فوجی قانون کے تحت کئی اعلیٰ افسران کو ایک ہی جگہ جانے کے لیے ہوائی سفر کرنا پڑ جائے تو اسکی شرائط کیا ہوتی ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) جنرل اسلم بیگ نے جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے حادثے کے بارے میں بڑی تفصیل سے لکھا‘ جنرل صاحب نے انکشاف کیا‘ جنرل ضیاء الحق اور دوسرے سینئر آفیسرز 17 اگست 1988 کو الخالد ٹینک کا ٹرائل دیکھنے خیرپور ٹامیوالی آئے‘عسکری قیادت نے اسلام آباد سے بہاولپور آنا تھا‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہم نے ان کے لیے دو گروپ بنائے تھے‘ پہلے گروپ میں جنرل ضیاء الحق شامل تھے جب کہ دوسرے گروپ میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمن تھے۔16 اگست کو جنرل اختر عبدالرحمن مجھے گالف کورس میں ملے اور شکایت کی تم نے مجھے پہلے گروپ میں کیوں نہیں رکھا‘ میں نے کہا ’’اصول کے تحت سینئر افسر ایک جہاز میں سفر نہیں کرتے‘‘ وہ خاموش ہو گئے‘ اگلے دن جنرل ضیاء الحق بہاولپور پہنچے تو جنرل اختر عبدالرحمن بھی صدر کے ساتھ تھے‘ انھوں نے ملٹری سیکریٹری کے ذریعے اپنا نام صدر کے گروپ میں شامل کرا لیا تھا اور یوں وہ بھی 17 اگست کو جنرل ضیاء الحق کے طیارے میں جان بحق ہو گئے۔جنرل اسلم بیگ نے انکشاف کیا‘ میں حادثے سے قبل جب بہاولپور ائیرپورٹ پر جنرل ضیاء کو رخصت کرنے لگا تو جنرل ضیاء نے مجھ سے پوچھا ’’آپ بھی آ رہے ہیں؟ مگر آپ کا تو اپنا جہاز ہے‘‘ میں نے کہا ’’جی ہاں میں اپنے جہاز میں آؤں گا‘ اللہ حافظ‘‘ ان کا جہاز ٹیک آف کر گیا اوردس منٹ بعد میرے پائلٹ کرنل منہاج نے پریشانی کے عالم میں بتایا ’’سر اسلام آباد کنٹرول کا پاکستان ون سے رابطہ نہیں ہو رہا‘ میں بھی کوشش کر رہا ہوں لیکن کوئی ریسپانس نہیں ہے‘‘

Comments are closed.