عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے والی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) موٹروے پر ہونے والے واقعہ نے جیسے دل کو چھلنی کر دیا ہو۔ ایک خاتون اپنے بچوں کے ساتھ فرانس سے پاکستان شاید اِس امید کے ساتھ آئی کہ ایک اسلامی ملک میں، جسے ریاستِ مدینہ کے عظیم اصولوں کے مطابق چلانے کا وعدہ کیا گیا ہو، وہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہے گی۔

نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اُن کو ایک اچھے ماحول میں تربیت دے گی، اُنہیں اچھا مسلمان بنائے گی لیکن اُس خاتون کے ساتھ جو ظلم ہوا، جس درندگی کا سلوک کیا گیا کہ وہ (اطلاعات کے مطابق) اپنے عزیزوں سے اپنے لئے موت مانگ رہی ہے، جو بحیثیت قوم ہم سب کے لئے انتہائی شرمندگی کا مقام ہے۔ اُس بیچاری خاتون کو کیا معلوم تھا کہ یہ تو جانوروں سے بھی بدتر درندوں کا معاشرہ بن چکا ہے۔اس سانحہ میں کس کی نااہلی تھی یا کون اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوا، اِن سوالوں کا اُس بنیادی خرابی اور بگاڑ سے کوئی تعلق نہیں جس کا ہم بحیثیت معاشرہ شکار ہیں اور جس پر ریاستِ پاکستان، حکومت، سیاست، میڈیا، عدلیہ وغیرہ کسی کی کوئی توجہ نہیں اور یوں ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ اخلاقی پستی اور معاشرتی بگاڑ کی نئی حدوں کو پار کرتے جا رہے ہیں۔ کوئی دن نہیں گزرتا جب کوئی نہ کوئی درندگی کا واقعہ سامنے نہ آئے۔ ایک دو دن رونا دھونا ہوتا ہے اور پھر ہم پستی کے اُسی سفر پر گامزن ہو جاتے ہیں جو ہماری دنیا و آخرت میں ہمارے لئے تباہی کا سبب بن رہا ہے۔کہنے کو ہم مسلمان ہیں لیکن ہمارے کرتوت ایسے ہیں کہ انسانیت شرما جائے۔ یہ کیا نظام ہے، ظلم اور بربریت تو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اگر ہمارا دل اور کلیجہ واقعی سانحہ موٹروے نے چیر کر رکھ دیا ہے تو اس مظلوم خاتون اور قوم کا دل اور کلیجہ ٹھنڈا کرنے کے لئے

اس واقعہ میں ملوث مجرموں کو جلد از جلد سزا دلوا کر موٹروے کی اُسی جگہ لٹکا دیا جائے جہاں اُنہوں نے اُس مظلوم عورت کو اپنی حیوانیت کا شکار بنایا تھا۔ اِن کو نشانِ عبرت بنائیں گے تو لاکھوں، کڑوروں اس سے سابق حاصل کریں گے۔ مظلوم خاتوں سے بحیثیت قوم ہمیں معافی بھی مانگنی چاہئے۔ نشانِ عبرت بنانے کی سزا تو معاشرے کے بگاڑ کو درست کرنے کے لئے صرف ایک قدم ہے۔ سب سے اہم معاملہ معاشرے کی تربیت کا ہے، وہ تربیت جو جانوروں کے معاشرے کو انسان بنائے، اُن میں خوف خدا پیدا کرے، گناہ و ثواب کا احساس دلائے اور انسانیت سیکھائے اور اس کے لئے تعلیمی اداروں، میڈیا، مسجد و منبر کے ذریعے جنگی بنیادوں پر معاشرے اور افراد کی کردار سازی کی جائے۔اس کے علاوہ پاکستان کا کریمنل جسٹس سسٹم، جو ناکارہ ہو چکا ہے، اُسے جلد انصاف اور مظلوم کے حق میں ریفارم کیا جائے۔ عریانیت کا خاتمہ کیا جائے، شرم و حیا کا مردوں اور عورتوں دونوں میں رواج دیا جائے، بدکاری کو مشکل اور شادیوں کو آسان بنایا جائے۔میڈیا کو گھٹیا ڈرامے، اشتہارات نشر کرنے سے روکا جائے۔ اچھائی اور نیک کاموں کی ترویج کی جائے اور برائی سے روکنے کی ذمہ داری ادا کی جائے۔ میں ان معاملات پر پہلے بھی بہت لکھ چکا لیکن یہاں تو کسی بات کا کسی پر اثر ہی نہیں ہوا۔ ایک سانحہ ہوتا ہے اور کچھ دن ہائے ہائے کے بعد قوم کسی دوسرے سانحہ کا انتظار کرتی ہے اور یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.