عمرشریف کا اپنا ہی ایک ڈرامہ انکی ذاتی زندگی میں کیسے سچ ثابت ہوا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ظفر تنویر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ خود بھی جانے والا ہے، سرطان نے اسے بری طرح گھیر رکھا ہے اور کیا پتہ کل اس کیلئے کیا لئے ہوئے ہے، اگلے دن اس نے فون کیا تو اپنی بیماری کے بارے میں نہیں اس شخص کی موت پر جو

سب کو ہنساتے ہنساتے سبھی کو رلا گیا، عمر شریف کی موت کا سن کر آئر لینڈ سے مرزا وقار بیگ نے فون کیا تو باتیں کم اور آنسو زیادہ بہاتا رہا، وہ کہہ رہا تھا کہ میں سخت دل آدمی ہوں اور رونے دھونے سے پرہیز ہی کرتا ہوں لیکن میری ماں کی موت اور ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے بعد اگر کسی نے مجھے رلایا ہے تو وہ یہی عمرشریف ہے جو تمام عمر مجھے ہنساتا ہی رہا ہے، وقار کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اپنے دکھ کا اظہار کن الفاظ میں اور کس طرح کرے اس سے بھی بدتر حالت اس روز سید فرقان حیدر کی تھی، امریکہ میں بیٹھے فرقان بھائی کو بھی خود اپنی صحت کی پروا کم اور عمر شریف کے اس طرح چلے جانے کا دکھ زیادہ ہے، سید فرقان حیدر پاکستان کے پہلے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ہیں جنہوں نے عمرشریف کو اسٹیج پر متعارف کروایا، عمر شریف کے والد کا انتقال ہوا تو وہ ابھی پوری طرح جوان بھی نہیں ہوئے تھے، چھوٹی سی عمر میں ہی انہیں گھر کی ذمہ داریاں نبھانے میں ’’بڑا کردار‘‘ ادا کرنا پڑا، ہر طرح کی مزدوری بھی کی اور لوگوں کی نقلیں اتار اتار کر مزاح کے ذریعہ لوگوں کا دل بہلانے میں لگ گئے، 14 سالہ محمد عمر شریف کے لطائف اور پیروڈی اتنی مقبول ہوئی کہ ایک دوست کے کہنے پر انہوں نے آڈیو کیسٹس کے ذریعے انہیں تیزی سے پھیلانا شروع کیا جوں جوں ان کی کیسٹس کی تعداد بڑھتی گئی توں توں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا ،شروع دنوں میں انہوں نے محمد عمر کی بجائے عمر ظریف کے نام سے کام کیا

لیکن جلد ہی وہ عمر شریف کے نام سے مشہور ہوگئے، دراصل ان دنوں ہالی ووڈ کے مصری اداکار عمر شریف کی بڑی شہرت تھی اور ان کی ’’فلم لارنس آف عریبیہ‘‘ کراچی میں کامیاب بزنس کرچکی تھی، عمر شریف کی شہرت جلد ہی کراچی سے باہر دوسرے علاقوں تک پہنچنا شروع ہوئی،70 کی دہائی کے آخر اور 80 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں پنجاب میں شو کی خان اور ناہید خانم آڈیوکیسٹس اور کراچی میں عمر شریف کی کیسٹس کی دھوم تھی جب کہ اسٹیج پر معین اختر ایک بے تاج بادشاہ کی طرح چھائے ہوئے تھے، معین اختر کی شہرت کا عالم یہ تھا کہ ڈراموں کے نام بھی ان کے نام پر رکھے جاتے، جیسے بہروپیا معین اختر، بچائو معین اختر اور ٹارزن معین اختر ، عمر شریف اور اس کے اندر کے فن کو جان کر سید فرقان حیدر ایک دن عمر کو معین اختر کے پاس لے گئے، بقول معین اختر مجھے جو لڑکا ملنے آیا وہ اتنا نمازی تھا کہ اس کے ماتھے پر سجی محراب اس کے بولنے سے قبل آپ کو اس کے بارے میں بتا دیتی، دنیائے ظرافت کے ہیرو کی موت پر رونے والوں میں آج معین اختر موجود نہیں ہیں، انہیں تو عمر سے اتنی محبت ہوگئی تھی کہ جب لاہور میں عمر شریف کا دل کا آپریٹ ہوا تو معین اختر اس کا احوال پوچھتے ہوئے اس طرح زارو قطار رو پڑے جس طرح بچے روتے ہیں، آج بچوں کی طرح سید فرقان حیدر رو رہے ہیں، کوویڈ 19 کی وبا سے پہلے عمر شریف ان ہی کے

پاس امریکہ میں تھے جہاں انہیں 18 جگہ سجائے گئے اسٹیج پر اپنا شو کرنا تھا، ابھی ان کے چار ہی شو ہوئے تھے کہ عمر شریف کی بیٹی حرا عمر پاکستان میں گردے کی پیوند کاری کے دوران جاں بحق ہوگئیں عمر کو ظاہر ہے فوراً واپس آنا پڑا اور ان کے آخری شو ادھورے کے ادھورے رہ گئے۔ خالد عباس ڈار تو کہتے ہیں کہ عمر شریف فروری2020 کے اسی دن مر گیا تھا جس دن اسے اپنی جواں سال بیٹی کا جنازہ دیکھنا پڑا، یہ صحیح ہے کہ اس کے بعد عمر کی صحت بگڑتی ہی چلی گئی اور اس پر طرفہ تماشہ ان کے گھریلو حالات تھے، عمرشریف نے اپنے عروج کے دنوں میں ’’مجھے بیویوں سے بچا‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ کیا تھا، اس وقت کون جانتا تھا کہ کسی دن یہی ڈرامہ ایک حقیقت بن کر ان کے سامنے کھڑا ہو جائے گا، کیسٹوں، محفل اور گلی محلوں میں کئے جانے والے ڈراموں اور شوز کی 20سالہ مشقت کے بعد 1989 میں ’’بکرا قسطوں پر‘‘ کی زبردست کامیابی نے عمر شریف کو پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ بھارتیوں کا بھی ہیرو بنا دیا، خود بالی ووڈ کے بڑے بڑے اسٹار اور فن کار عمر شریف کے گرویدہ ہوگئے، یہ ڈرامہ اتنا مقبول ہوا کہ اس کی پانچ ویڈیوز ریلیز ہوئیں، بکرا قسطوں پر ایک ، دو ، تین چار اور پانچ کے نام سے بھارت میں تہلکہ مچانے والا یہ پہلا پاکستانی اسٹیج ڈرامہ(اردو) تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھارت کے سب سے بڑے مزاحیہ اداکار انہیں’’ایشیائی مزاح کا خدا‘‘ کہتے ہیں، دنیا نے فن میں نئی جہتیں متعارف کروانے والے اس فنکار کا ڈرامہ ’بڈھا گھر پر ہے‘ بھی آج تک لوگوں کو یاد ہے یہ معین اختر اور عمر شریف کا آخری ڈرامہ تھا جو انہوں نے مل کر کیا، کسی دور میں پاکستان ٹیلی ویژن کے دروازے اس فنکار پر بند تھے جو اس نے نہیں اس کے فن کی مقبولیت نے کھلوائے، وہ جب بھی اکیلا ہوتا ’یہ سب تمہارا کرم ہےآقاکہ بات اب تک بنی ہوئی ہے‘گنگناتا رہتا، لالو کھیت سے اٹھ کر برصغیر بھر میں مزاح کا استعارہ بن کر چھا جانے والا اس طرح روٹھ کر گیا تو سیدفرقان حیدر صرف یہ ہی کہہ سکے کہ بڑا دشوار ہوتا ہے ، کسی کو یوں بھلا دینا کہ جب وہ جذب ہو جائے رگوں میں خون کی مانند

Comments are closed.