غریدہ فاروقی کی انوکھی تنقید

لاہور (ویب ڈیسک) اگر تمہارے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا تو لاہور گھر میں چپ کر کے بچوں کے ساتھ سو جاتیں۔ صبح ہوتی تو آرام سے بے خوف دن کی روشنی میں خیر خیریت سے گھر پہنچ جاتیں۔ اللہ اللہ خیر صلا… کیا کہا؟؟؟ دن کے وقت بھی عورتوں پر اٹیک ہوتے ہیں؟؟

نامور خاتون صحافی غریدہ فاروقی اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ارے بھئی ان عورتوں کا لباس ٹھیک نہیں ہوگا… چال ٹھیک نہیں ہوگی… یا چال چلن ہی ٹھیک نہیں ہوگا۔ لیکن تم تو بچوں والی ہو کچھ خیال کر لیتیں۔ بچوں کے ساتھ اتنے سنسان راستے کی طرف سے نکلی ہی کیوں؟ جی ٹی روڈ سے آ جاتیں… ہر وقت چہل پہل ہوتی ہے وہاں… آبادی ہے… گاڑیوں کا رش ہے… اب غلط راستہ اختیار کرو گی تو غلط انجام تو ہوگا… اور دیکھو تم تو فرانس سے آئی ہو… تمہیں شاید پتہ نہ ہو… لیکن اتنا بڑا صوبہ اتنی بڑی آبادی… پہلے بھی کہا آدھا صوبہ عورتوں سے بھرا پڑا ہے… روزانہ کوئی دس بارہ واقعات تو پولیس کے پاس رپورٹ ہو رہے ہوتے ہیں اسیے ۔اب اتنے زیادہ کیسز اتنے کم وسائل۔ تمہیں تو پتہ ہونا چاہیے کہ ریاست پر زیادہ بوجھ نہ ڈالو۔ پہلے ہی ریاستی کمر دہری ہو چکی ہے اتنے بوجھ اٹھا اٹھا کر۔ اب دیکھو نا ایک طرف اتنے اہم معاملے ہیں اتنے بڑے بڑے کیسز چل رہے بڑے بڑے مگر مچھ پہلی بار پکڑ میں آ رہے ہیں۔ ریاست اتنے غور اور باریک بینی سے ان لٹیروں اور چوروں کو انجام تک پہنچانے کے لیے ایسے ایسے فرض شناس قابل پولیس والوں کو ہیروں کی طرح چن چن کر لگا رہی ہے کام پر اور بیچ میں آ گئیں تم…اب تمہاری وجہ سے موٹر وے والے لٹیروں کو پہلے پکڑنا پڑ گیا ہے اور اصلی اور وڈے چوروں سے توجہ ہٹ گئی… میں تو حیران ہوں کہ تم فرانس سے آخر پاکستان کرنے کیا آئیں…

فرانس میں رہتیں آزادی سے دن رات گھومتی پھرتیں… خود بھی محفوظ رہتیں بچے بھی سنبھلے رہتے… اور اچھا خاصا زرمبادلہ بھی پاکستان کو ملتا رہتا… اب دیکھو نا اِسی سال ہم نے کتنا ریکارڈ زر مبادلہ کمایا ہے… تو تمہاری غلطی کی وجہ سے ہمارے زرمبادلہ پر بھی کتنا فرق پڑ سکتا ہے… اور تمہاری وجہ سے ایک قابل پولیس والے کی کتنی بےعزتی ہو رہی ہے… کیسا ڈھونڈ کر تراش خراش کر ہم نے ہیرا لگایا ہے۔اب تمہاری وجہ سے سارے اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ اس نے آخر ایسا کیا کہہ دیا؟ تمہارے بھلے کی ہی بات کی نا… اس کی بیٹی بیوی بہن ہوتی تو کبھی اکیلے نہ نکلنے دیتا اور وہ بھی رات گئے۔ آخر یہ بڑی بڑی سی گاڑیاں اور ہر وقت کے حاضر سرکاری ڈرائیور اور خادم کس کام کے۔ آخر اتنے بڑے بڑے عہدوں پر رہا ہے اتنا مال کمایا ہے دو چار گارڈز ڈرائیورز خادم تو ایسا ماڑا بندہ ایفورڈ کر ہی لیتا ہے۔اور جس کے پاس ڈرائیور نہیں وہ شوہر باپ بھائی بھتیجے بھانجے کو ہی ساتھ لے لے اور کوئی نہ ہو تو کوئی بچہ ہی ساتھ لے لے۔ نفسیاتی طور پر ہی تحفظ ملتا رہتا ہے۔ ہیں جی!؟؟ کیا کہا؟؟؟ اس عورت کے ساتھ تو تین بچے تھے پھر بھی یہ ہوگیا۔ بھئی معاف کرنا ہم ایسی عورتوں کو نہیں سمجھا سکتے۔ ہم نے شکست تسلیم کرلی۔ آپ جانیں آپ کا کام… آئندہ روتی دھوتی ہمارے پاس نہ آیئے گا ہم نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی تھی… آپ کو نصیحت بھی کی تھی… خبردار بھی کیا تھا… اوراب یہ نہ کہنا کہ ہم نے کوئی غلط بات کر دی… کوئی غیر قانونی بات نہیں کی…اور ہاں سنو… اب تمہاری غلطی کی وجہ سے کیس ہمارے گلے پڑ ہی گیا ہے تو ذرا انتظار کر لو…مجرم پکڑتے تھوڑا ٹائم تو لگتا ہی ہے… تب تک ہمارے روزانہ کے نوٹس، میٹنگز، اجلاس، دورے، رپورٹس… ان سب کے ساتھ مطمئن رہنا… ریاست کو اور بھی بڑے کام ہوتے ہیں… اکیلی نکلو گی… رات گئے نکلو گی… تو یہ تو ہوگا… ٹوں… ٹوں… ٹوں…….

Sharing is caring!

Comments are closed.