عمران حکومت کے 19 ماہ میں ہر پاکستانی کتنے لاکھ کا مقروض ہو گیا ؟ پول کھول دینے والی خبر

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ کی عدم موجودگی پر برہم،دوست مزار نے کہا وزیر خزانہ اور محکمے کی عدم دلچسپی افسوسناک ہے،اجلاس 15 منٹ کیلئے ملتوی کرنا پڑا، آئندہ وزیرخزانہ اور سیکرٹری خزانہ کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی زیر صدارت

ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس کے آغاز میں اپوزیشن کی جانب وزیرخزانہ اور سیکرٹری خزانہ کی ایوان میں عدم موجودگی کی نشاندہی کی جس پر ڈپٹی سپیکر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر بجٹ پر بحث کو وزیر خزانہ ہی سنجیدہ نہیں لیں گے تو باقی ارکان کیسے سنجیدہ لے سکتے ہیں۔وزیرخزانہ اور سیکرٹری خزانہ کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔چالیس منٹس بعد وزیر خزانہ ایوان میں پہنچے تو دوبارہ اجلاس شروع ہوا۔مسلم لیگ (ن) کے رکن اویس لغاری نے کہا نوازشریف کو مودی کا یار کے طعنے دئیے جاتے تھے۔بھارت کے الیکشن سے قبل عمران خان نے مودی کے دوبارہ کامیاب ہونے کی دعائیں مانگی۔آج عمران خان نے مودی کو کشمیر بھی دے دیا اور سلامتی کونسل کا رکن بھی بنوادیا،یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کا واضع ثبوت ہے۔محب وطن ہونے کے دعیداروں کی موجودگی میں مودی آج کشمیر ہڑپ کرگیا ہے کیا ہم اس کی حکومت کی کامیابی قراردے سکتے ہیں؟اتنی مغرور حکومت ہم نے آج تک نہیں دیکھی ہے۔ مان لیں کہ ہم نے 17 سالوں میں کچھ نہیں بنایا لیکن اس حکومت نے عوام کو کیا دیا ہے۔کیا تمام ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز موجودہیں،ہسپتالوں میں مریضوں کو سہولتیں دی جا رہیں ہیں؟بجٹ میں بڑی بڑی بھڑکیں ماریں گئیں کہ ہیلتھ کیلئے فنڈز رکھے گے۔ٹڈی دل کے روک تھام میں حکومتی کارگردگی صفر ہے۔شوگر مالکان کو سبسڈی ملتی ہے کسانوں کو کیوں نہیں دیتے۔احتساب ووٹر کو دھوکہ دینے کیلئے نہ کریں بلکہ میرٹ پر کریں۔حکومت گرفتاریاں کیوں کر رہی ہے اس لیے کے نئے الیکشن میں بتا سکیں ہم نے ایک سال اسے جیل میں رکھا۔پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی نے کہا وزیر خزانہ کی سربراہی میں بجٹ کو تیار کیا گیا جو عوام کی سمجھ سے باہر ہے۔تبدیلی والوں نے 19ماہ میں ہر پاکستانی کو 8لاکھ کا مقروض کردیا ہے،میں مطالبہ کرتا ہوں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔وزیر اعظم کا دو لاکھ میں گزرا نہیں ہوتا تو 30 سے چالیس ہزار میں سرکاری ملازمین کا گزار کیسے ہوگا۔سابق حکومت میں 693 ارب روپے کے قرضے لیے۔میٹروبس بنائی، ہسپتالوں میں ادویات مفت دیں،پی ٹی آئی حکومت نے 245 ارب قرضہ لیا اس کا حساب دیں۔آج صحت،تعلیم کا نظام مفلوج کر دیا ہے۔ 479 ارب بجٹ پنجاب کو کم دیا گیا ہے۔بیڈ گورنرنس کے باعث آئی جی چیف سکرٹری تبدیل کیے گئے۔سارے صوبوں سے موازنہ کر لیں ہمارے صوبہ پنجاب بیڈ گورنرنس میں ٹاپ پر ہے۔1992 کا ورلڈ کپ ہم سے واپس لے لیں اور ہمیں پرانا پاکستان واپس کر دیں۔ حکومتی رکن یاور عباس نے کہامسلم لیگ ق کی حکومت ان کو سو ارب کا سرپلس صوبہ دے کر گئی لیکن انہوں نے دس سال بعد ہمیں 25سو ارب کا مقروض صوبہ دیا ہے۔کیا ہم اس کو گوڈ گورننس کہہ سکتے ہیں؟۔بعدازراں اجلاس کا وقت ختم ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پیر دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.