عمران خان اپنی ہر تقریر اور خطاب میں یہ تکرار کس منصوبے کے تحت کرتے ہیں ، دراصل انہیں کیا خوف لاحق ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔نواز شریف جیسے لوگ دوسرے لوگوں کو عزت دیتے ہیں اور معاف کر دیتے ہیں‘ یہ دونوں وہ خوبیاں ہیں جو شاید اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں چناں چہ یہ بدنصیبی کے ہر بیلنے سے بچ بھی جاتے ہیں

اور بار بار نکالے جانے کے باوجود اقتدار میں واپس بھی آ جاتے ہیں‘ یہ میری رائے ہے۔یہ اس وقت لندن میں ہیںاور یہ حقیقت ہے یہ ڈیل کے ذریعے لندن گئے تھے‘ ڈیل میاں شہباز شریف نے کی تھی‘ یہ اسپتال میں اپنے بڑے بھائی سے ملے اور ان کی منت کی آپ لندن چلے جائیں‘ اپنا علاج کرائیں‘ ایک ماہ بعد مریم نواز بھی آ جائیں گی‘ آپ مجھے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کرنے دیں‘ مارچ 2020 میں شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں قومی حکومت بن جائے گی اور یہ حکومت فیئر اینڈ فری الیکشن کرا دے گی‘میں یہ وعدہ لے چکا ہوں‘ میاں نواز شریف باہر نہیں جانا چاہتے تھے‘ یہ قید بھگتنا چاہتے تھے لیکن فیملی نے دبائو ڈالا اور یہ پارٹی چھوٹے بھائی کے حوالے کر کے لندن چلے گئے لیکن میاں نواز شریف کے جانے کے بعد مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ حمزہ شہباز کی ضمانت بھی نہ ہوئی‘ شہباز شریف کی اہلیہ اور صاحب زادی کے خلاف بھی نوٹس جاری ہو گئے اور قومی حکومت کا خواب بھی پورا نہ ہوا اور میاں نواز شریف لندن میں خاموشی سے بیٹھ کر ’’مفاہمت‘‘ کا نتیجہ دیکھتے رہے‘ یہ سب کچھ برداشت کر رہے تھے لیکن یہ سمجھتے ہیں شریف فیملی کی خواتین کے خلاف مقدمے نہیں بننا چاہیے تھے‘ یہ شہباز شریف کی بیٹیوں کے خلاف مقدموں پر دکھی ہو گئے اور انھوں نے پارٹی کو واپس اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ لندن میں حسن نواز کے دفتر میں بیٹھنے لگے اور سیاسی رابطے شروع کر دیے

اور اس دوران شہباز شریف گرفتار ہوئے‘ پی ڈی ایم بنی‘ مریم نواز سامنے آئیں اور یہ سیاسی لیڈر کی حیثیت سے ڈویلپ ہونے لگیں۔ پارٹی کے سینئر قائدین کا خیال ہے کلثوم نواز صاحبہ نے انتقال سے پہلے میاں نواز شریف سے مریم نواز کو وزیراعظم بنوانے کا وعدہ لیا تھا‘ یہ بات کس حد تک درست ہے میں نہیں جانتا لیکن لوگ سرگوشیاں کر رہے ہیں‘ پی ڈی ایم کے جلسے ہوئے اور میاں نواز شریف نے گوجرانوالہ کے جلسے میں 2018 کے الیکشنز میں دھاندلی کے ذمے داروں کے نام لینا شروع کر دیے‘ اس سے پہلے میاں نواز شریف اور خواجہ آصف کے درمیان بھی تلخی پیدا ہو گئی تھی اور دونوں کے درمیان رابطے کم زور ہو گئے۔پی ڈی ایم چلتی رہی لیکن یہ مارچ 2021 میں ٹھس کر گئی‘ میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن شروع دن سے اسمبلیوں سے استعفے دینا چاہتے تھے لیکن پیپلزپارٹی وقت مانگتی رہی‘ وقت کے اس لین دین میں آصف علی زرداری کی ڈیل میچور ہو گئی اور پی ڈی ایم عملاً فوت ہو گئی جس کے بعد اب تمام سیاسی جماعتوں کو 2023 کے الیکشنز نظر آ رہے ہیں‘ ن لیگ کے سینئر رہنمائوں کا خیال ہے پارٹی پر اگلے چھ ماہ بہت مشکل ہیں۔ حکومت تمام بڑے رہنمائوں کو جھوٹے سچے مقدموں میں قید میں پھینک دے گی تاہم 2022 کے شروع میں الیکشن کا غلغلہ شروع ہو جائے گا اور عمران خان اپوزیشن کے بجائے اگلے الیکشن پر فوکس پر مجبور ہو جائیں گے یوں سب کی ضمانتیں ہو جائیں گی

تاہم میاں نواز شریف کو خطرہ ہے عمران خان کسی بھی وقت دو تین گھنٹے کی طویل تقریر کر کے اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں‘ وزیراعظم جان بوجھ کر ’’ملک کو گروہوں نے گھیر رکھا ہے‘‘ کا بیانیہ تخلیق کر رہے ہیں تاکہ یہ سال پہلے الیکشن کراسکیں۔ نواز شریف سمجھتے ہیں ملک میں جب تک اداروں کے درمیان عمرانی معاہدہ نہیں ہوتا‘ عدلیہ اور میڈیا آزاد نہیں ہوتے اور ادارے اپنی اپنی حدود میں رہنے کا فیصلہ اور وعدہ نہیں کرتے ملک میں اس وقت تک کسی الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں لہٰذا عمران خان اگر الیکشن کراتے ہیں تو کرانے دیں‘یہ بہرحال حکومت نہیں چلا سکیں گے‘ ملک مزید بیٹھ جائے گا‘ یہ سمجھتے ہیں ہمارے بعد پیپلز پارٹی کی باری ہے‘ حکومت سندھ پیپلزپارٹی کے پاس نہیں رہنے دے گی‘ یہ دو تین ماہ بعد پیپلز پارٹی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دے گی۔ اس وقت پیپلز پارٹی پی ڈی ایم میں بھی واپس آ جائے گی اور یہ ن لیگ کی آواز میں آواز بھی ملائے گی ‘یہ اس وقت کا انتظار کرنا چاہتے ہیں‘ یہ اپنا بیانیہ بھی واپس نہیں لینا چاہتے اور یہ مریم نواز کو بھی سائیڈ ٹریک کر کے ان کا سیاسی کیریئر تباہ نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ دل سے یہ بھی چاہتے ہیں شہباز شریف مفاہمت کی آخری کوشش ضرور کریں تاکہ ان کے اندر سے اعتدال اور مفاہمت کا خیال بھی ہمیشہ کے لیے نکل جائے اور پارٹی کے معتدل لیڈرز کل میاں نواز شریف کو ضد اور ہٹ دھرمی کا الزام بھی نہ دے سکیں لیکن یہ اس کوشش میں اپنا بیانیہ قربان نہیں کرنا چاہتے لہٰذا یہ خود خاموش رہیں گے لیکن مریم نواز اس وقت تک ان کی زبان بولتی رہیں گی جب تک یہ کلیئر نہیں ہو جاتا ادارے واقعی مفاہمت میں سیریس ہیں۔ میاں صاحب کا خیال ہے اگر میاں شہبازشریف کا مفاہمتی فارمولا کام یاب نہ ہوااور اسٹیبلشمنٹ نے براہ راست سب کو بٹھا کر دس بڑے فیصلے نہ کیے تو یہ اپنے چھوٹے بھائی کا استعفیٰ قبول کر لیں گے اور یہ انھیں شریف ٹرسٹ چلانے کی اجازت دے دیں گے اور پارٹی مریم نواز کے حوالے کر دیں گے۔ نواز شریف شہباز شریف کے مفاہمتی پلان کو صرف چھ ماہ دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *