عمر چیمہ کے تہلکہ خیز انکشافات

لندن ( ویب ڈیسک ) نامور صحافی عمر چیمہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریک انصاف کی حکومت اور اسیٹس ریکوری فرم براڈ شیٹ کے درمیان شریف خاندان کے مبینہ ایک ارب ڈالرز کے حصول کی کوششیں کٹوتیوں پر تنازع کی نذر ہوگئیں ۔یہ کٹوتیاں مبینہ طور پر پاکستانی حکام نے طلب کی ہیں ۔ 

پیغامات کے تبادلے پر مشتمل دستاویز اور بات چیت کی تفصیلات کے مطابق حکومت نواز شریف کے سنگاپوری بینک میں جمع مبینہ ایک ارب ڈالرز کی بازیابی کے لئے براڈ شیٹ کی خدمات حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن پاکستانی حکام کی جانب سے کٹوتیوں کے مذکورہ ریکوری فرم آڑے آگئی ۔ یہ خفیہ تصفیہ کمیونیکیشن کے عنوان سے قانونی فرم کروویل اینڈ مورنگ نے تیار کی ہے ۔ جس کا اہتمام براڈ شیٹ اور پاکستان کی نمائندگی کر نے والی قانونی فرم ایلن اینڈ اووری نے کیا ہے ۔ دستاویزات کے مطابق براڈ شیٹ کے مالک کیوے ماسوی سے 2019 کے موسم گرما میں سید ظفر علی کو سی کے ذریعہ رابطہ کیا ۔آکسفورڈ میں جولائی 2019 کو ایک ملاقات میں ظفر علی نے بتایا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں ، دستا ویز میں اسلام آباد اور لندن میں ماسوی ، شہزاد اکبر اور ظفر علی کے درمیان متعدد ملاقاتوں کی تفصیل موجود ہے ۔یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی نژاد ظفر علی وزیر اعظم عمران خان ، وزیر خزانہ اسد عمر ، شہزاد اکبر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں ۔ظفر علی نے ماسوی کو یہ بھی بتایا کہ حکومت میں ان کا قریبی رابطہ اسد عمر سے ہے اور جتنی ملاقاتیں ہوئیں ان سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ عمران خان سوائے اسد عمر کے کسی اور پر اعتماد نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھاکہ کہ انہوں نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اسد عمر کی نمائندگی کی تھی ۔اپنی ذاتی خصوصیات بیان کر تے ہوئے علی

نے ماسوی کو بتایا کہ عمران خان جو صوفی ہیں وہ ان سے خاصے متاثر ہوئے کیونکہ وہ سید بھی ہیں ۔ یہ وہ سطح تھی تھی جس سے وہ معاملہ کر رہے تھے ۔شہزاد اکبر نے ظفر علی سے اپنی ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ ظفر علی نے تجویز دی جو قبول نہیں کی گئی ۔ کئی لوگوں نے بلند بانگ دعوئوں کے ساتھ حکومت سے رابطہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم مختلف حکومتوں کے تعاون سے متعدد مقدمات پر کام کر رہے ہیں اور ہمیں کسی کی خدمات کی ضرورت نہیں ہے ۔ ماسوی نے کہا کہ ان ملاقاتوں کے بعد ظفر علی سے مزید بات چیت کی ضرورت نہیں رہی ۔رابطہ کر نے پر ظفر علی نے بتایا کہ براڈ شیٹ کے حوالے سے لندن میں کچھ ملاقاتیں لیکن تفصیلات نہیں بتائیں ۔جب پیغامات ماسوی کو مبینہ پیغامات کے بارے میں سوال کیا گیا تو ظفر علی نے کہا کہ اب ماسوی کے ساتھ ان کی کوئی بات چیت نہیں ہے ۔ تاہم ماسوی کے مطابق دونوں کے درمیان رابطے اصلی تھے ۔ فالو اپ ملاقات میں ماسوی نے تٖفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کس طرح نواز شریف کے اثاثے بازیزاب کرانے میں مدد کرتے اور سعادی عرب سے سنگاپور ایک ارب ڈالرز کی منتقلی کے بارے میں معلومات شیئر کرتے ۔جب ظفر علی نے وزیر اعظم عمران خان کو مذکورہ ایک ارب ڈالرز کے بارے میں بتایا تو انہوں نے ماسوی کو تفصیلات سے آگاہ کر نے کے لئے کہا ۔ پہلی ملاقات میں عمران خان نے نیب کا حوالہ دیتے ہوئے

اسے غیر مفید قرار دیا اور کہا کہ وہ دیا گیا کام نہیں کر سکتے ۔ اسی دوران کچھ اور لوگوں نے پاکستان کی جانب سے کام جاری رکھنے کے لئے رابطہ کیا۔تاہم ماسوی کا کہنا تھا کہ لندن میں ظفر علی جیسے لندن کے وکیل سے تمام بات چیت جاری رکھنی چاہئے ۔ لہٰذا ظفرعلی کو بات چیت میں شامل رکھا گیا تھا ۔ماسوی کی رائے میں بات چیت شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے وکلا کی خدمات حاصل کر نی چاہئے کیونکہ بعد ازاں کئی لوگ سامنے آکر معملات کو اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے ہیں ۔ پھر رشوت اور کک بیکس کے دروازے کھل جا تے ہیں ۔ بعد کے مہینوں میں ظفر علی نے اسد عمر ، اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور ، شہزاد اکبر اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں ۔سرکاری حکام کے ساتھ مذاکرات جاری رہے ۔اس دوران براڈ شیٹ سے کہا گیا کہ وہ وہ دو غیر متعلقہ ثالثیوں میں تعاون کرے جن میں پاکستان مالی بدعنوانی سے متعلق تنازعات میں ہار چکا تھا ۔یہ آئی سی ایس آئی ڈی کے پاکستان کے خلاف ایوارڈز تھے جو کارکے اور ریکو ڈک نے جیتے تھے ماسوی کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے براڈ شیٹ کے ساتھ معاملات طے کرے اور پھر دیگر تنازعات کے حل کی بات کرے ۔ماسوی کی ظفر علی کے ذریعہ کوششیں اس وقت ختم ہو گئیں جب جب ظفر علی نے انہیں بتایا کہ پاکستان ماسوی کے بارے میں جاننا چاہتا ہے ، برسوں سے ان کے ساتھ معاملات ہوتے رہے اور آیا براڈ شیٹ کو آصف زرداری اور بھٹو خاندان پیسے دیتے تھے۔ماسوی نے کہا کہ یہ سب کچھ بکواس ہے اور بتایا کہ سنگاپور میں شریفوں کے فنڈز کو حاصل کر نے کے لئے پاکستان میں دیگر بھی دلچسپی رکھتے تھے ۔شریف خاندان کے ترجمان نے کہا کہ کچھ لوگ شریف خاندان کی دولت کا کھوج لگانے کے لئے برسوں کوششیں کیں لیکن انہیں کچھ نہیں ملا ۔ماسوی نے کہا کہ تب ایک اور طاقتور افسر نے رابطہ کیا جس کا نام دستاویز میں شامل ہے جسے ذریعہ کو تحفظ دینے کے لئے روک لیا گیا ہے ۔ لندن کے کیفے روگ میں ایک ملاقات کے دوران اس افسر نے ماسوی کو ظفر علی کے ذریعہ سمجھوتے پر وقت ضائع نہ کر نے کا مشورہ دیا کیونکہ اس کیس کو اب پاکستان میں دیگر حکام نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے ۔

Comments are closed.