عمران خان کا ٹائیگر اور پاکستان کا معروف ڈاکٹر بھی کہنے پر مجبور ہو گیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میاں نواز شریف بیک وقت خوش قسمتی اور بدقسمتی ساتھ لے کر پیدا ہوئے‘ تین بار وزیراعظم بنے‘ دو بار دو تہائی اکثریت لی‘ ایوب خان کے بعد تمام بڑے منصوبے ان کے دور میں مکمل ہوئے

اور ایٹمی ہتھیار سے سی پیک تک پاکستان کی زیادہ تر اچیومنٹس کے پیچھے نواز شریف ہیں لیکن آپ ان کی بدقسمتی بھی ملاحظہ کیجیے۔ان کی زندگی میں تین ہی مقام ہیں‘ وزارت عظمیٰ ‘ عدالتیں اور جلاوطنی‘ یہ وزیراعظم ہائوس آتے ہیں‘نکالے جاتے ہیں‘ قید اور عدالتیں بھگتتے ہیں اور باہر بھجوا دیے جاتے ہیں‘ یہ 37 برسوں سے لائم لائیٹ میں ہیں اور 37 برسوں ہی سے سلگتی اور تڑپتی ہوئی دھواں دھار زندگی گزار رہے ہیں‘ ان 37 برسوں میں میاں نواز شریف کی واحد ذاتی اچیومنٹ ’’ووٹ بینک‘‘ ہے۔ہمیں یہ ماننا ہو گا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کا ووٹ بینک سالڈ سے سالڈ ہوا اور اگر آج بھی آزاد اور شفاف الیکشن کرا دیا جائے تو یہ ریکارڈ ووٹ لے جائیں گے‘ اللہ تعالیٰ کو نہ جانے اس شخص کی کون سی ادا پسند ہے کہ یہ اپنی مرضی کا مقدر لکھوا کر دنیا میں آ گیا اور اللہ تعالیٰ کو نہ جانے ان کی کون سی عادت بری لگتی ہے کہ یہ ہر بار ’’گریک ٹریجڈی‘‘ کا شکار ہو کر خاندان سمیت سڑکوں‘ عدالتوں اورقید میں رل جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو ویسے تو کسی عنایت کے لیے کوئی جواز نہیں چاہیے ہوتا مگر میں اس کے باوجود محسوس کرتا ہوں نواز شریف کی دو خوبیاں شاید اللہ تعالیٰ کو پسند ہوں گی‘ یہ دوسروں کو عزت دیتے ہیں‘ یہ قید میں تھے‘ یہ بیمار ہوئے‘ حکومت نے میڈیکل بورڈ بنادیا‘ بورڈ میں میرا ایک جاننے والا ڈاکٹر بھی شامل تھا‘ یہ پی ٹی آئی اور عمران خان کا ٹائیگر تھا

اور یہ شریف برادران سے نفرت کرتا تھا‘ یہ تین بار قید میں میاں نواز شریف سے ملا اور ان کا دیوانہ ہو گیا‘ اس نے مجھے بتایا۔ نواز شریف کے کمرے میں ایک چارپائی اور پلاسٹک کی ایک کرسی تھی‘ میں جب بھی معائنے کے لیے گیا‘ اس شخص نے کھڑے ہو کر میرا استقبال کیا اور قید خانے کا عملہ جب تک میرے لیے کرسی کا بندوبست نہیں کرتا تھا یہ بیمار ہونے کے باوجود کھڑے رہتے تھے‘ ڈی ہائیڈریشن ان کے چہرے اور ہونٹوں سے نظر آتی تھی لیکن انھوں نے کبھی شکایت نہیں کی‘ یہ ہر بار کہتے تھے میں اللہ کے فضل وکرم سے بالکل ٹھیک ہوں اور معائنے کے بعد یہ مجھے دروازے تک چھوڑکر آتے تھے‘ گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے تھے اور کہتے تھے میرے لیے دعا کیجیے گا۔ مجھے آج تک سیاست دان تو دور کسی بیوروکریٹ نے بھی یہ عزت نہیں دی ‘ڈاکٹر کی بات درست تھی‘ نواز شریف اپنے ملازمین کو بھی صاحب کہہ کر بلاتے ہیں۔ دوسرا واقعہ سپرنٹنڈنٹ قید خانہ کا تھا‘ 11 ستمبر 2018 بیگم کلثوم نواز کا آخری دن تھا‘ میاں نواز شریف کی پیشی تھی‘ یہ واپسی پر بہت متفکر تھے‘ انھوں نے اس دن پہلی بار قید خانے کے حکام سے کہا’’سپرنٹنڈنٹ صاحب میری بیوی علیل ہیں‘ میں صرف خیریت معلوم کرنا چاہتا ہوں‘ آپ مجھے چند منٹوں کے لیے فون کرنے کی اجازت دے دیں۔ سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ’’ میرے اوپر اس وقت شدید دبائو تھا‘ میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ’’سر آپ کا فون کا کوٹہ ختم ہو چکا ہے‘‘ یہ بولے‘ آپ مجھے اپنا موبائل دے دیں‘ میں آپ کے سامنے فون کر کے صرف خیریت معلوم کروں گا‘ یہ آپ کا میرے اوپر بہت بڑا احسان ہو گا‘ میں نے یہ کہہ کر پھر معذرت کر لی سر میرا فون سرکاری ہے‘ میں یہ کسی ملزم کو نہیں دے سکتا‘ یہ خاموش ہو گئے‘ سہ پہرکو اچانک بیگم صاحبہ کے انتقال کی خبر آ گئی‘ میرے ہاتھ پائوں پھول گئے‘ میں گھبرایا ہوا ان کے سیل میں گیا اور انھیں یہ بری خبر سنائی‘ یہ سر جھکا کر ورد کرنے لگے اور پھر پوچھا کیا مریم کو اطلاع ہو چکی ہے‘ میں نے انکار میں سر ہلا دیا۔ یہ بولے‘ وہ اکیلی ہیں‘ آپ اگر اجازت دیں تو یہ اطلاع میں انھیں خود دے دوں تاکہ میں انھیں تسلی بھی دے سکوں‘ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ یہ میرے ساتھ مریم نواز کے سیل میں گئے‘ انھیں اطلاع دی اور ان کے بولنے‘ چیخنے یا دہائی دینے سے پہلے کہا ’’لیکن بیٹا کسی کو بددعا نہیں دینی‘ یہ بس ہمارا نصیب تھا‘‘ یہ فقرہ سیدھا میرے دل میں لگ گیا ‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *