عمران خان بھی ناکام ہو گیا تو ہمارا کیا بنے گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم کتنی حکومتیں آزما چکے ہیں؟ دو بڑی پارٹیاں اُن کے کارنامے بھرپور انداز سے بھگت چکے ہیں۔وسیع طبقات عمران خان اور ان کی جماعت کو مسیحا کا درجہ دے بیٹھے تھے۔ قوم کے بیوقوفوں کی ایک خاطر خواہ تعداد نے سمجھ رکھا تھا

کہ عمران خان آئیں گے اور پاکستان کی مریخ کی طرف اُڑان شروع ہو جائے گی۔ہم نے مسیحائوں کا حال بھی دیکھ لیا ہے‘ ان کے کارنامے بھی ہمارے سامنے ہیں۔ مان لیا کہ شریفوں اور زرداریوں نے لوٹ مار کی الف لیلوی داستانیں رقم کی تھیں‘ لیکن ان مسیحائوں سے کیا ہواہے؟یہ کہاں کھڑے ہیں؟ تو پھر سوال بنتا ہے کہ اصل مرض کیا ہے؟ پاکستان کے وجود کو کون سی بیماری لاحق ہے کہ جو آتا ہے یا چور نکلتا ہے یا پرلے درجے کا نہلہ۔افغانستان میں تو ہم نے ایک اشرف غنی کو دیکھا۔ تالبان کا ڈر نہ ہوتا تو کبھی نہ بھاگتا‘ اقتدار سے چمٹا رہتا۔ لیکن ہم اپنے قومی منظر پہ نظر دوڑائیں تو سبحان اللہ ہر طرف اشرف غنی ہی نظر آتے ہیں۔ کوئی تو اس ملک کو سنبھالادے۔ کوئی تو مرض کی تشخیص کر سکے۔ اپنے اپنے مفاد کے تحفظ میں ہم سب کتنے تیز ہیں۔ لیکن جسے قومی مفاد کہا جاتا ہے‘ صحیح معنوں میں اُس کا محافظ کہاں سے ڈھونڈ کے لایا جا ئے؟مانا کہ گزرے حکمرانوں کی بڑی وارداتیں تھیں لیکن تین سالہ تجربہ و مشاہدہ بتاتا ہے کہ یہ جو اب کرسیٔ ٔاقتدار پر براجمان ہیں‘ بڑے ہی پیدل ہیں۔پہلے بتاتے رہے کہ کمریں کسنی ہیں۔ روپے کی قدر میں اتنی کمی لے آئے کہ کیا اشیائے ضروریہ اور کیا اشیائے خاص‘ سب کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہو گئیں۔ دو تین وزرائے خزانہ بدلنے کے بعد قوم کو نوید سنائی گئی کہ راحت کا راستہ معاشی ترقی یا گروتھ میں ہے۔ زرعی ملک ہے تو

زراعت پر توجہ دینی چاہئے لیکن یہاں جو بھی آتا ہے نونیا ہو پپلیا یا انصافیا‘ سب کے سب بڑے سیٹھوں کو وٹامن کے ٹیکے لگانے میں لگ جاتے ہیں۔ زراعت کیلئے تسلیاں رہ جاتی ہیں اور پھر گندم‘ چینی‘ دالیں‘ پام آئل جیسی اشیائے خوردنی باہر سے منگوائی جاتی ہیں۔ہر حکومت کے کانوں میں بڑے سرمایہ کاروں کے نمائندے نصیحتیں پھونک رہے ہوتے ہیں۔ ایسی ترکیبات سے اگر پاکستان نے جنوبی کوریابنناتھا تو پھر تو کوئی بات تھی۔ لیکن ملک بیچارہ وہی غربت اور افلاس کا مارا‘ عوام وہی جو وعدوں پہ جینے کی مشقیں کرتے کرتے زندگیاں گزار دیتے ہیں۔ کیا حکمران پائے ہیں‘ کیا دانشور اور کیا سیاسی زعما۔ تختۂ مشق ملک کو بنایا ہوا ہے۔ اب تو اس حکومت کے پاس کسی نئے تجربے کا وقت نہیں رہا۔ موجودہ سال اپنے اختتام کی طرف تیزی سے جا رہاہے۔ نیا سال چڑھے گا تو الیکشن کا بھو ت سیاسی اُفق پہ نمودار ہونے لگے گا۔ مقدر جس کا بھی چمکے عوام کی حالت کیا بہتر ہوگی ؟مسئلہ یہاں حکمرانی کا ہے۔ ڈھنگ سے ہم سے یہ فریضہ پورا نہیں ہورہا۔ بہت سی چیزوں کی سمجھ وزیراعظم کو ہوگی لیکن یہ بھی عیاں ہے کہ بہت سی چیزوں کی سمجھ اُنہیں بالکل نہیں۔ ناسمجھی کی لسٹ میں معیشت سرفہرست ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ سربراہانِ مملکت معاشی ایکسپرٹ ہوں۔ بڑے بڑے حکمرانوں کو معاشی مسائل کی سمجھ نہیں ہوتی لیکن اُن کے اردگرد لوگ ہوتے ہیں جو اپنے شعبوں میں استاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ حکمرانوں کی نالائقیاں تو اپنی جگہ لیکن جو معاشی لوگ ہمیں ملے ہیں وہ بھی اپنے طور پہ کسی نمونے سے کم نہیں۔لہٰذا سوال ہے ہمارا بنے گا کیا؟

Comments are closed.