عمران خان کا احتساب کون کرے گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا فضل الرحمن کو احتساب کے لیے بلایا گیا تو انہوں نے بھائی لوگوں کے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے دھرنے کی وارننگ دے دی‘ احتساب ٹھس ہو گیا۔انویسٹی گیشن والے کہتے ہیں‘ سر آپ شریف لوگ کہاں دفاتر میں دھکے کھائیں گے‘

ہم آپ کو سوالنامہ بھجوا دیتے ہیں۔ مرضی سے جب وقت ملے تو بھر کر بھجوا دیجیے گا۔ اب اس سے زیادہ تعاون ایف آئی اے کیا کرے؟ کیا یہ رعایت کسی عام پاکستانی کو مل سکتی ہے یا کبھی دی گئی ہے؟ عام آدمی ان کے ہتھے چڑھ جائے تو حشر نشر ہو جاتا ہے اور یہاں شریفوں کے منت سماجت ہو رہے کہ سر جی چند سوالات کا جواب دے دیں اور سر جی اس کو بھی گستاخی سمجھتے ہیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کو وارننگ دی جاتی ہے کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ اندازہ کریں ڈائریکٹر صاحب کو یہ وارننگ میرے گائوں کے چچا خدابخش قصائی نے اسی لہجے میں دی ہوتی تو اس کا کیا حشر ہونا تھا؟ افسران سیانے ہیں کہ منہ دیکھ کر ہاتھ جوڑتے اور پائوں پکڑتے ہیں اور منہ دیکھ کر تھپڑرسید کرتے ہیں۔ اب شہباز شریف نے ایف آئی اے کو آگے لگایا ہوا ہےاور اس ادارے کے افراد اور شہزاد اکبر ٹی وی پر بیٹھے وضاحتیں دے رہے ہیں کہ شہباز شریف کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی گئی۔ کبھی آپ نے ان کو کسی عام پاکستانی کے لیے ایسا معذرت خواہانہ لہجے میں وضاحت دیتے دیکھا یا سنا ہو یا یہ کہتے سنا ہوکہ سوالنامہ گھر بھیج دیں گے آپ دفتر نہ آئو؟ہوسکتا ہے میرے بہت سے پڑھنے والے کہیں کہ یک طرفہ احتساب ہو رہا ہے۔ حکومت کے درجن بھر سکینڈلز آئے تو کسی وزیر پر ہاتھ نہیں ڈالا‘ مگر نواز لیگ کی پوری کابینہ قید خانے میں ڈال دی۔ یاد آیا یہی نواز شریف 1997ء میں دوسری دفعہ وزیر اعظم بنے تو انہوں نے زرداری اور بینظیر بھٹو کا اسی طرح احتساب شروع کیا جیسے آج کل ان کا اپنا ہو رہا ہے تو رولا پڑ گیا کہ یک طرفہ کیوں‘ سب کا احتساب کرو۔ اس پر معروف کالم نگار اردشیر کائوس جی نے لکھا تھا کہ رولا نہ ڈالیں‘ نواز شریف کو زرداری اور بینظیر بھٹو کا یک طرفہ احتساب کرنے دیں‘ شریفوں کا احتساب کوئی اور حکمران آ کر کرے گا۔ وہی ہوا شریفوں کا احتساب جنرل مشرف نے کیا‘ لہٰذا تحریک انصاف کے درجن بھر سکینڈلز میں ملوث جن وزیروں خلاف کارروائی نہیں ہو رہی یا نیب اور ایف آئی اے ان کا احتساب نہیں کر رہے تو پریشان نہ ہوں‘ تحریک انصاف کو شریفوں کا احتساب کرنے دیں‘ موجودہ حکومت اور ان کے لاڈلوں کا احتساب کوئی اور کرے گا۔ پاکستانی تاریخ تو کم از کم یہی کہتی ہے۔