فوج اور حکومت کے درمیان معاملات حل ہونگے یا مزید خراب ہونگے ؟

لاہور(ویب ڈیسک)سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ مہنگائی سے مریم نوا ز کو کیا فرق پڑتا ہے ،جن کے پاس اربوں ڈالر ہوں ان کیلئے مہنگائی کیا معنی رکھتی ہے ،نواز شریف نے حکومت کے پہلے دن پچاس فیصد بجلی مہنگی کی تھی اور آئی ایم ایف سے سمجھوتے کا بندوبست کیا تھا،

5سو ارب بجلی کمپنیوں کو ادا کئے تھے ،جرمانے سب معاف کردئیے تھے ۔پروگرام مقابل میں اینکر پرسن ثروت ولیم سے گفتگو میں ان کا کہنا تھامریم نواز کہہ رہی ہیں خدا کے واسطے ہمیں حکومت دو،اگر عمران خان عوام کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوئے تو کیا نواز شریف عوام کے ووٹ سے آئے تھے ،کیا انہوں نے دھاندلی نہیں کی تھی، نواز شریف تو پارلیمنٹ میں تشریف ہی نہیں لاتے تھے ،یہ تو خفیہ ایجنسیوں اور فوج کی گود میں پلے ،مریم کہتی ہیں عمران خان نوا شریف بننے کی کوشش کررہے ہیں،میرے خیال میں ایسا نہیں،زیادہ امکان ہے کہ معاملات حل ہوجائینگے ،نواز شریف نہیں آرہے ،سپریم کورٹ انہیں اور مریم کو نااہل قرار دے چکی ، مریم ضمانت پر رہا ہیں،شہزاد اکبر اس قابل ہی نہیں کہ احتساب کرسکیں،یہ خسرو بختیار،بی آرٹی پشاور کا احتساب نہیں ہوتا،سات سال پہلے ماڈل ٹائون کا واقعہ ہوا تھا،کیا رانا ثنا اللہ اور شہباز شریف بے گناہ تھے ،اگر یہ بے گناہ تھے تو عدالت سے فیصلہ کیوں نہیں لیتے ۔سب سے بڑا نہری نظام پاکستان میں ہے ، زراعت پر ریسرچ ہی نہیں ہوئی، سب سے بڑی انڈسٹری ٹیکسٹائل مگر کپاس کی پیداوار کم ہوگئی، گورننس نہیں ہے ،یہ بلدیاتی نظام بننے ہی نہیں دینگے ، پارٹیاں کیاہیں، یہ شریف خاندان، زرداری خاندان،مفتی محمود اور اچکزئی کا خاندان ہے ،ایک قابل اعتبار سورس نے مجھے بتایا نواز شریف نے کہا ہے شہباز شریف جہاں کسی سے بات کرنے جائیں شاہد خاقان عباسی کو ساتھ لے جائیں،بھائی کی وزیر اعظم بننے کی خواہش تو ہے ،عمران خان نے جام کمال کو کہہ دیا آپ اپنی ا کثریت ثابت کریں،اسٹیبلشمنٹ نے بھی کہا ہم دخل نہیں دینگے ۔