قانونی ماہرین کی آراء پر مبنی بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے خلاف صوبائی دارالحکومت لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں ’غداری‘ اور ’ریاست کے خلاف بغاوت پر اُکسانے‘ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔یہ مقدمہ بدر رشید نامی ایک شہری کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔نواز شریف کے خلاف درج ہونے والی ایف ائی آر میں غداری، ریاست کے خلاف بغاوت پر اُکسانے اور سائبر کرائم ایکٹ پیکا کی دفعات سمیت مجموعی طور پر 12 مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 120، 120 اے، 120 بی، 121، 121 اے (ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانا)، 123 اے، 124، 124 اے (غداری)، 153، 153 اے، 505 اور سائبر کرائم ایکٹ پیکا کی دفعہ دس بھی شامل ہے۔لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں نواز شریف کے خلاف درج ایف آئی آر میں درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ ’نواز شریف پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں سے مجرم قرار پائے ہیں اور انھوں نے گذشتہ ماہ 20 ستمبر کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس اور یکم اکتوبر کو اپنی پارٹی کے اجلاس میں کی گئی تقاریر میں نہ صرف ملکی اداروں کو بدنام کیا ہے بلکہ عوام کو بغاوت پر اکسایا بھی ہےسابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کے اندراج پر بی بی سی بات کرتے ہوئے قانونی ماہر اسد جمال کا کہنا ہے کہ ’ایف آئی آر میں درج دفعات بنیادی طور پر ریاست کے خلاف جرم کی ہیں اور ایسے مقدمات میں عام شہری کی درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی۔‘تاہم ان کے مطابق پاکستان میں اس قسم کے سنگین مقدمات عام شہریوں کی جانب سے جمع کروائی جانے والی درخواستوں کی بنیاد پر درج کیے جانے کی روایات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے یا نہیں اس حوالے سے قانون میں ابہام ہے تاہم قانون میں یہ لکھا ہے کہ یہ دفعات عدالت کے اختیارِ سماعت میں نہیں آتیں۔اسد جمال کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ملک کی عدالتیں دو قسم کی رائے رکھتی ہیں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ عدالت کی سماعت کے دائرہ اختیار میں نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ایف آئی درج نہیں ہو سکتی۔تاہم ایسے فیصلے بھی موجود ہیں جن میں عدالت نے یہ کہا ہے کہ عام شہری کی درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی کیونکہ کسی ایف آئی آر کا مطلب ہے کہ معاملہ عدالت کے لیے سماعت کے قابل ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ’اصولاً ان دفعات کے تحت مقدمات کے اندراج کے لیے ریاست کے ذمہ دار ادارے سے اجازت لینا ضروری ہے۔‘اسد جمال کے مطابق اس طرح ایک عام شہری مقدمے کے لیے درخواست دے سکتا ہے تاہم اس کو متعلقہ ادارے کو بھجوایا جانا ضروری ہے اور اس کے بعد ریاست اگر سمجھے کے الزامات اس نوعیت کے ہیں تو ریاست کے خلاف جرائم کے قانون کے تحت کارروائی کر سکتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اسی طرح سائبر کرائم ایکٹ پیکا کے تحت مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے بھی پہلے مجسٹریٹ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اسد جمال کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے سے اس قسم کے مقدمات دیکھنے میں آ رہے ہیں جو عام شہریوں کی طرف سے درخواست پر درج کیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد آواز اور آزادی رائے کو دبانا ہے۔‘

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیے جانے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آئین کی بات کرنا، عوامی مسائل کو اجاگر کرنا بغاوت ہے تو ہر روز بغاوت ہو گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی وزرا میں ہمت ہے تو بدر بشیر کا سہارا نہ لیں، خود سامنے آئیں، وزیر داخلہ اپنے نام سے مقدمہ درج کروائیں، مسلم لیگ ن ان مقدمات کا سامنا کرے گی۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’اگر اپنے حق کے لیے بات کرنا بغاوت ہے تو ہر روز یہ بغاوت ہو گی، اگر حکومت کو گھر بھیجنے کی بات کرنا غداری ہے تو ہر روز یہ بغاوت ہو گی۔‘ان کا کہنا تھا شاید ملک میں عوامی مسائل ختم ہو گئے ہیں اس لیے وفاقی وزرا چار پانچ روز سے پریس کانفرنسز کر رہے ہیں۔ انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کارکردگی سے بات کرتی ہے، گالیوں سے بات نہیں کیا کرتی۔ وفاقی ورزا سے کہتا ہوں کہ سیاسی میدان میں مقابلہ کرنا ہے تو آؤ۔‘اس سے قبل مسلم لیگ کے صدر اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف کے خلاف مقدمے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’نواز شریف پر غداری کے مقدمے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔‘جبکہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’جس شخص نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اس پر غداری کا مقدمہ افسوسناک ہے۔‘جبکہ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا کرپشن کا بیانیہ ناکام ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غداری اور بغاوت کے مقدمے حکومت کے آخری داؤ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور کارکنان کو محب وطنی کے لیے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔عظمیٰ بخاری نے ماضی کے تلخ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو بھی غدار قرار دیا گیا تھا۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *