عمران حکومت کو گندا کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کس ادارے کو استعمال کر رہے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نیب والے بھی تماشا کرنے کے شوقین ہیں حالانکہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ وطنِ عزیز میں کون کون ان کی دسترس میں ہے اور کس پر ہاتھ ڈالنے سے ان کے پر جل سکتے ہیں یہاں کئی بار تو یہ تماشا بھی دیکھا گیا، نیب کی وجہ سے امن و امان

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔کا مسئلہ پیدا ہوا اور نیب افسر اپنے دفتروں میں محبوس ہو گئے۔ یہ وہ ملک تو ہے نہیں کہ جہاں قانون کا احترام موجود ہو یہاں تو ہر طاقتور اپنی طاقت کے بل بوتے پر نظام کو چلانا چاہتا ہے۔ ابھی حال ہی میں مریم نواز کو جب نیب آفس میں طلب کیا گیا تو وہ منظر سب نے دیکھا کہ مریم نواز دفتر کے گیٹ پر کھڑی تھیں اور اندر بیٹھے ہوئے نیب والے انہیں بلانے سے انکاری تھے، کیونکہ ایک ہجوم بھی مریم نواز کے ساتھ تھا۔ اب نیب نے ایک اور بڑا قدم اٹھایا ہے، جو پھر کسی بڑے تماشے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس نے مولانا فضل الرحمن کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں یکم اکتوبر کو نیب پشاور میں طلب کر لیا ہے۔ کہنے کو یہ ایک آسان اور معمول کی بات نظر آتی ہے لیکن یہ اتنا بڑا کار دشوار ہے کہ نیب ہی نہیں حکومت کو بھی لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے تو ابھی سے کہہ دیا ہے کہ نیب کی کیا جرأیت ہے مجھے طلب کرے یہ اوچھے ہتھکنڈے حکومت کے ہیں۔ نیب سے ہم ڈرنے والے نہیں، گویا وہ نیب کی طلبی پر سر تسلیم خم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اگر پھر بھی بلایا گیا تو وہ اپنے تین لاکھ طالب علموں کو پشاور پہنچنے کی کال دے سکتے ہیں، اس کے بعد کیا ہوگا، اسے چشمِ تصور بھی دیکھنے سے قاصر ہے۔مولانا فضل الرحمن کو یقین تھا کہ جیسے تین دہائیوں سے

ان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرتا رہا اسی طرح اب بھی کون پوچھے گا کہ اثاثوں کی اصل مالیت کیا ہے، لیکن شومئی قسمت کہ وہ انتخابات میں ہار گئے اور اس کے بعد انہوں نے نتائج قبول کرنے کی بجائے پہلے دن سے حکومت گرانے کا مشن اپنا لیا وہ بنی گالا پر تنقید کرتے رہے مگر یہ بھول گئے کہ خود ان کے اثاثے بھی بنی گالا سے کسی صورت کم نہیں نیب نے جب ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا تو انہوں نے اسے آزادی مارچ کو رکوانے کی سازش قرار دیا تھا۔ جو نیب نیازی گٹھ جوڑ کی وجہ سے تیار کی گئی۔ تاہم اب نیب ان کے خلاف بہت سا مواد جمع کر چکا ہے۔ ان کے خلاف الزامات کی فائل بہت بھاری ہو چکی ہے، جس میں مضبوط شواہد بھی موجود ہیں ظاہر ہے اب نیب سارے شواہد ان کے سامنے رکھ کے انہیں سوالنامہ تھمائے گا۔ مولانا فضل الرحمن نے سوالنامہ وصول کر لیا تو گویا وہ شکنجے میں آ گئے، اس لئے امید یہی ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ انہیں پھر بھی نیب نے طلب کیا تو وہ اکیلے نہیں جائیں گے بلکہ ان کے ساتھ ایک بڑا جلوس ہوگا۔ وہ اس طلبی کو بھی کسی آزادی مارچ کی طرح ایک بڑا شو بنانے کی حکمتِ عمل اختیار کریں گے۔ ایسے میں خیبرپختونخوا کی حکومت اور خود نیب کے پاس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کیا انتظامات ہوں گے، اس کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے، کیونکہ مولانا کا آزادی مارچ تو اسلام آباد آنے سے

نہیں روکا جا سکا تھا، پشاور جانے سے کیسے روکا جائے گا کہ جہاں مولانا کے مدرسوں میں مقیم ہزاروں طلبہ بھی موجود ہیں۔میری ذاتی رائے تو یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو قانون اور اداروں کا احترام کرتے ہوئے بغیر کسی لاؤ لشکر کے نیب آفس میں جانا چاہئے۔ اس سے ان کا قد بڑھے گا اور نیب کی انتقامی کارروائی کا تاثر بھی گہرا ہو جائے گا۔ اگر وہ نیب کے تمام الزامات کو جھوٹا سمجھتے ہیں تو پھر انہیں مزاحمت کی بجائے اپنی سچائی ثابت کرنے کا راستہ اختیار کرنا چاہئے ایسا نہ کرنے کی صورت میں بہر طور یہ شک ضرور پیدا ہوگا کہ مولانا فضل الرحمن کے پاس چونکہ صفائی میں کہنے کو کچھ نہیں تھا، اس لئے انہوں نے اپنی طاقت کے ذریعے کارروائی رکوانے کی کوشش کی۔ تاہم مجھے نہیں لگتا کہ مولانا فضل الرحمن یہ راستہ اختیار کریں گے۔ وہ شہباز شریف کے نقشِ قدم پر چلنے کی بجائے مریم نواز کی پیروی کریں گے، جنہوں نے نیب کی پیشی کو ایک کامیاب سیاسی شو میں تبدیل کیا اور نیب کے جوابات بھی نہیں دیئے۔ مولانا فضل الرحمن کے پاس تو اس کا سیاسی جواز بھی موجود ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک میں پیش پیش ہونے کی وجہ سے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ وگرنہ اتنے عرصے بعد نیب کو انہیں بلانے کا خیال کیوں آیا، چونکہ نیب کی ساکھ بھی کچھ اچھی نہیں اور اس کے الزامات اکثر عدالتوں میں ثابت نہیں ہوتے یا گرفتار ملزمان ریفرنس نہ پیش کرنے کی وجہ

سے ضمانتوں پر رہا ہو جاتے ہیں، اس لئے کسی کو یقین نہیں کہ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں نیب کے الزامات درست ہیں۔ ویسے بھی مولانا کے لئے یہ بات فائدہ مند ہے کہ وہ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کریں۔ وہ خود یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں بے چینی پیدا ہو اور اس کی بنیاد پر عوام کو سڑکوں پر لانے کا موقع ملے۔ کیا عجب اتفاق ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں 6 اکتوبر سے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا اور نیب نے بھی یکم اکتوبر کو مولانا کی طلبی کے نوٹس جاری کئے۔ گویا پکی پکائی تحریک فراہم کر دی ذرا سوچیئے کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے پیرو کاروں اور عقیدت مندوں کو یہ کال دی کہ وہ یکم اکتوبر کی پیشی کے موقع پر پشاور پہنچیں اور لاکھوں افراد وہاں پہنچ گئے تو کیا وہ صرف نیب کی پیشی تک محدود رہیں گے؟ کیا اس اجتماع کو مولانا فضل الرحمن حکومت مخالف ریلی میں تبدیل نہیں کر دیں گے؟ بس یہی سوچ کے لگتا ہے کہ نیب والے ملک میں ایک اور تماشا لگانا چاہتے ہیں۔ ان کے سوالوں کا جواب تو شاید انہیں نہ ملے مگر یہ جواب ضرور ملے گا کہ مولانا فضل الرحمن کو بلا کر کیا سنگین صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ تحریک انصاف والوں کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہئے کہ 40 برسوں سے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ کسی حکمران نے نہیں بگاڑی، آخر کوئی تو وجہ ہو گی اب نیب اگر مولانا فضل الرحمن کو حکومت مخالف تحریک کے لئے ایندھن فراہم کر رہا ہے تو کہیں یہ کوئی سازش تو نہیں؟

Sharing is caring!

Comments are closed.