رؤف کلاسرا کا ایک دلچسپ تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اگر آپ نے پاکستان کا موازنہ کسی سے کرنا ہو تو برطانیہ سے کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی اور برطانوی وزیراعظم‘دونوں لاک ڈائون کے خلاف تھے اور نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ عوام سے بڑی جاہلیت تو حکومت نے دکھائی ہے۔

حکومت کے پاس جنوری سے مارچ تک تین ماہ تھے اور سامنے مختلف ملکوں کے ماڈل موجود تھے کہ کس ملک نے کیسے ہینڈل کیا اور کیا نتیجہ نکلا۔ چینی ماڈل تھا‘کہ سختی سے پورا شہر لاک کر دو۔ اٹلی کا ماڈل تھا ‘کہ ہرگز لاک ڈاؤن نہیں ‘ مزے کرو‘ دیکھا جائے گا۔ اٹالینز نے پاکستانیوں کی طرح کورونا کا مذاق بنایا اور ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے‘ پھر برطانوی ماڈل بھی تھا جہاں کا وزیراعظم زبردستی لوگوں سے ہاتھ ملاتا پھر رہا تھا اور پھر خود بھی کورونا کا شکار ہوا۔ ہماری سرحدوں پر ایران میں کورونا کا شدید پھیلاؤ ہوچکا تھا ‘اُدھرنیویارک میں ہزاروں مر رہے تھے‘ ہماری حکومت پھر بھی سوئی رہی۔ آپ نوٹ کریں‘ پاکستان میں اپریل تک سنجیدگی نظر نہیں آئی‘ ڈاکٹروں نے رولا ڈالا کہ ہمارے پاس حفاظتی لباس اور سامان نہیں تو ان پر حکومت چڑھ دوڑی ۔کسی نے ڈاکٹروں کی دہائیوں کو سنجیدہ نہ لیا ۔ جب حکومت یہ سب مذاق لوگوں کے ساتھ کررہی تھی تو پھر لوگ کیوں سنجیدہ ہوتے؟ اگر پہلے دن سے ہی آپ لوگوں کو ڈراتے کہ یہ کتنا خوفناک وائرس ہے تو لوگ گھروں میں رہتے‘ بلکہ جب پہلی دفعہ لاک ڈائون کیا گیا تو تمام شہروں میں لوگوں نے فالو کیا کیونکہ لوگ اٹلی‘ برطانیہ اور نیویارک میں حالات دیکھ کر خوفزدہ تھے۔ اور پھر حکومت نے خود ہی اس خوف کو دور کر دیا کہ نہیں جناب یہ تو اشرافیہ آپ کو بھوکا مارنا چاہتی ہے‘ لہٰذا لاک ڈاؤن سے غریبوں کو کچھ نہیں ہوگا‘ اگر کچھ ہوا تو یہ امیروں کو ہوگا‘ اسی لیے امیر چاہتے ہیں کہ شہر بند ہوجائیں۔ اب یہ سب باتیں عوام نہیں بلکہ اس ملک کا وزیراعظم صحافیوں کو بلا کر مسلسل کہہ رہا تھا ۔ پچھلے ہفتے تک وزیراعظم عمران خان ماسک پہننے کو تیار نہیں تھے اور اس کا ثبوت وہ تصویر ہے جس میں وہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز بریفنگ کیلئے گئے تو ان کے ساتھ آرمی چیف جنرل باجوہ اور اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض نے ماسک پہن رکھے تھے لیکن وزیر اعظم نے ماسک نہیں پہنا۔ درجنوں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بھی وزیراعظم نے ماسک نہیں پہنا ۔ اب بتائیں پھر قوم کو کیسے سمجھایا جائے کہ ماسک پہننا کتنا اہم ہے یا بازار مت جائیں‘ جب وزیراعظم خود انہیں بتا رہے ہوں کہ ماسک پہننا ضروری نہیں اور اگر وہ باہر نہ نکلے تو بھوکے مریں گے۔ عمران خان صاحب بائیس برس تک فرماتے رہے کہ یہ عظیم قوم ہے لیکن اسے حکمران نااہل اور کرپٹ ملے۔ اسی ”عظیم قوم‘‘ نے عمران خان کو اربوں جیب سے دے کر ہسپتال بنوایا ‘کالج بنوایا اور پھر وزیراعظم تک بنا دیا‘ لیکن اب وہی قوم جاہل نکل آئی ہے۔اب کہا جارہا ہے کہ حکمران تو بہت قابل‘ سمجھدار‘ ایکٹو اور ایماندار ہیں لیکن قوم ہی کرپٹ اور جاہل ہے۔ وہی بات جب میں بہو تھی تو ساس اچھی نہ ملی ‘ میں ساس بنی تو بہو اچھی نہ ملی۔

Sharing is caring!

Articles You May Like

Comments are closed.