عمران خان کے حکومت سے نکل کر اور خطرناک ہو جانے کے بیان پر سینئر صحافی کا جاندار تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وزیراعظم عمران خان نے ”آپ کا وزیر اعظم“ پروگرام میں کہا تو بہت کچھ ہے تاہم ان کی جس بات نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے وہ ”حکومت سے نکلا تو زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا“ والے جملے پر مشتمل ہے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس جملے کے تناظر میں چہ میگوئیاں جاری ہیں۔ اس جملے کے مخاطب کو تلاش کیا جا رہا ہے اور اس کے پس پردہ معانی تلاش کئے جا رہے ہیں، حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کو یہ پیغام دے رہے ہیں اگر وہ سڑکوں پر آئے تو اپوزیشن کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ مگر یار لوگ کہاں اسے مانتے ہیں، حکومت سے نکل کر تو بندہ اپوزیشن میں ہی آتا ہے۔ اپوزیشن میں آ کر اپوزیشن کے خلاف خطرناک کیسے ہو سکتا ہے ہاں اگر وہ یہ کہتے کہ مجھے نکال کر اگر آج کی اپوزیشن اقتدار میں آ گئی تو وہ اس کے لئے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے تو بات سمجھ میں آتی یہاں تو معاملہ ایسا نہیں، کیا وزیر اعظم یہ کہنا چاہتے تھے کہ اپوزیشن اگر عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے انہیں حکومت سے نکالتی ہے تو وہ زیادہ خطرناک ہو جائیں گے یا پھر ان کا روئے سخن کسی اور طرف تھا اور اپوزیشن کو سامنے رکھ کر انہوں نے ”دوسروں“ تک پیغام پہنچایا۔بہر حال اس بار یہ لگا کہ آپ کا وزیر اعظم پروگرام عام آدمی کے سوالوں کا جواب نہیں دے رہا تھا بلکہ اپنی بھڑاس نکال رہا تھا۔ ایک ہی سانس میں دو متضاد باتیں کرنے سے یہ اندازہ بھی ہوا کہ پیارے کپتان نے اس حوالے سے کوئی تیاری بھی نہیں کی تھی۔ مثلاً انہوں نے پہلے کہا اگلی بار بھی حکومت انہی کی ہو گی۔ اور ساتھ ہی یہ وارننگ بھرا جملہ بھی کہہ دیا

کہ مجھے نکالا گیا تو میں زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ حضور جب آپ کی پوزیشن اتنی مضبوط ہے اور آپ اگلی حکومت بھی اپنی ہی دیکھ رہے ہیں تو پھر آپ کو کون نکال سکتا ہے، آپ تو یہ کہیں مجھے نکالنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اپوزیشن کو ابھی لمبا انتظار کرنا پڑے گا۔ ایسی باتیں جب اقتدار کی مسند پر بیٹھ کر کی جاتی ہیں تو یہ مضبوطی کی بجائے کمزوری کا تاثر ابھارتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب اپنی کرسی کے ہتھے پر ہاتھ مار کے کہا میری کرسی مضبوط ہے تو اس دن ان کی کرسی کمزور ہو گئی تھی۔ آپ تو یہ بھی نہیں کہہ رہے میری کرسی مضبوط ہے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں یہ کرسی چھینی گئی تو میں زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔عمران خان کی باتوں پر ان کے ترجمانوں اور وزراء نے خوب تالیاں پیٹی ہیں حالانکہ یہ تالیاں پیٹنے نہیں سوچ بچار کا وقت ہے کپتان نے کہا تو یہ ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے انہیں راتوں کو نیند نہیں آتی، جبکہ باتوں سے لگتا ہے انہیں نیند کسی اور وجہ سے نہیں آتی۔ انہوں نے اپنے مشیران کرام کی جھوٹی واہ واہ کے نرغے میں رہ کر ایک ایسی خیالی دنیا میں بسیرا کر رکھا ہے جس کا باہر کی حقیقتوں سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے خوشحالی کی جو داستانیں اپنے ٹیلیفونک خطاب میں سنائیں انہیں سن کر عام آدمی خوش نہیں ہوا بلکہ اس کے سینے پر وار چل گئے۔ جس وزیر اعظم کو یہ بھی نہیں پتہ کہ صرف تنخواہ دار طبقہ ہی نہیں بلکہ سفید پوش مڈل کلاس سے لے کر غربت کی لکیر پر زندگی گزارنے والے سبھی مہنگائی کے ہاتھوں ایک اذیت ناک زندگی

گزار رہے ہیں، وہ عوام کے دکھوں کا مداوا کیسے کر سکتا ہے یہ کہہ دینا بہت آسان ہے کہ میڈیا جھوٹی خبریں اور رپورٹیں دے کر عوام کو گمراہ کر رہا ہے، کیا واقعی ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، جنہیں میڈیا نہیں دکھا رہا، کیا میڈیا سیاستدانوں کی طرح جھوٹ بول سکتا ہے زمین پر زندگی اجیرن ہو تو کیا ایک خوشحال زندگی کی تصویر پیش کی جا سکتی ہے؟ کارپوریٹ سیکٹر کی خوشحالی کا ذکر آپ جتنا بھی کریں وہ ایک خاص طبقے کی خوشحالی ہے، جیسا کہ خود وزیر اعظم نے کہا ہے وہ اس سیکٹر سے کہیں گے مزدوروں کی تنخواہیں بڑھائیں۔گویا یہاں بھی انہیں التجا کرنی پڑے گی، جسے سرمایہ دار ذہنیت کم ہی قبول کرتی ہے، اس وقت کے زمینی حقائق حکومت کے خلاف ایک چارج شیٹ ہیں، عوام کو گیس مل نہیں رہی اس کے بل موصول ہو رہے ہیں، بجلی کے نرخ آئے روز بڑھ جاتے ہیں، وزیر اعظم نے اس کا ذکر نہیں کیا، اس کا بھی ذکر نہیں کیا کہ منی بجٹ کیوں لانا پڑا اور اس کے ذریعے عام آدمی پر اربوں روپے کے ٹیکسوں کا جو بوجھ پڑا ہے، اس کے اثرات سے بچانے کے لئے حکومت کیا ریلیف دے رہی ہے صرف یہ کہہ دینے سے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکتا کہ مہنگائی ایک عالمگیر مسئلہ ہے یورپ اور امریکہ کی مثالیں دے کر عوام کو دلاسہ دینے کی روایت اب ختم ہونی چاہئے، وہاں لوگ بھوک سے تنگ آ کرموت کو سینے سے نہیں لگاتے ۔ فلاحی ریاستوں کا تصور دیکھنا ہو تو یورپ اور امریکہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ہمارے ہاں تو سب کچھ عوام نے اپنی جیب سے کرنا ہوتا ہے، جیب خالی ہو تو انہیں انتقال کے بعد کفن بھی نصیب نہیں ہوتا، آج چار سال گزر گئے ہیں حکومت میں آئے، اب پھر وزیر اعظم عمران خان نے یہ نوید سنائی ہے کہ ٹیکس اصلاحات کر کے آٹھ ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس اکٹھا کر کے دکھائیں گے، چار سال میں تو ٹیکس گزاروں کی تعداد 22 لاکھ سے زیادہ نہیں بڑھ سکی، اب کون سی ترکیب استعمال کریں گے کہ ایک سال میں ٹیکس اتنے زیادہ اکٹھے ہو سکیں گے۔؟سب کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے جس لب و لہجے میں باتیں کیں وہ وزیر اعظم کے منصب سے لگا نہیں کھاتیں۔ ان کے مشیران وزیران بھی کسی ٹاک شو میں ہوتے ہیں تو دلیل سے بات کرنے کی بجائے مخالفیں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہ ہو اور آپ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہوں۔ کپتان کی یہ بات درست ہے کہ انہوں نے اپوزیشن میں رہ کر بڑے بڑے جلسے کئے، چار بار مینار پاکستان گراؤنڈ کو بھی بھرا۔ مگر یہ وہ دن تھے جب عوام ان کے سحر میں مبتلا تھے، جب وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کو ایک لعنت قرار دیتے تھے۔ جب یہ کہتے تھے کہ بجلی یا گیس کی قیمتیں بڑھیں تو سمجھو وزیر اعظم چور ہے، جب وہ نئے پاکستان کے خواب لے کر عوام کو اپنا گرویدہ بنائے ہوئے تھے۔ کیا آج بھی وزیر اعظم مینار پاکستان کو بھر سکتے ہیں، کیا وہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی شکست کو بھول گئے ہیں، مجھے نہیں خبر انہیں یہ پروگرام کرنے کا مشورہ کس نے دیا تھا۔ جب انسان کے پاس کہنے کو کھ نہ ہو تو اسے خاموش ہی رہنا چاہئے وگرنہ اس کی باتیں زخموں پر نمک چھڑکنے کا باعث بنتی ہیں کپتان کے پاس جو باقی ماندہ مدت بچی ہے، اس میں غریب عوام کا سوچیں، ان کی حالت بدلنے کی عملی کوشش کریں تو انہیں ایسا لب و لہجہ اختیار کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے، جس پر فتح کی بجائے شکست کا گمان ہوتا ہے۔

Comments are closed.