عین موقع پر شہباز شریف نے کیا گیم کی ؟

کراچی (ویب ڈیسک) پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کو ہم نے نہیں بلکہ شوکاز دینے والوں نے توڑا ہے‘وزیر اعظم کو آئینی طریقے سے ان کے عہدے سے ہٹانے کا طریقہ عدم اعتماد کی تحریک ہے جبکہ اپوزیشن کے جلسوں کے لاکھوں کا عوامی اجتماع بھی

انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر سکتا ہے اب کوئی 582bنہیں ہے کہ صدر مملکت ان کو ہٹا دے اگر (ن) لیگ ساتھ دیتی تو ہم پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اب تک عدم اعتماد کی تحاریک کو کامیاب بنا چکے ہوتے‘ ہمیں اسٹبلشمنٹ سے تعلق رکھنے کا طعنہ دینے والی (ن) لیگ کے صدر کسی عام آدمی نے نہیں خود شہباز شریف نے کہا کہ اگر بڑے بھائی کے پاؤں بھی پڑنا پڑا تو پڑوں گا اور پھر ان کی اس بات کو انہی کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہباز شریف کو یہ بات پبلک نہیں کرنی چاہئے تھی ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خود شہباز شریف کے پاس جا کر آفر کی کہ میں اپنے ارکان اسمبلی آپکو دیتا ہوں بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے مگر شہباز شریف خود ماموں زاد کی وفات کا بہانہ بنا کر بجٹ منظوری کے وقت اجلاس میں نہیں آئے جبکہ ان کے چوبیس ارکان بھی غیر حاضر رہے پھر طعنے ہمیں دیتے ہیں غیر حاضر رہ کر انہوں نے کس کو فائدہ پہنچایا میڈیا کوان سے سوال کرنا چاہئے؟ان خیالات کااظہار انہوں نے ایک میڈیا گروپ کے فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم سے پہلے ماضی میں ایم آر ڈی اور جی ڈی اے بھی بنا تھا مگر اس میں کوئی بھی جماعت ضم نہیں ہوئی تھی پی ڈی ایم کو ہم نے بنایا ہے ہم نے آخری حد تک اس کو بچانے کی کوشش کی

اور (ن) لیگ کی جانب سے شوکاز دینے کے باوجود بھی ہم اس سے الگ نہیں ہوئے لیکن جب انہوں نے ہم پر تابڑ توڑ اٹیک کیے تب ہم نے کہا کہ ہمیں بھی آپکی ضرورت نہیں ہے جبکہ اس سے پہلے اے این پی بھی ان کے شوکاز کی وجہ سے الگ ہونے کااعلان کر چکی تھی،ان کا کہنا تھا کہ جب یہ اتحاد تشکیل پایا تواس وقت یہ طے پایا تھا کہ ہم عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیئے ملک بھر میں جلسے جلوس کریں گے اور اسمبلیوں کے اندر اور باہر بھی حکومت پر ہر طرح سے پریشر ڈالیں گے یہ بات کہیں بھی طے نہیں پائی تھی کہ استعفے دئیے جائیں گے مگر انہوں نے ہمیں صرف یہ کہا کہ آپ استعفوں کے آپشن کو رکھ لیں بے شک نہ دیں جس پر ہم کہہ لیں کہ ان کی باتوں میں آگئے مگر ہم نے ان کی ہر میٹنگ میں یہ بات واضح کردی تھی کہ ہم کسی بھی قیمت پر مستعفی نہیں ہوں گے، جب لانگ مارچ کی باری آئی جس کی تاریخ کا ہم نے اعلان بھی کردیا تھا اور ہم نے سارا سامان بھی باندھ لیا تھا عین اس وقت انہوں نے شرط رکھ دی کہ لانگ مارچ شروع کرنے سے قبل مستعفی ہونے کااعلان کیا جائے جس پر پھر ہم نے ان کو یاد کروایا کہ مستعفی ہونے کی تو کہیں بھی بات نہیں ہوئی تھی مگر یہ لوگ ضد میں آگئے اور شوکاز دیکر اتحاد کو توڑ دیا میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب یہ لوگ مستعفی

ہونے کی باتیں کیوں نہیں کررہے ہیں اب ان کو مستعفی ہونے سے کس نے روک رکھا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کبھی کسی کو نہیں نکالتی البتہ لوگ خود اگر چھوڑ کر چلے جائیں تو یہ الگ بات ہے ناہید خان اور صفدر عباسی خود گئے تھے ان کو کسی نے نہیں نکالا تھا اور آج آپکو ایک انکشاف بھی کردوں ناہید خان جس کہ بی بی کی سیاسی مشیر تھیں ایک مرتبہ انہوں نے بی بی کی جانب سے مخصوص نشستوں پر دیا جانے والا پارٹی ٹکٹ پھینک دیا تھا مگر بی بی بڑے دل کی مالک تھیں انہوں نے برا نہیں منایاتھا وہ ٹکٹ انہوں نے کیوں پھینکا یہ جواب آپکو ناہید خان سے لینا ہو گا جہاں تک آپکے اس سوال کا تعلق ہے کہ بی بی کی موت کے بعد چن چن کر ان کے ساتھیوں کو الگ کیا گیا تو یہ تاثر غلط ہے میں خود آغا سراج‘قائم علی شاہ اور سید خورشید شاہ مثال ہیں کہ ہم سب کے پاس ابھی بھی عہدے ہیں ہم سے زیادہ بی بی کا قریبی ساتھی کون تھا۔جہاں تک بی بی کی موت کے وقت ان کے گاڑی کے سن روف پر آنے اور ان کو کسی کی کال آنے کا سوال ہے تواس کا جواب ان کی گاڑی میں موجود عینی شاہد ہی دے سکتے ہیں۔آصفہ بھی بی بی کی بیٹی ہیں اور ان میں بھی اپنی والدہ کی طرح سیاست پر مہارت حاصل ہے اور وہ اچھے طریقے سے کشمیر الیکشن مہم کو دیکھ رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *