عمران اینڈ کمپنی کے ساتھ جلد کیا ہونیوالا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر اور بزرگ پاکستانی کالم نگار الطاف حسن قریشی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آج حُسنِ اتفاق سے الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان بھی ایک درخشاں ماضی رکھتے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ اور اُن کے رفقا نے اُس وقت غیرمعمولی جرأت اور بصیرت کا ثبوت دیا جب سپریم کورٹ کے

فاضل بینچ نے اُنہیں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران طلب کیا اور پے در پے سوالات کے ذریعے اِس طرف راغب کرنے کی کوشش کی کہ سینیٹ کے انتخابات میں اوپن بیلٹ کا نظام رائج کرنے کا کوئی راستہ دریافت کیا جائے۔ چیف الیکشن کمشنر نے دوٹوک الفاظ میں اپنا موقف بیان کیا کہ اوپن بیلٹ کے لئے آئین کی شق 226 میں ترمیم کرنا ہو گی۔ قومی حلقوں نے محسوس کیا کہ پہلی بار الیکشن کمیشن نے ایک آزاد اَور خودمختار اِدارے کی حیثیت سے ایک قابلِ فخر کردار اَدا کیا ہے۔پھر ڈسکہ ٹریجڈی کا نزول ہوا۔ پنجاب میں تحریکِ انصاف کی حکومت قائم ہے، چنانچہ اِس نے ضمنی انتخاب میں نشست جیتنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ چیف الیکشن کمشنر نے انتخاب کالعدم قرار دَیتے ہوئے پورے حلقے میں ری پولنگ کے احکام جاری کر دیے۔ چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب جنہوں نے عدم تعاون کی بدترین مثال قائم کی تھی، اُنہیں اپنی عدالت میں طلب کر لیا جن پر کڑے احتساب کا خوف طاری ہے۔ لاپتہ بیس پریذائیڈنگ آفیسرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے اور کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے اعلیٰ حکام تبدیل اور معطل کیے جا چکے ہیں۔ اِن اقدامات سے حکومت پر لرزہ طاری ہے، کیونکہ رگِ اقتدار میں تبدیلی دوڑتی پھر رہی ہے اور سینیٹ کے انتخابات کے جو نتائج برآمد ہوئے ہیں، وہ تبدیلی کی رفتار میں حیرت انگیز اضافہ کر دیں گے۔ ہم اِس عظیم تغیر پر اپنے الیکشن کمیشن کو سلام پیش کرتے ہیں اور ملک میں صحت مند انقلاب کی توقع رکھتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.