عمران حکومت نے کیا پلان بنا لیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک )تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کیلئے دی گئی ڈیڈلائن(16فروری)قریب آتے ہی حکومت نےتحریک لبیک کے الٹی میٹم کے حوالے سےمختلف آپشنز پر کام شروع کردیا۔ذرائع نے بتایا کہ پلان اے کے تحت حکومت نے پولیس حکام کے ذریعے تحریک لبیک قیادت سے بیک ڈور مذاکرات بھی

شروع کردئیے ہیں جنکی تصدیق تحریک لبیک ذرائع نے کی ہے۔مذکرات ناکام ہونے کی صورت میں پلان بی پر عمل کیا جائیگا،جس کےتحت پنجاب پولیس کے اہلکاروں نےفورتھ شیڈول میں شامل تحریک لبیک کے رہنماؤں مولانا غلام عباس، مہر قاسم، علامہ فاروق الحسن قادری و دیگر کلیدی کارکنوں کے گھروں میں جانا شروع کردیا۔ ابتدائی طور پر تحریک لبیک کے رہنماؤں نے نیک چلنی کےمچلکوں کی تعمیل کرنے سے انکار کردیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عدم تعمیل پر نوٹس رہنماؤں کے گھروں کے باہرچسپاں کردئیے جائیں گے، بعدازاں انکی نقول عدالت اور متعلقہ اداروں میں جمع کروا کر نظر بندی کے احکامات حاصل کرکے رہنمائوں کو قید خانوں میں بند کرنے کا آپشن استعمال کیا جائیگا ۔تحریک لبیک کے رہنمائوں کو فراہم کیا جانیوالا نیک چلنی کا مچلکہ اقرار نامہ 13 شقوں پر مشتمل ہے، جنکی خلاف ورزی کرنے پر پانچ لاکھ روپے بحق حکومت پنجاب جمع کروانا ہوں گے،اقرار نامہ میں ریاستی بدمعاشی میں ملوث نہ ہونے،مذہبی معاملات میں بدامنی پیدا نہ کرنے،کسی ایسی تنظیم سے تعلق نہ رکھنے، پولیس بدامن تنظیموں بارے لازمی اطلاع دینے ، گھر چھوڑنے اورآمدورفت کی اطلاع دینے،کسی ادارے میں جہاں تربیت دی جاتی ہو نہ جانے ،تھیٹر ، سینما، ہوٹل ، تفریح گاہوں ،پبلک مقامات پر نہ جانے پر پابند کیا گیا ہے۔حکومتی ذرائع کا یہ بھی کہنا کہ تحریک لبیک کے حوالے سے عدم سختی پر اتفاق رائے کرلیا گیااور تمام معاملات افہام وتفہیم سے ہی حل کئے جائیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *