فوج مخالف تقریر کے پیچھے کون سی اہم شخصیت نکلی ۔۔۔ کس کے فارمولے پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا۔ نواز شریف کی تقریر کے پیچھے ایک بہت اہم شخصیت تھی۔ نام اس لئے نہیں لے سکتا کہ کوئی یقین نہیں کرے گا۔ اشارہ اس لئے نہیں دیا جاسکتا کہ گیم آف تھرون میں ایرر آجائے گا۔

نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔آگ کہیں اور لگی ہوئی ہے، دھواں کہیں اور اٹھ رہا ہے۔ معاملہ دسمبر سے آگے نہیں جاسکتا۔ چاہے نواز شریف لاکھ مرتبہ علمِ بغاوت بلند کریں۔ہمیں بڑی شخصیات کی نہیں مضبوط اداروں کی ضرورت ہے۔ افواجِ پاکستان جیسے اداروں کی۔ خاص طور پر پولیس کی تنظیم نو انتہائی ضروری ہے شاید اس کیلئے نئی قانون سازی کرنا پڑے۔ پولیس کو صوبوں کے نہیں وفاق کے ماتحت ہونا چاہئے۔ پورے ملک میں ایک طرح کی پولیس۔ پورے ملک کی پولیس کا ایک کمانڈر۔اس کا نظام اتنا مضبوط ہو کہ ایک سپاہی کا تبادلہ کراتے کراتے وزیروں اور مشیروں کو دانتوں تلے پسینہ آ جائے۔ سپاہی سے لے کر انسپکٹر تک کی ٹریننگ افواجِ پاکستان کرے۔ تھانے کے ایس ایچ او کا دیانت دار ہونا انتہائی ضروری ہے، اس کے انتخاب کیلئے کوئی طریقہ کار وضع کیا جائے، جس طرح امریکہ میں شیرف منتخب ہوتے ہیں اسی طرح یہاں ایس ایچ او کا انتخاب ہو سکتا ہے۔ یہ پولیس اس قابل ہو کہ تمام اندرونی چیلنجز کا مقابلہ کر سکے تاکہ افواج پاکستان صرف بیرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہو۔صرف پولیس میں نہیں ہر ادارے میں کچھ پوسٹیں ایسی ہونی چاہئیں جنہیں عوام براہ راست منتخب کریں۔ عدلیہ میں بھی عوام کی شرکت ضروری ہے، دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں جج کے ساتھ جیوری جزو لازم ہے، اور جیوری میں عام لوگ ہوتے ہیں، اسی طرح برطانیہ میں جسٹس آف پیس کے نام سے عام آدمیوں سے جج کا کام لیا جاتا ہے۔

جو دوسرے ججز کے ساتھ مل کر فیصلے دیتے ہیں ۔مگر افسوس کہ ہم تو بلدیاتی اداروں کو بھی نہیں بننے دے رہے کہ کہیں اقتدار عوام تک نہ پہنچ جائے۔ یورپ میں ججوں اور جنرلوں کی اپوزیشن لیڈرز سے ملاقاتیں تو کجا حکومتی اہلکاروں سے بھی اچھی نہیں سمجھی جاتیں۔ آرمی چیف کا یہ کہنا بے شک قابلِ ستائش ہے کہ ’’فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے‘ فوج کا سیاسی عمل سے براہِ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں‘‘۔مگر بظاہر معاملات بگڑے ہوئے ہیں۔ سو وزیر اعظم، چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف کو اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ سرکاری اداروں کو سیاست سے کیسے باہر رکھا جائے۔میرے خیال میں تو عدلیہ کی طرح باقی اداروں میں بھی اپنا سربراہ منتخب کرنے کا خود کار طریقہ کار وضع کیا جائے تو واضح طور پر بہتری نظر آئے گی۔اپوزیشن کو چاہئے تھا کہ وہ نظام کی بہتری کےلئے حکومت پر دبائو ڈالتی مگر وہاں تو معاملہ بالکل الٹ ہے۔اپوزیشن نے اپنی اے پی سی میں وزیر اعظم عمران خان سے استعفیٰ طلب کیا ہے اور جو وجوہات بتائی ہیں کہ وہ نہایت کمزور ہیں۔ اب اپوزیشن باقاعدہ تحریک چلائے گی اور اگر وہ ناکام ہو گئی تو پھر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے پر غور کرے گی۔ اپوزیشن کا یہ عجیب و غریب فیصلہ پوری قوم کےلئے حیرت انگیز ہے۔ پانچ سال کےلئے عوام نے ایک حکومت کو منتخب کیا ہے۔ اپوزیشن کو پانچ سال انتظار کرنا چاہئے اور بہتر کاموں میں حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔لگتا ہے یہاں معاملہ عوام کی بھلائی کا نہیں اپوزیشن لیڈرز کا کوئی ذاتی ایجنڈا ہے، جسے وہ پورا کرنا چاہتے ہیں۔شاید ذاتی معاملات کے لئے حکومت کو دباؤ میں کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی عوام اپوزیشن کے اس ایجنڈے کو مسترد کرتے ہیں مگر وزیر اعظم عمران خان سے یہ مطالبہ ضرور کرتے ہیں کہ ہم نے ایک ایسے نئے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ جہاں کوئی شکیل الرحمٰن جرمِ بے گناہی کی سزا نہ کاٹے۔ جہاں کوئی سزا یافتہ شخص عدالت کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہ بھیجا جا سکے۔ جہاں ملاوٹ اور بدعنوانی کی سزا عبرتناک ہو۔جہاں ہر شخص کو اپنے گھر کی دہلیز پر فوری انصاف ملے۔ پلیز عمران خان پلیز جلدی کچھ کیجئے۔ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.