فی گاڑی 2 لاکھ روپے کا نیا ٹیکس نافذ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) صدرمملکت نے غیر رہائشی( نان ریزیڈنٹ) پاکستانیوں کے لئے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کی سہولت کے لئے ٹیکس لاز ترمیمی آرڈیننس 2021کا نفاذ کر دیا ہے۔بینکوں پر ٹیکس سال 2021سے زائد مدت کے لئے 4فیصد سپر ٹیکس میں توسیع ، مقامی طور پر تیار شدہ کاروں کے مختلف انجن کی صلاحیت پر50،000سے 200،000روپے تک

ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا جو ڈیلوری کے 90 دن کے اندر اندر فروخت کی جائیں گی۔برقی گاڑیوں اور مقامی طور پر تیار شدہ موبائل آلات پر ٹیکس میں چھوٹ کی پیش کش شامل ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ آرڈیننس کاروبار کی سہولت کے لئے نافذ کیا گیا تھا۔ ٹیکسوں کے ان اقدامات کے ریونیو اثرات کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا لیکن کچھ اقدامات جیسے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ اور بینکنگ سیکٹر پر 4 فیصد سپر ٹیکس میں توسیع کرنے سے ریوینو ملے گا ، تاہم سہولت کے اقدامات سے ٹیکسوں کے نقصانات ہوں گے۔ حکومت نے 1000 سی سی تک انجن کی گنجائش رکھنے والی گاڑیوں پر 50،000 روپے ٹیکس عائد کیا ہے۔ 1000 سی سی سے 2000 سی سی تک انجن کی گنجائش پر ایک لاکھ روپے ٹیکس اور 2000 سی سی اور اس سے زیادہ انجن کی گنجائش رکھنے والی گاڑیوں پر 200،000 روپے ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔آرڈیننس کے مطابق ، آٹھ شیڈول میں ایک نیا انٹری 71 متعارف کرایا گیا ہے،آرڈیننس کے ذریعہ ، 50 کلو واٹ بیٹری یا اس سے نیچے والی چھوٹی کاروں یا ایس یو وی کے لئے الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس کے درآمد کرنے والوں کی صورت میں اور 150 کلو واٹ بیٹری یا اس سے نیچے والی ایل سی وی کو ایک فیصد مقرر کیا گیا ہے۔نئی ترمیم کے مطابق ، دفعہ 114 اور سیکشن 181 کی ذیلی دفعہ (1) کی شق (ae) کی دفعات کا اطلاق پاکستان اوریجن کارڈ یا اوورسیز پاکستانیز کانیشنل شناختی کارڈ (این آئی سی او پی) یا FCVA یا NRVA رکھنےو الے شناختی کارڈ پر نہیں ہوگا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *