عمران خان اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک…..مظہر برلاس نے صاف صاف بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کل آٹھ اکتوبر تھا، سولہ برس پہلے آنے والے زلزلے کی یاد میں تقاریب منعقد ہوئیں، دکھ کا اظہار ہوا، دعائیہ کلمات ادا کئے گئے، گزشتہ سے پیوستہ روز ہرنائی بلوچستان میں آنے والے زلزلے کا دکھ بھی دعائوں میں شامل ہو گیا۔

اکتوبر 2005میں جن دنوں زلزلہ آیا تھا پاکستان میں شوکت عزیز کی حکومت تھی، آزاد کشمیر میں سردار عتیق احمد خان کی حکومت تھی، ان حکومتوں کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر میں پہلے پیپلز پارٹی اور پھر ن لیگ کی حکومتیں آئیں۔ اب دونوں جگہ تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ آزاد کشمیر میں تو حال ہی میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے، وہاں سردار عبدالقیوم نیازی وزیراعظم ہیں جبکہ پاکستان میں پی ٹی آئی حکومت تین سال مکمل کر چکی ہے۔ ان تین برسوں میں حکومت معاشی مشکلات کا شکار رہی، عالمی حالات کو بدلنے میں بھی دیر لگی کیونکہ جب عمران خان اقتدار میں آئے تھے تو پاکستان خارجی محاذ پر تنہائی کا شکار تھا، معاشی صورتحال پریشان کن تھی، چونکہ ن لیگ کو پتہ تھا کہ اگلی حکومت ان کی نہیں بنے گی، اس لئے انہوں نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا، ملک کو مقروض کر دیا۔ہماری بہت سی سڑکیں اور عمارتیں اسحٰق ڈار نے گروی رکھوا دی تھیں۔ان حالات میں عمران خان اقتدار میں آئے۔ ان کی وفاق کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومتیں بن گئیں، بلوچستان میں ان کی اتحادی حکومت بن گئی۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ سوائے سندھ کے ہر جگہ تحریک انصاف حکومت میں ہے مگر مسائل عمران خان کی جان نہیں چھوڑ رہے، ان مشکلات کی کچھ وجوہات ہیں جن پر غور کیا جا سکتا ہے، یہ مشکلات حل ہو سکتی ہیں لیکن اس کے لئے سنجیدگی کی بہت ضرورت ہے۔لوگوں نے 2018کے الیکشن میں بڑی امیدوں کے ساتھ تحریک انصاف کو ووٹ دیا

کیونکہ عمران خان نے اپنی 22سالہ ’’تبلیغ‘‘ میں بڑے دعوے اور بہت سے وعدے کئے تھے انہوں نے بدعنوانی کے خلاف بڑی زوردار تقریریں کی تھیں۔ تحریک انصاف جیتی تو دو صوبوں میں اسے اپنے وزرائے اعلیٰ بنانے کا موقع ملا۔ عمران خان نے دونوں صوبوں میں ایسے وزرائے اعلیٰ اُتارے جو سیاسی میدان میں کمزور اور ناتجربہ کار تھے۔ عمران خان کے پاس اور بھی آپشن تھے مگر پتہ نہیں انہوں نے یہ فیصلے کیوں کئے۔کس کے مشورے سے کئے۔ پنجاب جیسے اہم صوبے کا وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کو بنا دیا حالانکہ سردار عثمان بزدار کسی اور جماعت سے نئے نئے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔ سردار عثمان بزدار کی خاموش طبیعت اور کارکردگی کو جانچتے ہوئے عمران خان کے مخلص دوستوں نے ابتدائی دنوں میں ہی یہ کہہ دیا تھا کہ ’’خان صاحب! پنجاب کا وزیراعلیٰ آپ کی پالیسیوں کے خلاف کام کر رہا ہے‘‘۔ وزیراعظم عمران خان ان باتوں کو ہمیشہ نظر انداز کرتے اور عثمان بزدار کے حق میں باتیں شروع کر دیتے، جب بہت شکایات آئیں تب بھی وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار پر اعتماد کیا۔ پنجاب سے متعلق بدعنوانی کی داستانیں گردش کررہی ہیں۔اب تو مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ برملا اس کا اظہار کر رہے ہیں کہ ’’ایوانِ وزیراعلیٰ میں بولیاں لگتی ہیں، پوسٹنگ، ٹرانسفر کے نام پر بھی منڈی لگتی ہے‘‘۔ اگر ان باتوں کو اپوزیشن کی باتیں کہہ کر نظرانداز کر بھی دیا جائے تو اس کا جواب کس کے پاس ہے کہ ایک کمشنر کو وزیراعظم کے حکم پر بدعنوانی کے باعث نکالا جاتا ہے

مگر پھر وہی افسر چند ماہ بعد پنجاب کا طاقتور ترین افسر بن جاتا ہے، ایک اور کمشنر ڈسکہ الیکشن میں حکومتی بدنامی کا باعث بنتا ہے تو اسے کرشماتی طور پر پنڈی بھیج دیا جاتا ہے، جہاں وہ رنگ روڈ کا ’’کٹا‘‘ کھول دیتا ہے۔ اس سے وزراء اور حکومت کی بدنامی ہوتی ہے مگر وزیراعلیٰ پنجاب وفاقی وزراء کی اس بےعزتی پر خوش رہتے ہیں کیونکہ رنگ روڈ کا ’’کٹا‘‘ کسی کے منہ بولے چچا اور ایک اور ہستی کو فائدہ پہنچانے کے لئے کھولا گیا تھا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے تحریک انصاف کے ووٹ بینک میں اضافہ ہونا تھا مگر ہمارے ملک میں ذاتی بینک بیلنس میں اضافے کے سامنے ووٹ بینک کا اضافہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ راولپنڈی کے اس کھیل کا بڑا چرچا ہوا تھا۔اس کے لئے بڑی انکوائریاں کھولی گئیں، تحقیق کرنے والے ادارے سرگرم ہوئے، اب اطلاعات ہیں کہ کچھ بھی نہ ملا۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ جب آپ نے رِنگ روڈ پنڈی میں بدعنوانی کی داستانوں کا چرچا کیا تھا تو پھر یہ بدعنوانی ثابت کیوں نہ ہوئی؟ویسے اس دور میں لوگ حیران ہیں کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں کئی مرتبہ چیف سیکرٹری، آئی جی اور دیگر افسر تبدیل ہو چکے ہیں مگر کپتان صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ پنڈورا پیپرز میں آف شور کمپنیوں کے انکشافات کے بعد اب اداروں کو اہلِ خانہ پر بھی نظر رکھنا ہو گی، ویسے یہ کمال بھی اسی عہد کا ہے کہ پہلے وزراء کو

بدعنوانی کے نام پر فارغ کیا جاتا ہے اور بعد میں پھر سے وزیر بنا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کا ایک لاہوری وزیر کسی نئے ’’کارنامے‘‘ کے لئے پھر سے سرگرم ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک جب وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے دل و جان سے کام کیا۔ اس کا ثمر پی ٹی آئی کو الیکشن میں ملا۔ اب پتہ نہیں کس کے کہنے پر محمود خان کو وزیراعلیٰ بنایا گیا، خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ نے تمام تبدیلیوں کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے۔یہاں بھی حکومت شاید وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری ہی سرگرم ہیں۔ وفاق میں آغاز ہی میں ایک وزیر نے معیشت کا بیڑہ غرق کیا، اب عمران خان کہتے ہیں کہ ’’ہمیں پہلے دن ہی آئی ایم ایف کے پاس چلے جانا چاہئے تھا، پہلے نو ماہ کے سفر کا خمیازہ ابھی تک بھگتنا پڑ رہا ہے‘‘۔عمران خان کو خارجی محاذ پر کئی کامیابیاں ملی ہیں انہوں نے خود کو عالمی لیڈر کے طور پر منوایا ہے۔ ان کی دیانتداری اور جرأت کی دنیا قائل ہے مگر خان صاحب جب تک اپنے گھر ، آس پاس اور دفتر سے بدعنوان افراد کو الگ نہیں کرتے اس وقت تک ان کے خوابوں کو تعبیر نہیں مل سکتی۔اپنے وعدوں اور لوگوں کی آرزوئوں کی خاطر انہیں بہت کچھ چھوڑنا ہو گا، انہیں اپنے چہیتوں کی محبت سے نکلنا ہو گا، خان صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان لوگوں کو آپ سے نہیں دولت سے پیار ہے اور حضرت علیؓ کے بقول دولت کی حیثیت صرف خاک ہے۔ بقول اقبالؒ۔۔سلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ۔۔جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے، مٹا دو