فیکٹری مالک کا ایک اور بیان سامنے آگیا

سیالکوٹ (ویب ڈیسک) سری لنکن منیجر کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی کوششیں کرنے والے ملک عدنان کا کہنا ہے کہ زدوکوب کرنے والوں میں باہر کے لوگ بھی تھے، دوسری فیکٹریوں کے لوگ بھی شامل ہوگئے تھے، کچھ گاؤں کے لوگ بھی آگئے تھے، سڑک بلاک ہوئی تو سڑک سے بھی لوگ شامل ہوگئے۔

ملک عدنان نے کہا کہ ہم میٹنگ کررہے تھے جب کال آئی کہ پریانتھا نے کسی کو ڈانٹا ہے اور لوگ ان کی طرف آرہے ہیں، پریانتھا کو بچانے کے لیے میں دیوار بن کر راستے میں کھڑا ہوگيا لیکن وہ زیادہ لوگ تھے۔ملک عدنان نے کہا کہ میں نے پریانتھا کو بچانے کی کوشش کی، اس پر ہجوم نے مجھے بھی چھت سے نیچے پھینکنے کی کوشش کی۔واضح رہے کہ پریانتھا کو بچانے کی کوشش کرنے والے دوسرے شخص کی بھی شناخت ہوگئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ رحیم یار خان کے رہائشی عدنان سولنگی نے پولیس سے رابطہ کیا ہے، عدنان سولنگی سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔جمعے کو سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو میں عدنان سولنگی ہجوم کے سامنے ہاتھ جوڑتا نظرآیا تھا۔یاد رہے کہ سری لنکن شہری کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعہ میں ملوث مزید 7 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پنجاب پولیس کے مطابق سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہونے والے سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا کو زدوکوب کرنے کے لیے چھت پر لوگوں کو اکٹھا کرنے والے ملزم سکندر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق پریانتھا کمارا کو زدوکوب کرنے والے ہجوم میں شامل ملزم راشد، ہجوم میں ملزم احمد شہزاد، پلاننگ میں ملوث ملزم زوہیب، ملزم محمد ارشاد، سبحان اور عمیر علی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

Comments are closed.