فیصل واوڈا بوکھلا گئے ، صحافی کو انوکھی آفر

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) فیصل ووڈا نااہلی کیس میں چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجا نے ریمارکس دیئے کہ فیصل واوڈا کے قومی اسمبلی نشست پر استعفے کے بعد صورت حال تبدیل ہو گئی۔انہوں نے کہاکہ فریقین کے وکلا کو ہدایت کی کہ درخواستوں کے غیر موثر ہونے پر دلائل دیں۔

الیکشن کمیشن نے سما عت6اپریل تک ملتوی کر دی ۔ الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی ۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے سماعت کی۔دریں اثناء جمعرات کو کیس کی سما عت کے دورا ن فیصل ووڈانے جا رحا نہ اور جذ باتی طر زعمل اپنایا ،کیس کی سما عت ملتوی ہو ئی تو فیصل واوڈا کمرہ عدالت میں سجدہ ریز ہوگئے۔الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے صحا فیوں کے سوال پر سخت موقف اپنایا ۔صحا فی کے اس سوال پر کہ آپ نے امریکی شہر یت کب ترک کی؟ فیصل ووڈا نے کہاکہ آپ لوگ اپنا مصالحہ لگا ئیں،خبریں چلائیں اگرمصالحہ کم پڑ جا ئے تو مجھ سے پیسے لے کر مزید شامل کریں ۔الیکشن کمیشن کو مطمئن کرنا دونوں فریقوں کا کام ہےامید ہے الیکشن کمیشن سے انصاف ملے گا۔سماعت کے دوران وکیل فیصل واوڈا نے کہاکہ فیصل واوڈا قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے چکے، ان کے خلاف تمام درخواستیں مسترد کی جائیں ، کمیشن پہلے سے ہی مائنڈ بناکر بیٹھا ہے ۔ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نےکہاکہ یہ کیا بات ہے کہ ہم مائنڈ بناکر بیٹھے ہیں ایک سال سے معاملہ زیر سماعت ہے اگر مائنڈ بناکر بیٹھے ہوتے تو کیا کیس میں اتنا وقت لیتے؟چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ واوڈا صاحب آپ کو پورا موقع دینگے ،پوائنٹ ٹو پوائنٹ بات کریں ، وکیل صاحب پہلے بول لیں یا واوڈا صاحب آپ بولیں۔ وکیل فیصل واوڈا نے کہاکہ این اے 249 سے فیصل واوڈا استعفی دے چکے ، درخواستیں غیر موثر ہوچکی ہیں ،ہم نے الیکشن کمیشن کے تینوں سوالوں کے جواب دے دیئے اب فیصل واوڈا سنیٹر منتخب ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ بار بار کہہ چکی ہے آرٹیکل (F) (1) 62 پر الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں۔ ممبر کے پی کے ارشاد قیصر نے کہاکہ ایک دفعہ کی نااہلی ہمیشہ کی نااہلی ہوتی ہے۔ سنیٹر فیصل واوڈا روسٹرم پر آگئے اور کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے میرے حلف نامہ سے متعلق الیکشن کمیشن کو تحقیقات کا کہا ہے،الیکشن کمیشن میرے حلف نامہ پر تحقیقات کرا لے ۔ میرا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے،جیسے میں نے کوئی چوری کی ہے۔

Comments are closed.