عمران خان کا چہیتا شاہ فرمان پی ٹی آئی کا سفینہ لے ڈوبا :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے فیز میں حکمران جماعت تحریک انصاف کو بری شکست کا سامنا کرنا پڑا ، کئی اہم اضلاع سے ان کا تقریباً صفایا ہوگیا، کئی تحصیلوں میں تو پی ٹی آئی امیدوار تیسرے نمبر پر رہے۔

اس شکست کے کئی اسباب ہیں، جن پر بات کرتے ہیں۔ اس پہلے فیز میں جمعیت علما اسلام فضل الرحمن (جے یوآئی ف)بڑی قوت بن کر ابھری، اس نے سب سے زیادہ تحصیلیوں میںکامیابی حاصل کی ۔ اس کی بھی دو بڑی وجوہات ہیں ۔ اے این پی صوبے کی تیسری قوت بن کر سامنے آئی، اے این پی نے اپنے مضبوط حلقوں میں کامیابیاں حاصل کیں جبکہ چند حلقوں میں موجودگی کا بھرپو ر احساس دلایا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو مایوس کن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلزپارٹی کو ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک تحصیل میں کامیابی ملی، وہ بھی خوش قسمتی سمجھی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن نے ہری پور کی دو تحصیلوں سے کامیابی بٹوری جبکہ انہیں ایک غیر متوقع کامیابی صوابی کی ایک تحصیل سے ملی۔ جماعت اسلامی کو ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک تحصیل اور لکی مروت سے ایک نشست ملی۔ ان نتائج کی بنیاد پر پورے صوبے کے حوالے سے حتمی رائے دینے سے پہلے یہ ذہن میں رہے کہ صوبے کے پینتیس اضلاع میں سے سترہ میں الیکشن ہوئے جبکہ اٹھارہ اضلاع میں الیکشن اگلے ماہ اٹھارہ تاریخ کو ہوں گے۔ ہر صوبے کی طرح کے پی میں مختلف جماعتوں کی بعض پاور پاکٹس یا روایتی مضبوط حلقے ہوتے ہیں، اس پہلے فیز کے نتائج میںاس فیکٹر کے بھی خاصے اثرات ہیں۔ جیسے جے یوآئی صوبے کے جنوبی اضلاع (ڈی آئی خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں وغیرہ )میں ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے، یہاں سے وہ ہر الیکشن میں نشستیں نکالتی رہی اور پچھلے بلدیاتی انتخابات میں بھی یہاں ان کی مضبوط پوزیشن رہی۔

اس بار بھی جے یوآئی نے جنوبی اضلاع سے اچھی کامیابی حاصل کی۔ ٹانک کی دونوں نشستیں جیتیں، ڈیرہ سے ایک اہم سیٹ ملی، ایک پر الیکشن نہیں ہوا، امکان ہے کہ وہ بھی جیت لی جائے گی،بنوں سے دو سیٹیں ملیں،ایک کوہاٹ سے مل گئی۔البتہ جے یوآئی نے پشاور میں اس بار کمال کر دکھایا۔ وہاں سے ان کی کامیابی حیران کن ہے، پشاور کی سات تحصیلوں میں سے پانچ جے یوآئی نے جیت لیں۔اسی طرح چارسدہ میں سے انہیںدو نشستیں مل گئیں، مردان سے جے یوآئی نے پانچ میں سے تین تحصیلیں جیت لیں۔ ان اضلاع میں جے یوآئی ف نے اپنا اثر رسوخ بڑھایا ہے۔ اگلے فیز میں ہزارہ ڈویژن کے اہم اضلاع شامل ہیں جہاں ن لیگ کا اثر ہے، اسی طرح مالاکنڈ کی نشستوں میں پیپلز پارٹی ایک یا دو سیٹیں لے سکتی ہے، دیر سے جماعت اسلامی کو حصہ مل سکتا ہے۔ اس لئے ضروری نہیں کہ دوسرے فیز کے نتائج پہلے فیز کی طرح ہوں، وہاں مختلف تصویر بھی آ سکتی ہے۔جے یوآئی کو البتہ نفسیاتی برتری ملی ہے۔ اخبارات اور چینلز میں تحصیل چیئرمین اور میئر کے الیکشن کی خبریں ایسی چلتی رہیں جیسے میئر کوئی سپر ڈوپر قسم کا اعزاز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تریسٹھ تحصیلوں میں معرکہ ہوا۔ ان میں سے چند ایک بڑے شہروں کی سٹی تحصیل چیئرمین کو میئر کا نام دیا گیا ۔ یعنی میئر بھی تحصیل چیئرمین ہی ہے، فرق اتنا کہ وہ سٹی تحصیل ہے۔ ان الیکشن میں پی ٹی آئی کی شکست زیادہ بری ہوتی ، اگر صوبے کے ایک دور افتادہ ضلع بونیر سے انہیں غیر متوقع طور پر بھرپور کامیابی نہ مل جاتی۔

بونیر کی پانچ میں سے چار تحصیلیں پی ٹی آئی نے جیتی ہیں، یعنی اس نے سترہ اضلاع میں مجموعی طور پر چودہ نشستیں جیتیں جن میں چار صرف ایک ضلع بونیر کی ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ کہ وہاں مجموعی طور پر جے یوآئی کے لئے بیزاری کے جذبات موجود ہیں۔ پی ٹی آئی کی شکست کی تین چار وجوہات میں سے ایک قومی اور صوبائی سطح پرنہایت بری کارکردگی ہے۔ پی ٹی آئی سے جو امیدیں اس کے ووٹروں اور حامیوں نے لگائی تھیں،وہ پوری نہیں ہو پائیں۔ مہنگائی کی خوفناک لہر کا پی ٹی آئی کے امیدواروں کو بہت نقصان ہوا۔ دوسرا بڑا فیکٹر تحریک انصاف کے بدنام اورغیر مقبول وزرا ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کے بہت سے وزیر اپنے غیر ذمہ دارانہ بیانات، عوام سے دوری، کارکنوں کے دل جیتنے میں ناکامی کی وجہ سے پارٹی پر بوجھ بن چکے ہیں۔ ان میں سرفہرست علی امین گنڈا پور ہیں۔ ڈی آئی خان میں تحریک انصاف کے بہت برے نتائج کی ذمہ داری علی امین گنڈا پور پر عائد ہوتی ہے۔ وہ ڈیرہ شہر میں غیر مقبول ہیں، پارٹی کارکن انہیں شدید ناپسند کرتے ہیں، انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے لئے اپنی پسند کے مگر غیر مقبول اور ناموزوں امیدواروں کو ٹکٹیں دلوائیں بلکہ ڈیرہ کے قریبی اضلاع ٹانک، لکی مروت وغیرہ میں بھی مداخلت کی۔ علی امین گنڈا پور کے امیدوار بری طرح ہارے۔ ڈی آئی خان کی پانچ میں سے صرف ایک تحصیل کلاچی سے پی ٹی آئی جیت پائی، وہ بھی اس لئے کہ جیتنے والے

آریز گنڈا پور کی علی امین گنڈا پور سے سخت مخالفت اور دشمنی ہے۔ آریز گنڈا پور کو علی امین کی مخالفت میں بھی ووٹ پڑے۔ پی ٹی آئی کے دیگر اہم وزرا کا بھی رویہ اور کردار یہی رہا۔مردان میں بدترین شکست ہوئی، پانچ میں سے ایک تحصیل بھی نہ جیتی جا سکی۔ وجہ یہ تھی کہ صوبائی وزرا عاطف خان اور شہرام تراکئی نے غلط امیدواروں کو ٹکٹیں دلوائیں، جنہیں پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے بری طرح مسترد کر دیا۔پشاور پی ٹی آئی کا گڑھ سمجھاجانے لگا تھا، عام انتخابات میں انہوں نے پشاور سے سوئپ کیا۔ اس بار پشاور سے بہت برے نتائج آئے، اس میں بھی گورنر شاہ فرمان کے کہنے پر دی گئی غلط ٹکٹیں ہیں۔ پشاور مئیر کی اہم ترین نشست کے لئے پی ٹی آئی کے مقبول اور پرانے امیدواروں کو نظرانداز کر کے ایک ایسے شخص کو ٹکٹ دی گئی جو صرف مہینہ پہلے عرب امارات سے آیا تھا، نتیجے میں وہ بری طرح ہار گیا اور جے یوآئی نے میئر کی سیٹ جیت لی۔ پشاور کی ایک دورافتادہ تحصیل سے تحریک انصاف کو بمشکل سیٹ مل پائی۔ وفاقی وزیر علی محمد خان بھی اپنے حلقوں میں ناکام رہے۔ پی ٹی آئی نے کئی اچھے امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دیئے ، ان میں سے بعض آزاد جیت گئے جبکہ چند ایک نے الگ الیکشن لڑ کر پی ٹی آئی امیدواروں کی شکست کا ساماں پیدا کیا۔ایک فیکٹر پی ٹی آئی کے پاس مقامی سطح پر تنظیم کا نہ ہونا ہے۔ کسی یونین کونسل سے امیدوار ہارا

تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے؟ مقامی سطح پر تنظیم اور عہدے دار(صدر، سیکرٹری وغیرہ)ہیں ہی نہیں۔ پرویز خٹک نے البتہ اچھے نتائج دئیے اور نوشہرہ سے ان کا بیٹا تحصیل چیئرمین بنا ، وہاں پر ان کا بھتیجا مخالف تھا اور اپوزیشن جماعتیں اسے سپورٹ کر رہی تھیں۔ اسی طرح اسد قیصر نے بھی اپنے عزیز کو ٹکٹ دلوایا اور ایک تحصیل جیتنے میں کامیاب رہے۔پشاور کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ممتاز بنگش سے تفصیلی ڈسکشن ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ اگر پرویز خٹک وزیراعلیٰ ہوتے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ پی ٹی آئی الیکشن ہارتی ، عین ممکن تھا کہ دو تہائی نشستیں جیت لی جاتیں۔پشاور کے صحافتی اور سیاسی حلقے متفق ہیں کہ بدقسمتی سے عمران خان نے ایک کمزور اور نہایت سست، غیر متحرک شخص کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنا رکھا ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ تین سال سے وہ وزیراعلیٰ ہیں اور ابھی تک اپنے صوبے کے تمام اضلاع کا دورہ تک نہیں کر پائے۔ ایسے کمزور اور کئی کئی دنوں تک غائب ہوجانے والے کپتان کی ٹیم کا یہی حال ہونا تھا جو ہوا ہے۔ جے یوآئی کی کامیابی کی وجوہات میں سے ایک ووٹرز کے پاس آپشن نہ ہونا ہے ۔ صوبے میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی نہ ہونے کے برابر ہیں، اے این پی اپنی مخصوص پاکٹس میں متحرک ہو رہی ہے۔ زیادہ ترحلقوں میں تحریک انصاف سے بیزار یا متنفر ووٹرز کے پاس مولانا فضل الرحمن کی جماعت ہی واحد قابل عمل آپشن تھی۔ اینٹی پی ٹی آئی ووٹ اس بار تقریباً تمام جگہوں پر مولانا کی جماعت کو گیا۔ دوسرا فیکٹر ان کا مسلسل سیاسی طور پر سرگرم رہنا ہے۔ پچھلے دو برسوں میں مولانا نے سب سے زیادہ جلسے اور مقامی سطح پر سیاسی سرگرمی کی ہے۔لانگ مارچ اور احتجاجی سیاست کے نتیجے میں وہ اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ایک سازشی تھیوری جس کا اظہار بعض صحافی کرتے ہیں،وہ یہ کہ جے یوآئی کو چند ایک حلقوں سے غیر متوقع طور پر کامیاب کرایا گیا، جیسے میئر پشاور کی جیت ان کا حق بنتا تھا، مگر پشاورکی تین تحصیلوں سے کامیابی ناقابل فہم ہے، اسی طرح باجوڑ سے جے یوآئی کا جیتنا بھی حیران کن ہے ، اپر مہمند سے ان کی جیت بھی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ یہاں جے یوآئی بہت کمزور پوزیشن میں ہے۔ سازشی تھیوری کے مطابق نادیدہ قوتوں نے کہیں کہیں پرمولانا کو سپورٹ کیا۔ خیر یہ تو ایک رائے ہے، جس سے ہمارا یا آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ الیکشن نتائج تحریک انصاف کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ یہی حالات رہے تو دوسرے فیز میں بھی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی نہ کسی بہانے دوسرے فیز کو ملتوی کرانے کی کوشش کرے گی۔