عمران خان نہ چاہے تو میں لیڈر کہلانے اور بننے والا کون ہوتا ہوں ؟

لاہور (ویب ڈیسک)نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی بات سمجھ میں آتی تھی کہ انہوں نے کمزور لوگوں کو اہم عہدوں پر لگایا کیونکہ ان کامقصداپنے بچوں کو قیادت منتقل کرنا تھا۔عمران خان کا تو یہ مسئلہ نہیں۔انہیں تو بہترین لوگوں کو عہدے دینے چاہیے تھے۔معلوم نہیں انہیں کس نے مشورہ دیا کہ

کمزور لوگوں کو لگائیں جو ہر بات کی ڈکٹیشن لیں۔ نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس بات کا عمران خان کی ذات کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘ فواد چودھری نے حکومتی پرفارمنس کے حوالے سے صاف اور غیر مبہم الفاظ میں کہا :’’حکومت دو چیزوں پر چلتی ہے، سیاست اور گورننس۔ان دونوں میں توازن نہ رہے تو معاملات ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔عمران خان کو اس بات کا احساس ہے، کابینہ کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس صرف چھ ماہ ہیںکام کرنے کو، اس کے بعد معاملات ہاتھ سے نکل کر کسی اور طرف چلے جائیں گے۔پارلیمانی طرز حکومت میں مشورے ماہرین سے لئے جاتے ہیں، مگر فیصلے سیاستدان کرتے ہیں۔ اگر وزیراعظم کے مشیر زیادہ ہوں گے،خصوصی معاون زیادہ ہوں گے، سیاسی لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہوں اور فیصلہ سازی میں شامل نہ ہوں تو پارلیمانی نظام پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ ‘‘ فواد چودھری کو عمران خان کی سیاسی قوت اور پارٹی میں اتھارٹی کا اندازہ ہے، اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:’’ہماری سیاسی جماعتوں کی کوئی تنظیم نہیں ہے،پی ٹی آئی سمیت یہاں سب لیڈروں کے ہوتے ہیں،یہ لیڈر کا کام ہے کہ وہ نئی قیادت فراہم کرے۔ اگر عمران خان آج مجھے نکال دیں تو میں فارغ ہوجائوں گا۔ اگر وہ فیصلہ کر لیں کہ انہوں نے کوئی لیڈر بننے ہی نہیں دینا توآپ نہیں بنا سکتے۔ پارٹی کا سیاسی سٹرکچر ہو یا پھر لیڈر کا دل بڑا ہو۔ فی الحال تو ایسے لگتا ہے کہ دونوں راستے بند ہیں۔ ‘‘

تحریک انصاف کے کارکن اورحامی فواد چودھری کے انٹرویو سے دو مثبت نکات بھی لے سکتے ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عالم اسلام کا لیڈر قرار دیا، اس کے لئے باقاعدہ دلائل دئیے ، کہتے ہیں:’’ ترکی کا لیڈر مغرب میں قابل قبول نہیں، عرب سربراہان کے اپنے تنازعات ہیں، ایران کے اپنے مسائل ہیں، جس واحد لیڈر میں مغرب اور عالم اسلام کو قریب لانے کی صلاحیت ہے، وہ عمران خان ہے۔اس جانب پیش رفت نہیں ہوسکی کیونکہ جب آپ کی اندرونی قیادت کمزور ہو تو بیرونی سیاست پر توجہ نہیں دے سکتے۔‘‘دوسرا انہوں نے عمران خان کی کامیابی کو بہت اہم قرار دیا، کہتے ہیں:’’ عمران خان کی ناکامی ایک فرد کی ناکامی نہیں ، وہ پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مدارالمہام ہیں، یہ عوامی خواہشات کی ناکامی ہوگی، یہ ناکامی کوئی برداشت نہیں کر سکتا،اگر فوج اور تمام ادارے عمران خان کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کے پاس اور سیاسی آپشن نہیں۔ ‘‘ فواد چودھری کے انٹرویو کوایک وفاقی وزیر کی بغاوت کے طور پر دیکھا جائے گا یا پھر عمران خان اس تنقید سے کچھ سبق سیکھتے ہیں، ا س کا اندازہ بہت جلد ہوجائے گا۔ اس میں بہرحال کوئی شک نہیں کہ عمران خان ناکام ہو رہے ہیں، اصل سوال صرف یہ ہے کہ وہ ناکام ہوجائیں گے یا پھر گرتے گرتے سنبھل کر کچھ ڈیلیور کر جائیں گے؟بظاہر توتاریک رخ سامنے ہے۔ عمران خان نہ صرف ناکام بلکہ بری طرح ناکام ہونے جا رہے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوسکے تو مجھے خوشی ہوگی۔ افسوس کہ تاریخ کا پہیہ کسی کو خوش کرنے کے لئے نہیں رکتا اور اپنی مخصوص بے رحم، سفاک رفتار سے چلتا رہتا ہے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.