عمران خان ابھی تک ناکام : کوئی بات نہیں ۔۔۔۔ پی ٹی آئی کارکنوں کے لیے ایک زبردست پیغام

لاہور (ویب ٰڈیسک) آج کل ہر اس شخص سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آپ نے عمران خان کی حمایت کیوں کی تھی؟پچھلے دو برسو ں میں تحریک انصاف اور اس کے قائد نے اس برے طریقے سے اپنے ووٹرز، کارکنوں، حامیوں اور حسن ظن رکھنے والوں کو مایوس کیا ،

نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ عمران خان کی حمایت کرنے والوں نے کسی خاص برادری، مسلک ، قومیت یا موروثی بنیاد پر اسے ووٹ نہیں ڈالا۔اسے اس لئے ووٹ نہیں ڈالا کہ ہمارے باپ دادا اس پارٹی کے حامی رہے، اس کا فلاں مسلک ہے، کوئی خاص برادری ہے،فلاں زبان بولتا ہے یااقتدار میں آنے کے بعد ہمارے مدرسوں کا تحفظ کرے گا۔ نہیں ، ایسا قطعی نہیں ہوا۔ عمران خان کے بیشتر حامیوں نے اسے تبدیلی کے نام پر ووٹ دیا۔ اس لئے ووٹ دیا کہ ملک کی تمام بڑی ، قابل ذکر جماعتیں سٹیٹس کو کی علمبردار تھیں۔ جو کرپشن کو ملک کا مسئلہ سمجھتی ہی نہیں تھیں۔ کرپشن، احتساب اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کی بات کا مذاق اڑاتی تھیں۔ عمران خان کو دیگر جماعتوں کی نااہلی، ناکامی اور بے شرمی کی حد تک بے حس سیاست کی وجہ سے ووٹ ملے۔ عمران خان کو ووٹ ڈالنے والوں کو سر اٹھا کر چلنا چاہیے کہ انہوں نے ایک اچھے کاز کے لئے ووٹ ڈالا۔ گلے سڑے نظام کو بدلنے کے لئے آگے بڑھے۔ بدبو دار، کرپٹ روایتی سیاست کو مسترد کیا۔ انہیں عمران خان کی انتخابی سیاست پر بھی اعتراضا ت تھے۔ جس طرح اس نے الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملایا،مقتدر قوتوں کا سہارا لیا،اے ٹی ایم مشینوں پر انحصار کیا… یہ قابل اعتراض نکات تھے، مگر مقابلے میں سو فی صد سمجھوتا، سو فی صد اے ٹی ایم مشینیں اورمقتدر قوتوں کے ایجنٹ بنے رہنے کی طویل ہسٹری موجود تھی۔ عمران خان کو اس کی اپنی وجہ سے کم اور مخالفوں کے زیادہ برے ہونے کی وجہ سے ووٹ ملے۔ عمران خان کو وو ٹ ڈالنے والے اس لحاظ سے قابل افتخار، دوسروں سے بہتر ہیں کہ انہوں نے دستیاب آپشنز میں سے جو بہتر نظر آ رہا تھا، اس کا انتخاب کیا۔ یہ مگر ووٹ ڈالنا تھا، اپنا ایمان، عقیدہ فروخت کرنا نہیں۔ یہ بیعت کرنا ہرگز نہیں تھا۔ اسی لئے عمران خان کی ناقص کارکردگی پر ، غلط فیصلوں پر، ناقص ٹیم پر تنقید ہو رہی ہے۔ عمران خان کو ووٹ ڈالنا درست فیصلہ تھا، اس کی غلطیوں پر خاموش رہنا درست نہیں۔ وہ سیاسی آپشن تھا، اسے ووٹ ڈالا گیا۔ ناکامی پر سیاسی حمایت بھی نہیںہوگی۔ آخری تجزیے میں اہم بات تبدیلی کی خواہش ہے۔ اچھے اور برے میں امتیاز کرنا ہے،غلط کو غلط اور درست کو درست کہنا ہے۔ جو ایسا کررہا ہے، اسے چاہے کہ وہ سر اٹھا کر چلے۔ نظریں جھکانا، پشیماں ہونا اس کے نہیں،ان شااللہ دوسروں کے حصے میں آئے گا۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.