فیصل آباد واقعہ: خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈٰسک) نامور صحافی عمر دراز ننگیانہ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔فیل آباد میں ایک لڑکی نے اپنی دوست کو زندگی سے محروم کرکے خود بھی موت کو سینے سے لگا لیا ، لڑکی چند دن پہلے ساتھ والے گھر کی چھت پھلانگ کر مقدس کے گھر پہنچی اور اس سے تکرار شروع کر دی۔ مقدس کی والدہ

اس کی شکایت کرنے پاس ہی واقع اس کے گھر پہنچیں۔ لیکن ان کے اپنے ہی گھر میں موجود نبیلہ نے مقدس کو زندگی سے محروم کردیا ۔ واقعہ کے بعد نبیلہ وہاں سے نکل کر صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد تحصیل چک جھمرہ میں اپنے چچا کے گھر پہنچی، مگر چچا کے گھر اسے پناہ نہیں ملی اور وہاں سے اسے نکال دیا گیا۔کچھ ہی دیر بعد پولیس نے نبیلہ کو سڑک پر سے ہی گرفتار کر لیا، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ نبیلہ نے کچھ کھا رکھا تھا اور اس کی حالت بگڑ رہی تھی۔ حال ہی میں نبیلہ اور مقدس کے درمیان سماجی رابطوں کی موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ پر ہونے والی مبینہ بات چیت کے سکرین شاٹس سامنے آئے ہیں۔ ان کی اس گفتگو میں بظاہر کچھ اشارے بھی ملتے ہیں۔ایک پیغام میں مبینہ طور پر مقدس اپنی سہیلی نبیلہ کو لکھتی ہیں ’آپ کو پتہ ہے میری چار منگنیاں ٹوٹی ہیں، اگر یہ بھی ٹوٹ گئی تو اللہ کی قسم میں بہت ذلت کا سامنا کروں گی۔‘ اس پر نبیلہ لکھتی ہے کہ ’چپ کر ایسا مت بول۔‘گاؤں کے چند رہائشیوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ نبیلہ کی وجہ سے مقدس کی پہلے بھی منگنیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ ’اس کے بعد ہی مقدس کے گھر والوں نے نبیلہ پر ان کے گھر آنے اور مقدس سے ملنے پر پابندی لگا دی تھی۔‘انھوں نے بتایا کہ دونوں بچپن میں اکٹھے پڑھتی تھیں اور ان میں بہت گہری دوستی تھی۔ دونوں تقریباً پڑوسی تھیں اور نبیلہ کئی مرتبہ مقدس کے گھر رات کو بھی رک چکی تھی۔گاؤں کے دو اور افراد نے بھی ان کی اس بات کی تائید کی۔ انھوں نے بتایا کہ دونوں میں انتہائی گہری دوستی تھی۔ نبیلہ بے باک سی طبیعت کی مالک تھی۔ ‘وہ زیادہ تر لڑکوں کی طرز کا لباس پہنتی تھی اور اسے کئی مرتبہ ایسی جگہوں پر بھی دیکھا گیا تھا جہاں لڑکے اکٹھے بیٹھتے تھے۔‘گاؤں کے ایک رہائشی کے مطابق نبیلہ نہیں چاہتی تھیں کہ مقدس کی شادی ہو۔ ’جب بھی مقدس کی منگنی ہوتی، نبیلہ کوئی نہ کوئی کام ایسا کرتی تھی کہ یہ منگنی ٹوٹ جاتی۔ اس طرح اس کی تین چار منگنیاں یہ ختم کروا چکی تھی۔‘

حال ہی دوبارہ مقدس کی منگنی طے پائی تھی اور اس کے گھر والوں کو خدشہ تھا کہ نبیلہ اس کو بھی ختم کروانے کی کوشش کرے گی، اس لیے انھوں نے نبیلہ کے مقدس کے گھر آنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔گاؤں کے ایک رہائشی کے مطابق مقدس کے بھائی خصوصاً ان کا میل جول پسند نہیں کرتے تھے اس لیے انھوں نے بھی دونوں کے ملنے پر پابندی لگائی تھی۔ان کے سامنے آنے والے واٹس ایپ کے پیغامات میں ایک جگہ مقدس اسی حوالے سے نبیلہ کو لکھتی ہیں ‘پری، میں گر گئی ہوں اس کی نظر میں۔ وہ کہتا ہے تم نے میرا اعتبار توڑا ہے ۔۔۔ ساری رات اپنے رب سے پوچھا کہ میرے کتنے امتحان لے گا۔‘مقدس بظاہر اپنے بھائی کے حوالے سے بات کر رہی تھی۔ تاہم اس کے جواب میں نبیلہ نے لکھا کہ ’پلیز ایسا مت بول۔ کہہ کہ اس میں گرنے والی کیا بات ہے۔ وہ کافر تو نہیں انسان ہی ہے، بات کر لی تو کیا ہوا۔ تم مجھے اب سزا دو گے۔‘گاؤں کے رہائشی کے مطابق ۔ ’نبیلہ یہ نہیں چاہتی تھیں کہ مقدس کی شادی کسی اور سے ہو۔ وہ کئی مرتبہ یہ بات کہہ چکی تھی کہ وہ اس کی شادی کسی سے نہیں ہونے دے گی۔‘پولیس کے تفتیشی افسر ارشد چٹھہ کے مطابق تحقیقات تاحال انتہائی ابتدائی سطح پر ہیں، تاہم ان کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں آئی جس سے یہ معلوم ہو کہ نبیلہ نے مقدس کی منگنیاں تڑوائی تھیں۔ لیکن وہ اس پہلو کو بھی تحقیقات کا حصہ

بنائیں گے۔تاہم انھوں نے بھی یہ بات دہرائی کہ نبیلہ گاؤں کی دوسری لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔ ’اس کے ماں باپ انتقال کر چکے تھے اور شاید معاشرتی رویوں کی وجہ سے وہ ایسی ہو گئی ہو گی۔‘انھوں نے بتایا کہ نبیلہ لڑکوں جیسا حلیہ بنا کر رکھتی تھی اور ان جیسا لباس پہنتی تھی۔ تاہم اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں تھے کہ اس کا اٹھنا بیٹھنا بھی لڑکوں کے ساتھ تھا۔مقدس کے بھائی نے پولیس کو مقدمہ درج کرنے کے لیے دی جانے والی درخواست میں وجہ بتائی ہے کہ ’نبیلہ کا چلن ٹھیک نہیں تھا اس لیے انھوں نے اپنی بہن کو اس سے ملنے سے روکا تھا۔‘ارشد چٹھہ کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’دونوں لڑکیوں میں بہت گہری دوستی تھی جیسی دو لڑکیوں میں ہو جاتی ہے۔ لیکن ان کو ملنے سے روکنے پر وہ خوش نہیں تھیں۔’ تاہم کیا یہی بات واقعہ کی وجہ بنی یہ مزید تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو پائے گا۔انھوں نے بتایا کہ نبیلہ نے خود ہی منصوبہ بنایا اور خود ہی اس پر عملدرآمد کیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا۔واقعہ کا احوال سناتے ہوئے مقدس کی والدہ نے بتایا کہ جب نبیلہ چھت کے ذریعے ان کے گھر میں داخل ہوئی اور ان کی بیٹی سے تکرار شروع کر دی تو وہ اس کی شکایت کرنے کے لیے جلدی سے اس کے گھر گئیں۔اس واقعہ کے بعد اہل علاقہ ششدر ہیں کہ ایسے افسوسناک واقعات بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں ۔۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *