فن کے سلطان ، سلطان راہی مرحوم کو انکے والد نے فلموں میں کام کرنے کی اجازت کیسے دی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ میں ایک نام ایسا بھی ہے جس نے فلم انڈسٹری کو35سال تک اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا۔ وہ نام سلطان راہی کا ہے۔ 1938 میں مظفر نگر (انڈیا) میں جنم لینے والے سلطان راہی نے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ ان کو بچپن سے ہی شوق تھا کہ

ان کا نام ہو اور وہ اپنے اس شوق کی تکمیل اسکول میں ہونے والے ڈرامہ مقابلوں میں پوری کرلیتے تھے۔ انہیں اس شوق کو مزید پورا کرنے کے لئے تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر والوں سے اجازت لینا پڑی۔ والدہ نے بیٹے کو اس کی ضد کے آگے دل پر پتھر رکھ کر لاہور جانے کی اجازت دی۔ اس مضمون میں ہم اس عظیم فنکار کی زندگی کے نشیب و فراز کا تذکرہ کریں گے۔ بات کچھ یوں ہے کہ جب پاکستانی سینما یا لولی وڈ اپنے عروج کے بعد ایک عبوری دور سے گزر رہا تھا۔ لولی وڈ انڈسٹری چار کی بجائے ایک ہی ستون پر کھڑی تھی اور اس ستون کا نام تھا سلطان راہی… یہ زمانہ پا کستانی سینما کے عروج کا زما نہ تھا، جسے فلموں کے کھڑکی توڑ ہفتے سے موسوم کیا جاتا ہے۔ فلمیں عموماً سلور اور گولڈن جوبلی کیا کرتی تھیں۔ لوگوں کے لئے سینما ایک بہترین اور من پسند تفریح تھی۔ اردو فلم تو سال میں ایک یا دو بار ہی ریلیز ہوا کرتی تھی، تاہم مہینے میں دو دو، چار چار پنجابی فلموں کا ریلیز ہونا ایک معمول تھا اور سب سے غیر معمولی بات یہ تھی کہ پنجابی فلم بین طبقہ کراچی، اندرون سندھ اور اس وقت کے صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختونخوا میں بھی موجود تھا اور سلطان راہی چاروں صوبوں کی فلمی زنجیر بن چکے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد وقت کی رفتار اور انفارمیشن انقلاب نے حقائق کو کچھ ایسے دھندلا دیا کہ سلطان راہی کی شفاف شخصیت بھی اسرار کے گہرے پردوں تلے چھپتی جارہی ہے۔ ان کے اصل نام اور پیدائش سے لے کر فلموں کی تعداد تک اختلاف موجود ہے۔ اصل نام سلطان محمد … یا… سلطان راہی ہے۔ ضلع بجنور یوپی بھارت میں پیدا ہوئے… مظفر نگر اترپردیش میں جنم لیا… سہارنپور یا راولپنڈی میں آنکھ کھولی… زیادہ تر راولپنڈی کا ذکر ہے۔ سلطان راہی نے سات سو فلمیں کیں۔ ساڑھے آٹھ سو فلمیں کیں یا 905 فلمیں۔ بطور ہیرو سب سے زیادہ فلمیں کرنے پر نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں درج ہے۔ فن کے سلطان کروڑوں لوگ، جو واقعی عوام کے درجے میں شامل ہیں، کے ہیرو سلطان راہی تھے کیونکہ ایلیٹ یا اشرافیہ کے ماتھے پر تو سلطان راہی کا نام سنتے ہی سلوٹیں پڑ جاتی تھیں۔ حقیقت پرستار کی ہیرو کے لئے محبت اور نیک دل، پرجوش جذبات میں کہیں چھپ جاتی ہے، لیکن نقاد اور صحافی حضرات نے بھی ان سے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ سلطان راہی نے مجموعی طور پر 804 فلموں میں کام کیا، جن میں500سے زیادہ فلمیں پنجابی زبان میں اور 160 فلمیں اردو زبان میں بنائی گئی تھیں،

Comments are closed.