عمران خان پوری دنیا کا سٹار : مگر کچھ چیزوں میں وہ کبھی نواز شریف کے برابر نہیں آسکتا ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ اگر موجودہ سیاسی حالات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو دو شخصیات اور مضبوط ترین ادارے کا تجزیہ کرنا ہو گا‘ پہلی شخصیت عمران خان ہیں‘ عمران خان کے تین پہلو ہیں‘ یہ فاسٹ بائولر ہیں۔

عمران خان نے 20سال صرف بائولنگ کرائی اور بائولنگ بھی تیز ترین چناں چہ یہ فاسٹ بائولنگ ان کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہے‘ یہ جب بھی کسی شخص کو کریز پر دیکھتے ہیں‘ ان کے اندر کا فاسٹ بائولر جاگ جاتا ہے اور ان کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے کریز پر کھڑے شخص کو آئوٹ کرنا اور یہ پھر دشمن کو کریز پر نہیں رہنے دیتے‘ دوسرا پہلو‘ عمران خان ’’گیو اپ‘‘ نہیں کرتے‘ یہ شخص پوری زندگی پیچھے نہیں ہٹا۔لوگوں نے کہا ’’تم کرکٹ نہیں کھیل سکتے‘تم اچھے کپتان نہیں بن سکتے‘پاکستان ورلڈ کپ نہیں جیت سکتا‘ملک میں مثالی اسپتال نہیں بن سکتا‘ ملک میں انٹرنیشنل یونیورسٹی نہیں بن سکتی‘تم سیاسی جماعت نہیں بنا سکتے اور وزیراعظم نہیں بن سکتے‘‘ لیکن یہ شخص کرکٹر بھی بنا‘ کپتان بھی‘ اسپتال بھی بنایا اور یونیورسٹی بھی اور یہ دنیا میں پہلا کرکٹر وزیراعظم بھی بنا لہٰذا ہمیں ان کی مستقل مزاجی اور گیو اپ نہ کرنے کی لامتناہی صلاحیت کو تسلیم کرنا ہوگا اور ان کی شخصیت کا تیسرا پہلو اسٹارڈم ہے۔یہ شخص پچاس سال ورلڈ اسٹار رہا‘ دنیا کا کون سا حصہ ہے جس میں اس کے عاشق اور معشوقائیں نہیں ہیں‘ یہ دنیا کی مشہور ترین اداکارائوں اور شہزادیوں کے ساتھ واکس اور ڈنر کرتے رہے‘ دنیا بھر کے ٹیلی ویژن چینلز اور صحافیوں نے ان کے انٹرویوز کیے اور پوری زندگی اپنی مرضی کی شادیاں بھی کیں لیکن یہ اسٹار ڈم آج بدقسمتی سے انھیں ’’اسٹیٹس مین‘‘ نہیں بننے دے رہا‘ عمران خان پوری زندگی بولتے رہے ہیں

اور دنیا ان کو سنتی رہی چناں چہ آج ان میں دوسروں کو سننے کی اہلیت کم ہو گئی ہے جب کہ اسٹیٹس مین شپ میں آپ نے دوسروں کو سننا ہوتا ہے۔ملک چلانا ایک مشکل اور حساس کام ہے اور آپ خواہ بقراط یا چنگیز خان ہی کیوں نہ ہوں آپ کو یہ کام سیکھنا پڑتا ہے‘ طاقت ایٹم بم کی طرح ہوتی ہے‘ آپ نے اسے ’’لمٹ‘‘ میں رکھنا ہوتا ہے‘ آپ اگر ایٹم بم ہی استعمال کر دیں گے تو پھر دوسروں کے ساتھ ساتھ آپ بھی چلے جائیں گے لہٰذا آپ جب تک طاقت کا استعمال نہ سیکھ لیں‘ آپ کو جب تک اپنی ہاں اور ناں کے نتیجے کا علم نہ ہو جائے آپ اس وقت تک اسٹیٹس مین نہیں بنتے اور عمران خان کا اسٹارڈم انھیں فن ریاست نہیں سیکھنے دے رہا لہٰذا آپ یاد رکھیں یہ فاسٹ بائولر ہیں‘ یہ اپنے کسی مخالف کو نہیں چھوڑیں گے۔یہ گیواپ بھی نہیں کریں گے اور یہ جب تک اسٹارڈم سے باہر نہیں نکلیں گے‘ یہ حکومت کاری نہیں سیکھ سکیں گے اور یہ جب تک سیکھیں گے نہیں یہ اس وقت تک غلط فیصلے کرتے چلے جائیں گے اور ان فیصلوں کا نتیجہ پورا ملک بھگتے گا اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں یہ چیمپیئن کپتان ہیں اور چیمپیئن کپتان صرف ایک ہی ہوتا ہے لہٰذا عمران خان کے ساتھ کام کرنے والے تمام لوگوں کو جلد یا بدیر جہانگیر ترین بننا پڑے گا‘ یہ جب بھی ٹیک آف کریں گے یہ کسی دوسرے کو اس کا کریڈٹ نہیں لینے دیں گے۔

ہم اب میاں نواز شریف کی طرف آتے ہیں‘ میاں نواز شریف میں تین حیران کن خوبیاں اور تین خوف ناک خامیاں ہیں‘ ہم پہلے خوبیوں کی بات کرتے ہیں‘ یہ پروڈویلپمنٹ ہیں‘ پاکستان کی تاریخ میں تمام بڑے منصوبے ایوب خان کے دور میں شروع ہوئے یا پھر میاں نواز شریف کے زمانے میں اسٹارٹ ہوئے‘ آپ موٹروے سے لے کر سی پیک تک تمام بڑی فائلیں کھول لیں‘ آپ کو اس میں نواز شریف ملیں گے‘ آپ آج بھی نواز شریف کو لے آئیں آپ کو دو ماہ میں ڈوبتی معیشت تیرتی نظر آئے گی‘ دوسرا میاں نواز شریف میں سیکھنے کی اہلیت ہے۔آپ 1985 کا نواز شریف دیکھ لیں اور 2018ء کا نواز شریف دیکھ لیں‘ یہ اسٹیٹ کرافٹ میں زیرو تھے لیکن انھوں نے حکومت کاری بھی سیکھی اور بڑے بڑے مہروں کو مات بھی دی اور تیسری خوبی یہ اللہ تعالیٰ سے کوئی خصوصی مقدر لے کر آئے ہیں‘ آپ کو پوری دنیا میں نواز شریف جتنا خوش نصیب سیاست دان نہیں ملے گا‘ 1985 میں سیاست میں آنا اور پھر خوف ناک مخالفتوں کے باوجود تین بار وزیراعظم بن جانا اور پھر قید سے نکل کر جہازوں پر بیٹھ کر ملک سے باہر چلے جانا اور پھر واپس آنا اور آتے ہی پروٹوکول کے ساتھ ایوان اقتدار میں پہنچ جانا‘ قدرت یہ خوش نصیبی بہت کم لوگوں کو عطا کرتی ہے۔اللہ کو شاید ان کی سادگی‘ عاجزی اور شائستگی پسند ہے‘ ان تینوں خوبیوں کے ساتھ ان میں تین خامیاں بھی ہیں اور یہ جب تک ان خامیوں کو ’’اپنڈیکس‘‘ کی طرح کاٹ کر باہر نہیں پھینکتے یہ اس وقت تک اسی طرح سیاسی گرداب میں پھنسے رہیں گے‘ ان کی پہلی خامی خاندان ہے‘ یہ اقتدار کو اپنے خاندان تک رکھنا چاہتے ہیں‘ یہ آج بھی اپنے خاندان کے لیے ’’بارگین‘‘ کر رہے ہیں‘ اس خامی نے پارٹی میں چودہ لیڈر اور چودہ ہی بیانیے پیدا کر دیے ہیں اور پارٹی کو سمجھ نہیں آ رہی اس نے کس کی پیروی کرنی ہے اور شریف خاندان کے کس فرد کے ساتھ تعلقات استوار کرنے ہیں‘ یہ بے چارے میاں نواز شریف سے لے کر جنید صفدر تک سب کو خوش رکھ رکھ کر تھک گئے ہیں۔

Comments are closed.