عمر شیخ کی بطور سی سی پی او لاہور تعیناتی کے پیچھے کیا کہانی نکلی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پہلا نکتہ یہ کہ دو برس میں چھٹا آئی جی اچھی بات نہیں، بہت نامناسب ہے، بہت نان پروفیشنل ہے۔ دوسرا نکتہ یہ کہ جب لاہور پولیس کا سربراہ لگایا جا رہا تھا تو وزیراعظم کی طرف سے قریبی دوستوں کی ٹیم کو سی سی پی او لاہور کے لئے براہ راست انٹرویوز کرنے

نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کے بجائے آئی جی سے رائے لینی چاہئے تھی کہ یہاں کسی ذاتی ملازم کی تقرری نہیں کی جا رہی تھی بلکہ ایک سو فیصد پروفیشنل پوسٹ کا معاملہ تھا۔ ظاہر ہے میں عمرشیخ کے تجربے سے انکار نہیں کر رہا مگر بہرحال ان کے سی سی پی او مقرر ہونے کے بعد کمنٹس نے ہی جلتی پر تیل ڈالا یعنی پہلے آئی جی کے مشورے اورمرض کے بغیر تعیناتی ہوئی اور اس کے بعد سی سی پی او صاحب نے بڑے صاحب کے پسندیدہ ہونے کا فائدہ بھی اٹھا لیا۔تیسرا نکتہ یہ ہے کہ آئی جی صاحب کو بھی اس کے بعد دفتر آنا نہیں چھوڑنا چاہئے تھا اور اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینی چاہئے تھیں کہ ان کا دفتر سے غائب ہوجانا بھی نان پروفیشنل ازم میں آتا ہے۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ جب سی سی پی او نے ان سے معذرت کر لی تو انہیں بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی معذرت قبول کر لینی چاہئے تھی کہ پروفیشنل پوسٹس پر ذاتی لڑائیاں نہیں ہوتیں۔ پانچواں نکتہ یہ ہے کہ کیا سابق آئی جی پنجاب، لاہور کے سابق سی سی پی او کو ہی برقرار رکھنا چاہتے تھے تو پولیس کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق ان کا رویہ اور سرپرستی بھی درست نہیں تھی کہ سابق سی سی پی او لاہور کی سربراہی میں لاہور پولیس گزشتہ چھ ماہ سے بدترین کارکردگی کامظاہرہ کر رہی تھی۔ پنجاب کے تمام اضلاع کی کارکردگی کے لئے پولیس نے انٹرنل پوائنٹ سسٹم بنا رکھا ہے اور اب تک رپورٹ ہونے والی آخری میٹنگ میں سابق سی سی پی او کی سربراہی میں لاہور پولیس نے مائنس انیس پوائنٹ حاصل کئے تھے جبکہ دوسری طرف جھنگ پولیس کے اسی پوائنٹ تھے، بہاولنگر کے اٹھاون، چنیوٹ کے چھپن، خانیوال کے تریپن اور اوکاڑہ کے پچاس پوائنٹ تھے۔ لاہور پولیس بالترتیب اٹک، چکوال ، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سیالکوٹ، ملتان، گوجرانوالہ اور راولپنڈی سے بھی پیچھے تھی۔ ایک طرف یہ کہاجاتا ہے کہ سابق حکومت نے تمام وسائل لاہور پر لگا دئیے اور دوسری طرف پولیس کی اتنی مایوس کن کارکردگی قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔بات صرف اتنی ہے کہ حکمران جس طرح پولیس کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں اس طرح تو ایک جنرل سٹور بھی نہیں چلتا کہ وہاں کا آ پ روزانہ مینیجر بدلتے رہیں ۔حکمرانوں کے پا س اب یہ دلیل نہیں رہ گئی کہ وہ نئے ہیںیا ناتجربہ کار ہیں۔ انہیں ان معاملات میں پختگی دکھانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان سے یہی عرض کرنی ہے کہ صاحب اس رفتار سے تو چپڑاسی بھی نہیں بدلے جاتے جس رفتار سے آپ آئی جی بدلتے جا رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.