عمران خان اپنے انجام کو رواں دواں ہے اور اسکا حشر بھی نواز شریف جیسا ہوگا کیونکہ ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔واقعہ یہ ہے کہ احمد رضا قصوری کے والد کو انہی کے ایما پر زندگی سے محروم کیا گیا۔ انجام اس کے سوا کیا ہوتا جو کہ ہوا۔ شریف برادران نے انہی کو نمونہ کیا۔ بے نظیر بھٹو، محترمہ نصرت بھٹو

اور بعد ازاں عمران خان کی کردار کشی کے لیے ایسی مہم برپا کی کہ باید و شاید۔ گوئبلز زندہ ہوتے تو شاید ان پہ رشک کرتے۔ شیخ رشید بڑھ چڑھ کر بے نظیر کے باب میں زبان درازی کرتے۔ نواز شریف ان کی پیٹھ ٹھونکا کرتے۔ انہی دنوں کا قرض اب وہ چکا رہے ہیں۔ایک دن کپتان بھی چکائے گا۔ تحریکِ انصاف کے دفاتر پہ ریڈ کیے جاتے، کارکنوں کو تنگ کیا جاتا۔ بینر اتا ر دیے جاتے۔ آج وہ دربدر ہیں۔ برطانیہ کے بازاروں میں عافیت سے سفر نہیں کر سکتے۔ ہر کہیں آوازے ان پر کسے جاتے ہیں۔ یہ ہے عمر بھر کی کمائی۔ عمران خان بھی اسی راستے پر ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے الزامات عائد کیے تو ایک برا سا نام رکھ دیا۔ آئے دن اسے دہراتے رہتے ہیں۔لگتا ہی نہیں کہ وزیرِ اعظم اظہارِ خیال کر رہا ہے۔ دشنام طرازی کے لیے اپنے کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی۔ دربار میں پذیرائی اور پشت پناہی۔ نتیجہ یہ کہ ہر طرف فساد برپا ہے۔ اتنی سی بات عالی جناب نہیں سمجھتے کہ ہنگامہ آرائی اپوزیشن کو سازگار ہوتی ہے، سرکار کو نہیں۔ کوئی جائے اور جا کر انہیں بتائے کہ بربادی کے سوا وحشت سے کبھی کسی کو کچھ حاصل نہ ہوا۔بدزبانی سے سیاستدان اپنی جڑیں کھود رہے ہیں۔ بگٹٹ تاریخ کے کوڑے دان کو روانہ ہیں۔ دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے ’’محبت‘‘ کے آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی

Sharing is caring!

Comments are closed.