عمران خان کی اداروں پر چڑھائی اور سنگین الزامات :پس پردہ مقاصد کیا ہیں ؟ ایک خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور سیاستدان شرجیل انعام میمن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اب تو يہ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان بیرونی طاقتوں کا تیسری دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے سب سے مہنگا ’’پولٹیکل پروجیکٹ‘‘ ہے ، جس پر اربوں ڈالرز خرچ کیے گئے ۔اب یہ راز بھی افشا ہو چکا ہے

کہ عمران خان دنیا کے ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں ، جو بہت بڑے بجٹ کے ساتھ بہت بڑی سوشل میڈیا مہم چلاتے ہیں اور صبح اٹھ کر اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو ہدایت دیتے ہیں کہ آج کون سا ’’ٹرینڈ‘‘ بنانا ہے ۔ سوشل میڈیا پر چلایا جانے والا مواد بھی عمران خان ، بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی کے کچھ اور لوگ دیتے ہیں ۔ اس بات میں ذرہ بھی شک نہیں رہا کہ اداروں کے خلاف عمران خان ، ان کے ساتھیوں اور پروپیگنڈا مشینری کی طرف سے جو بھی بات کی جاتی ہے ، شعوری منصوبہ بندی اور منظم مہم کا حصہ ہے ۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں ، جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ چھوٹے لوگ جارحانہ اور جھوٹے پروپیگنڈا کے ذریعہ کیسے اپنے آپ کو بڑا بنا لیتے ہیں ۔ روس کے راسپوتین گریگوری سے لے کر عہد حاضر کے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تک کئی لوگوں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں ، جو ظالمانہ پروپیگنڈا کی پیدوار ہیں ۔ عمران خان بھی انہی میں سے ایک ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور مودی نے بھی اپنے آپ کو ’’ہیرو ‘‘ بنانے اور اقتدار کے حصول کے لیے ہر حربہ استعمال کیا ۔ انہوں نے بھی اپنی پروپیگنڈا مہم کے ذریعہ نفرت کو ہوا دی اور لوگوں کے جذبات سے کھیلا ۔ انہوں نے بھی اپنی پروپیگنڈا مہم کے ذریعہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کو تاراج کیا ۔ لیکن ان کی مہم کا مقصد اپنی ذات کے لیے طاقت حاصل کرنا تھا ۔ انہوں نے کبھی ملکی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا ۔ عمران خان کی پروپیگنڈا مہم کا مقصد اور ہدف اس سے کہیں زیادہ ہے۔عمران خان کی اداروں کے خلاف شعوری اور منظم مہم کے خطرناک مقاصد فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے بعد مکمل طور پر عیاں ہو چکے ہیں ۔ فارن فنڈنگ کے بارے میں ہوش ربا انکشافات سامنے آ رہے ہیں ۔ فنڈ جمع کرنے والوں کے ڈانڈے امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں سے مل رہے ہیں ۔ انڈیا کے ٹی وی اینکرز اس بات پر تو خوش ہو رہے ہیں کہ عمران خان نے پاک فوج اور دیگر اداروں کے خلاف جو کام کیا ہے ، وہ انڈیا اربوں روپے خرچ کرکے بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ ان انڈین ٹی وی اینکرز کو پتہ ہونا چاہیے کہ انڈیا اور دیگر ملکوں کے بااثر لوگوں نے عمران خان پر اربوں روپے نہیں اربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں ۔ جو لوگ خرچ کر رہے ہیں ، وہ بھی یقیناً کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہوں گے ۔ بس عمران خان کی ریاستی اور سیاسی اداروں کے خلاف مہم کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور ابھی سے اس کا تدارک کیا جانا چاہیے ۔