہ کام نہیں کرانا، تم نے سب خود کرنا ہے۔ یحییٰ خان نے 25؍مارچ کو اقتدار سنبھالا تھا لیکن اُن کی تقریر 34دن قبل تیار ہو چکی تھی۔یحییٰ خان نے ٹیک اوور کر لیا تو بریگیڈیئر غلام عمر میجر جنرل بن گئے اور اے آر صدیقی کو جنرل یحییٰ خان کا چیف پریس ایڈوائزر بنا دیا گیا۔ اِس کتاب میں دلچسپ واقعات بھی موجود ہیں۔یحییٰ خان جب گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے تو ڈرامیٹک کلب کے ممبر تھے اور بڑی اچھی ایکٹنگ کرتے تھے۔ مئی 1968میں اُن کی مولانا عبدالحمید بھاشانی کے ساتھ ڈھاکہ میں ملاقات ہوئی۔اِس ملاقات میں بھاشانی نے یحییٰ سے گزارش کی کہ اُن کے آبائی علاقے سنتوش میں ایک یونیورسٹی بنائی جائے جس پر دو کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ اے این رضوی کو کہا گیا کہ یہ کام کرا کر دیں لیکن یہ منصوبہ بروقت شروع نہ ہوا۔

Comments are closed.