عمر شیخ کے تبادلے کے پیچھے چھپی کہانی

لاہور (ویب ڈیسک)  عمر شیخ کو بطور سی سی پی او لاہور کام کرتے ہوئے ابھی پورے چار مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ انھیں ٹرانسفر کرکے ڈوگر صاحب کو سی سی پی او لاہور تعینات کر دیا گیا ۔ویسے تو پنجاب میں چند ماہ کی تعیناتی کے بعد سرکاری افسران کی

ٹرانسفر پی ٹی آئی حکومت کا خاصا ہے۔ نامور صحافی افتخار حسین شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنے آئی جیز اور چیف سیکریٹریز پنجاب میں آئے اور چند ماہ کے بعد پنجاب سے روانہ ہو گئے، مختلف محکموں کے سیکریٹریز کا تو ذکر ہی کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی ایک کو تو وزیراعظم عمران خان خود چن کر لائے اور ان کی تعریفیں میڈیا پر ساری دنیا کے سامنے کیں لیکن جو اُن کا حشر ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔اسی طرح عمر شیخ صاحب کے متعلق بھی یہی کہا جاتا رہا کہ انہیں خانصاحب کی منظوری سے لایا گیا ہے، پھر خانصاحب نے خود ایک ٹی وی پروگرام میں عمر شیخ کے لاہور میں ایک قبضہ گروپ کے خلاف فوری کاروائی کی تعریف بھی کی۔ اس کے بعد تو قدرتی بات ہے عمر شیخ کے اعتماد میں خاصا اضافہ ہو گیا اور اُنھوں نے لاہور جیسے بڑے شہر کو قبضہ گروپس کے شکنجوں سے نکالنے کے لیے رات دن ایک کر دیا۔ قبضہ گروپ مختلف پروفیشنلز کا ایک network ہوتا ہے، جس میں با اثر سیاستدان، ہاوسنگ سوسائٹیز کے مالکان ،مختلف درجوں کے پولیس افسران، چھوٹے بڑے ہر درجہ کے وکلاء شامل ہوتے ہیں ۔ لیکن عمر شیخ کی دھواں دار کاروائیوں سے لاہور کے قبضہ گروپس سہم کر بیٹھ گئے۔ قبضہ گروپوں کے جن ممبران کے خلاف مختلف کیسز کا اندراج تھا اُن کی گرفتاریوں کے لیے پولیس افسران کو ٹارگٹ دے دیئے گئے اور اُن کی مانیٹرنگ شروع ہوگئی ۔ کچھ تو لاہور شہر چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ گرفتار ہو گئے۔

پھر عمر شیخ نے ایک اور نعرہ بلند کر دیا اور وہ تھا Policing of police .۔کسی بھی شکایت پر اگر انکوائری میں کوئی تفتیشی افسر پیسوں کے لالچ میں یا کسی سفارش کی وجہ سے کسی پارٹی کے ساتھ بے انصافی کرتے سامنے آگیا تو پھر اُسی تھانے کی حوالات میں اُسے اُسی وقت بند کر دیا جاتا۔ ظاہر ہے ہماری پولیس ان باتوں کی عادی نہیں ہے سو سب ماتحت پولیس اس نئے نظام سے بہت پریشان ہو گئی۔ عمر شیخ نے ایک اور اچھوتا کام یہ بھی کیا کہ لاہور میں عرصوں سے تعینات پولیس افسران کے اثاثوں کی چھان بین کے لیے ایک ایجنسی کو درخواست کر دی ۔ کسے معلوم نہیں کہ لاہور میں تعینات پولیس افسران کے اثاثے ان کی آمدن سے کتنی مطابقت رکھتے ہیں۔ پھر اگلا قدم یہ اُٹھایا کہ لاہور کے وہ ایس ایچ او ز جو عرصہ دراز سے مختلف تھا نوں میں میوزیکل چئیرز کی گیم کھیلتے پھرتے تھے اُنھیں تھانوں سے تبدیل کر کے نئے لوگوں کو ایس ایچ اوز لگا دیا ۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ لاہور کے تھانوں میں کیسے ایس ایچ اوز کی پوسٹنگ ہوتی ہے ۔ سنا ہے اس میں بڑی بڑی رقوم اور بڑے بڑے طاقتور لوگ involve ہوتے ہیں۔ لیکن پوسٹنگ و ٹرانسفرز میں تو عمر شیخ کسی کی سننے کو بالکل تیار نہیں تھے۔ سو جب یہ کایا کلپ شروع ہوئی تولاہورکے مالی اور سیاسی طاقتور لوگوں نے مختلف اطراف سے عمر شیخ کو approach کرانا شروع کر دیا ۔ آئی جی آفس نے تو شعیب دستگیر سابق آئی جی کی ٹرانسفر کے بعد صاف اور سیدھا موقف اپنا لیا کہ

وہ عمر شیخ کی کاروائیوں میں کسی قسم کی مداخلت سے اجتناب کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں ، سو ہر ایک سے معذرت۔یہی بات اسلام آباد کے بڑے آفس میں سنائی جاتی کہ ہم تو خاموشی سے وقت گزار رہے ہیں۔طاقتور سیاسی اور دوسرے اثر رسوخ والے لوگوں نے پنجاب کے سب سے بڑے آفس یعنی وزیراعلیٰ آفس کے ذریعے عمر شیخ سے متعلقہ پو سٹنگ ٹرانسفر اور دوسرے کام کرانے کی کوشش کی۔ سنا ہے کہ وہاں کے سب سے بڑے آفیسر جو وزیراعلیٰ کا مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور وزیر اعلیٰ کے تقریباً تمام اختیارات استعمال کرتے ہیں نے بھی عمر شیخ سے کئی کام کرانے کی کوشش کی لیکن عمر شیخ پر تو ایک ہی خبط سوار تھا کہ میں نے لاہور کی پولیس کو نیو یارک کی پولیس بنانا ہے۔ سو صوبہ کے سب سے بڑے آفس کے سب سے بڑے آفیسر کو’ سوری سر‘ کے الفاظ سننے پڑتے ،حالانکہ سنا ہے کہ وہ نہ سننے کے عادی نہیں ہیں۔ سو عمر شیخ انہی راہوں پر چل رہے تھے ۔وہ صرف ایک شخص کی دکھائی گئی راہ پر بلا خوف و خطر چلے جا رہے تھے۔ ہمارے ایک دوست بڑے مزاحیہ انداز میں ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ عمر شیخ کتنے بھولے تھے ،کس شخص پر بھروسہ کر رہے تھے جو کروٹ بدلنے میں ایک لمحہ کی دیری بھی نہیں کرتا۔ لیکن میرے خیال میں عمر شیخ ایک ابنارمل (Abnormal ) شخص ہیں اور ایسے ابنارمل لوگ ہی کسی نظام سے ٹکرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ

کوئی بھی رائج نظام ایک ہمالیہ پہاڑ ہوتا ہے۔ اُس سے ٹکرانے والا فرد اپنا ہی نقصان کر لیتا ہے۔ خیر تو بات چل رہی تھی قبضہ گروپس کی ۔ ان گروپس میں وکلاء بھی شامل ہوتے ہیں۔ جب ان قبضہ گروپس سے عمر شیخ نے بزور پولیس قبضے چھڑانے شروع کیے تو وکلاء نے عدالتوں کا رُخ کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عمر شیخ تقریباً ہر روز مختلف عدالتوں میں پیشیاں بُھگت رہے ہو تے تھے۔ وکلاء اور عدالتوں کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے ۔ عدالتوں کو یہ تاثر بھی پہنچنے لگا کہ عمر شیخ عدالتی احکامات کی پرواہ بھی نہیں کرتے ۔ سو عدالتیں بھی عمر شیخ سے خفا خفا رہنے لگیں۔آئی جی آفس تو پہلے ہی دوری اختیار کر چکا تھا اور پھر صوبہ کا سب سے بڑا آفس بھی نالاں تھا ۔ آخرش اس نظام نے عمر شیخ کو خدا حافظ کہہ دیا ۔ تو سرکاری افسران کے لیے اس میں سبق بڑا واضح ہے، کہ ہمیشہ اپنے باس(( Boss کی خوشنودی کو مد نظر رکھیں۔ عقل مند افسران تو اپنے باس کے پرسنل سٹا ف کی خوشی کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ اسی طرح صوبہ کے سب سے طاقتور آفس کے اکیلے طاقتور آفیسر کی ناخوشی بھی کتنی بھاری پڑ جاتی ہے، اور عدالتوں کی ذرا سی حکم عدولی بھی بڑی مہنگی پڑتی ہے۔لیکن عمر شیخ کی اس بات کو appreciate نہ کرنا بھی intellectual dishonesty  ہو گی کہ وہ اس شہر کے عام آدمی کی خاطر ظالم نظام سے ٹکرا گئے اور ایک دفعہ اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *