فراڈ کے ذریعہ پوری زندگی گزارنے کا بندوبست کرنے والی ایک حسینہ کی انوکھی اور سچی کہانی

واشنگٹن (ویب ڈیسک) نیو یارک میں اپنے آپ کو ایک ارب پتی خاندان کی وارث کے طور پر پیش کر کے فراڈ کرنے والی خاتون اینا سورکن کو امریکی امیگریشن حکام نے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ اینا سورکن کو ریاست نیو جرسی کے ایک قید خانے میں رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اینا سورکن نے خود کو 25 مارچ کو امیگریشن حکام کے حوالے کیا تھا اور انھیں اگلے روز ملک بدر کیا جانا تھا۔اب تک یہ واضح نہیں کہ کیا اینا سورکن نے خود اپنی ملک بدری کے خلاف اپیل کی ہے یا حکام نے انھیں کسی اور مقصد کے لیے حراست میں رکھا ہوا ہے۔جرمن شہری اینا سوروکن نے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے جرمنی کے ایک ایسے دولت مند خاندان کی واحد وارث ’اینا ڈیلوی‘ کے طور پر پیش کیا تھا جسے وراثت میں 600 کروڑ ڈالر ملے تھے۔اس کے بعد انھوں نے نیویارک میں مختلف بینکوں اور ہوٹلوں سے تقریباً دو لاکھ ڈالر سے زیادہ کا فراڈ کیا۔بی بی سی ٹی وی کے پروگرام نیوز نائٹ میں جب اینا سوروکن سے پوچھا گیا کہ کیا جرائم سے فائدہ ہوتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ’ایک طرح سے ہوا ہے‘۔سوروکن نے ٹی وی کے لیے ڈرامے اور فلمیں بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ’نیٹ فلکس‘ کو اپنی کہانی بیچ کر تین لاکھ بیس ہزار ڈالر کمائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں دیگر پیشکشیں بھی ہوئی ہیں۔سوروکن کو بینکوں، ہوٹل مالکان اور دوستوں سے فراڈ کر کے لاکھوں ڈالر کمانے کے جرم میں قید بھگتنا پڑی۔’اینا ڈیلوی‘ کا بھیس اپنا کر انھوں نے جو جعل سازیاں کیں اس کی کہانی جب سنہ 2018 میں نیویارک میگزین میں شائع ہونے پر ’وائرل‘ ہوئی تو اس میں فلم سازوں اور ٹی وی پروڈیسروں نے بھی دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔نیٹ فلکس سے ڈیل پر ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے نیٹ فلکس سے نہیں کہا تھا کہ وہ میری کہانی خریدیں۔

یہ بس ہو گیا۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’اور باقی جو کچھ ہوا وہ خود بخود ہوا‘ اور اس میں ان کی کوئی منصوبہ بندی شامل نہیں تھی۔سوروکن تین سال قید کاٹنے کے بعد اس سال فروری میں ہی ضمانت پر رہا ہوئی ہیں۔سوروکن نیٹ فلکس سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی اپنے پاس نہیں رکھ سکیں کیونکہ نیویارک کے قوانین بدنامی یا بری شہرت کو مالی منافع کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔نیٹ فلکس نے پوری طرح قانون کی پیروی کی اور متعلقہ حکام نے سوروکن کے بینک کھاتوں کو منجمد کر دیا اور پہلے ان لوگوں کو معاوضہ ادا کیا جن سے انھوں نے فراڈ کیا تھا۔ کم از کم ایک لاکھ ستر ہزار ڈالر بینکوں سے فراڈ کر کے حاصل کی گئی رقوم کی ادائیگیوں پر خرچ کیے گئے ہیں۔سوروکن نے اپنی 30ویں سالگرہ قید میں منائی لیکن جب وہ پچیس چھبیس سال کی تھیں تو وہ نیو یارک شہر میں تھیں جہاں انھوں نے لوگوں میں یہ مشہور کر رکھا تھا کہ انھیں چھ کروڑ ڈالر مالیت کے ٹرسٹ فنڈ کی وراثت ملی ہے جسے وہ ’آرٹ فاونڈیشن‘ کے ایک عظیم الشان منصوبے پر خرچ کرنا چاہتی ہیں۔لیکن اصل میں وہ ایک میگزین میں تربیتی بنیادوں پر کام کر رہی تھیں اور ان کا تعلق روس سے ہجرت کر کے جرمنی منقتل ہونے والے ایک عام سے خاندان سے تھا۔مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام کر کے اور انسٹا گرام پر اپنے آپ کو ایک ایسی امیر کبیر خاتون کے طور پر پیش کر کے جو ہر وقت بین الاقوامی سفر پر رہتی ہے، انھوں نے مختلف لوگوں کو پھانس لیا۔حتیٰ کہ جعلی

دستاویز کی بنیاد پر وہ ایک بینک سے ایک لاکھ ڈالر کا قرضہ منظور کرانے میں بھی کامیاب ہو گئیں لیکن آخر کار پولیس اُن تک پہنچ گئی۔سوروکن کا اب دعویٰ ہے کہ ان کے مقدمے کے دوران استغاثہ نے ان کا ذرائع ابلاغ میں تاثر بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’استغاثہ کے وکلا نے میرے جرم کرنے کے ارادوں کو انتہائی غلط رنگ دے کر پیش کیا۔ یہ کہا گیا کہ میں نیویارک میں خود کو ایک دولتمند وارثہ کے طور پر پیش کرتی تھی۔ جو کچھ ہوا وہ قطعی طور پر میرے اور میرے بینکوں کے درمیان تھا۔ انھوں نے مجھے ایک ایسی لڑکی کے طور پر پیش کیا جو پارٹی گرل بننا چاہتی ہے جبکہ میرا کبھی بھی ایسا کوئی ہدف نہیں تھا۔‘گو کہ سوروکن کو پرتعیش ہوٹلوں میں قیام کرنا اور کھانوں کے دوران انتہائی مہنگی مے نوشی پسند تھا لیکن اصل میں ان کی نگاہیں ایک آرٹ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھنے پر تھیں جس کے لیے انھوں نے دھوکے سے دو کروڑ بیس لاکھ ڈالر کا قرض بھی حاصل کر لیا تھا۔اس مقصد کے لیے ایک ’لنچ پارٹی‘ کرنے کا بروشر یا کتابچہ بھی چھپوا لیا تھا جس کے پیسے بھی انھوں نے اس مہنگے ترین ڈیزائنر کو ادا نہیں کیے۔ اس بروشر میں دعویٰ کیا گیا کہ انھیں اس کام میں بہت سی مشہور شخصیات کی مدد حاصل ہے جس میں آنجہانی آرٹسٹ کرسٹو بھی شامل تھے۔کرسٹو جو گزشتہ سال وفات پا گئے تھے ان کے پبلشرز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی سختی سے تردید کی۔سوروکن کا اپنی صفائی میں مؤقف اس

مفروضے پر قائم تھا کہ ’جب تک ایسے بن نہیں جاتے اس وقت تک ایسا ظاہر کرو۔‘ ان کے وکیل نے بتایا کہ عدالت میں سماعت کے وقت پیش ہونے سے پہلے ان کے بال بنانے کے لیے ایک سٹائلسٹ کی خدمات حاصل کی گئیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اینا سوروکن کب اینا ڈیلوی بنیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے اینا ڈیلوی تھیں۔’دوسروں نے مجھے دھوکے باز اور جعل ساز بنا کر پیش کیا جو کہ میں سمجھتی ہوں کہ میں کبھی نہیں تھی۔ میں کبھی بھی لوگوں سے بہت زیادہ اچھی بن کر نہیں ملتی تھی۔ میں نے کبھی بھی کسی کو باتوں میں الجھا کر اپنا کام نکالنے کی کوشش نہیں کی۔ میں صرف لوگوں سے کہتی تھی کہ مجھے یہ چاہیے اور وہ مجھے دے دیتے تھے یا پھر میں آگے بڑھ جاتی تھی۔‘سوروکن کو چار عدالتوں میں چوری، تین عدالتوں میں غیر قانونی قبضہ اور ایک عدالت نے سنہ 2019 میں غیر قانونی قبضہ کرنے کی کوشش کرنے پر مجرم قرار دیا۔ ان کو دو الزامات میں بری کر دیا گیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ جب سے وہ رہا ہوئی ہیں ان کو ذرائع ابلاغ کے اداروں کی طرف سے بے شمار درخواستیں کی جا رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ ایک کتاب لکھ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’میرے اپنے نان فنجیبل ٹوکن ہیں جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتے ہیں۔ لباس بنانے کا اپنا برانڈ ہے اور قید میں اصلاحات پر کام کر رہی ہوں۔‘وہ کہتی ہیں کہ انھیں جو توجہ حاصل ہو رہی ہے وہ اسے مثبت طریقے سے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک جعلساز یا بہروپیا ہونے کی شہرت کو اپنے لیے کوئی اعزاز کی بات نہیں سمجھتیں۔تاہم سوشل میڈیا پر وہ اپنی یہ شہرت چھپا بھی نہیں رہیں۔ پچھلے ہفتے انھوں نے ایک ٹوئٹر پیغام میں ایسی بہت سے کتابوں کے عکس پوسٹ کیے جن کا عنوان دولت اور جعل سازی تھا اور ان میں ’ڈن آف تھیوز‘ اور ’دی بگیسٹ بلف‘ نامی کتابیں بھی شامل تھیں۔گو کہ پہلے وہ ندامت کا اظہار کر چکی ہیں لیکن اب وہ کہتی ہیں یہ لفظ درست نہیں کیونکہ اس میں غم کا پہلو بھی جھلکتا ہے اور جو کچھ انھوں نے کیا وہ اس پر غمگین نہیں بس وہ سب کچھ وہ دوبارہ نہیں کریں گی۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *