فن کا سلطان سلطان راہی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار پروفیسر فہمیدہ کوثر اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔ایک زمانہ تھا کہ فلم بینوں کے لئے سلطان راہی غیرت حمیت اور عزت کا نشان سمجھا جاتا تھا‘سلطان راہی کے ایک کھڑاک سے تماشائی جوش مین آجاتے تھے کہ اب دشمن نیست ونابود ہوجائیگا‘ دلیری کی علامت

کا مظہر سلطان راہی اپنے کام میں مہارت کی وجہ سے کروڑوں لو گوں کی دلوں کی دھڑکن بن گیا۔’’ مولا جٹ‘‘ نے جب لٹھ و کلہاڑا کلچر کو فروغ دیا تو گنڈاسہ سلطان راہی کی شخصیت کا حصہ بن گیا جو ان کی شخصیت کے ساتھ خوب جچتا تھا۔ ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ان کی وفات کے بعد بھی فلموں میں ان ہی کے انداز کو اپنایا گیا اور ان کے بعد کئی اداکاروں نے ان کے ڈائیلاگ ادا کرنے کے انداز کو اپنا کر کامیابی تو سمیٹی مگر میری ذاتی رائے میں وہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکے جس مقام پر سلطان راہی فائز تھے۔ سلطان راہی نے کسی اداکار کو کاپی نہیں کیا بلکہ اپنی پرفارمنس سے اداکاری میں جان ڈال دی۔ ان سے کسی نے ایک مرتبہ سوال کیا کہ آپ کی کامیابی کی سب سے بڑی بات کیا ہے تو بولے کہ انہوں اپنا منفرد انداز رکھا جو کردار کیا، محنت سے کیا۔ ایک مفکر کا قول ہے کہ معاشرتی بگاڑ اور سنوار میں ہماری رائے روئیے اورہماری سوچ نمایاں کردار ادا کرتی ہے اورفکری بحران اسوقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے حق اور حدود سے تجاوز کرنے لگتے ہیں۔ گزشتہ دنوں سلطان راہی کی شخصیت سوشل میڈیا پر وجہ تنقید بنی۔ راہی ساتھ ہی ان کے پرستار جن کو ایک اینکر پرسن کی رائے سے دکھ پہنچا، میدان میںآگئے۔ سب سے ضروری امر تو یہ ہے کہ سلطان راہی اپنے دور کا منفرد فنکار ہے۔ اس کا موازنہ کسی سے نہیں بنتا اور بنتا بھی ہے

تو ان ہی کے دور کے ہم پلہ فنکار سے بنتا ہے اور دوسرے یہ کہ جن خدمات کا اعتراف گینیز بک میں ہے اس سے بعید کیا اعتراف ہوسکتا ہے۔ سلطان راہی نے چھوٹے چھوٹے کرداروں سے بڑے کرداروں تک اپنے آپ کو منوایا۔ ان کے بعد درحقیقت جن فنکاروں نے سلطان راہی کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے باالواسطہ یا بلاواسطہ سلطان راہی کو زندہ رکھا کیونکہ یہ لوگ ان کو بھولے نہیں تھے۔ ’’ مولا جٹ‘‘ نے انہیں دوام بخشا،ان کا ایک ڈائیلاگ ’’مولے نوں مولا ۔۔۔۔ اتنا مشہور ہوا کہ کتنے عرصہ بسوں اور ٹرکوں کی زینت بنا رہا۔ بسوں اور ٹرکوں کا عجیب کلچر ہے۔ حالات حاضرہ کی مکمل خبر دیتے ہیں ۔ ان پر لکھے ’’توں لنگھ جا ساڈی خیر اے‘‘ جیسے جملے ایک روایتی کلچر کے علمبردار ہوتے ہیں۔ ’’ مولے نوں مولا ۔۔۔‘‘ اس مصداق پر بھی پورا اترتا ہے کہ اللہ جسے عزت دے وہ حرف زنی سے کم نہیں ہوتی لیکن ہمارا سیاسی معاشرتی اور مجموعی نظریہ یہ ہے کہ ہم حرف زنی کے پتھر جیب میں لئے پھرتے ہیں جہاں کسی کی برتری کا خوف ہوا، میاں مٹھو بننے کا شوق ہوا، یا حسد کے کیڑے نے سر ابھارا مشق پر اتر آئے۔ جس دن ہم سمجھ گئے کہ ہمارے اختیارات کی حد کہاں ختم ہوتی ہے، دوسرے کی کہاں سے شروع ہوتی ہے، معاملات اصلاح کی طرف آجائیں گے۔

Comments are closed.