عمران خان اپنی مدت پوری کر سکیں گے یا نہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد اکرم چوہدری اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کا فوری طور پر حکومت سے علیحدگی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ دونوں جماعتیں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کا حصہ رہیں گی۔ اختلاف رہے گا، حکومت اور اتحادی ایک دوسرے سے ناراض ہوں گے،

اپنا اپنا کام کرتے رہیں، اپنے کام کرواتے رہیں گے لیکن اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ اتحاد اس وقت تک قائم رہنے کا امکان ہے جب تک نئے انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں ہو جاتے اور نئی سیاسی صف بندیوں کی حتمی شکل نظر نہیں آتی۔ اس وقت تک جیسے تیسے یہ اتحاد قائم رہے گا۔ ملک کی سیاسی صورتحال اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ حزب اختلاف کی جماعتیں ملک میں سیاسی تبدیلی کے لیے جس خالی صفحے کی تلاش میں ہیں وہ صفحہ فی الحال کسی کو نہیں ملے گا۔ یوسف رضا گیلانی کی جگہ راجہ پرویز اشرف وزیراعظم بن جائیں تو کیا اسے تبدیلی کہا جائے گا یا پھر جام کمال خان کی جگہ عبدالقدوس بزنجو جیسا کوئی وزیر اعلیٰ آ جائے تو کیا اسے بھی تبدیلی کہا جائے گا۔ کیا جو سیاستدان تبدیلی لانا چاہتے ہیں کیا وہ اتنے باصلاحیت، ذہین اور قابل بھروسہ ہیں کہ عوام یہ سمجھنے لگیں اگر باہر بیٹھے سیاست دان حکومت میں آئیں تو عام آدمی کا مقدر بدل جائے گا اور اس کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ نعرے لگانے اور تبدیلی کی خواہش رکھنے والے سیاستدان دہائیوں سے سادہ لوح لوگوں کی معصومیت سے فائدہ اٹھا کر ذاتی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ عوام کو سوچنا چاہیے کہ جو سیاستدان آج تبدیلی کیلئے آوازیں بلند کر رہے ہیں ان کے پاس عوامی مسائل حل کرنے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کو درپیش چیلنجز حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کے معاملے میں پرامن انتقالِ اقتدار سے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ افغانستان میں حکومتی سطح پر تبدیلی آئی ہے۔ اور اس تبدیلی کی وجہ سے امریکہ اور بھارت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی امن پسندی کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ تعلقات ماضی جیسے نہیں رہے یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ اور بھارت میں قربتیں بڑھی ہیں۔ دونوں کو “غم افغانستان” کھائے جا رہا ہے اور پاکستان دونوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مفادات کی حفاظت کر رہا ہے۔ اب عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ ایسے سیاستدانوں کی باتوں میں آئیں گے۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ پاکستان کا عام آدمی اپنے فیصلے خود کرنا شروع کرے اور ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بہتر قیادت کا انتخاب کرے۔

Comments are closed.