قانونی نکتہ سامنے رکھ دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پی ڈی ایم پر ن لیگ کے قانون فہموں کا اثر ہونے لگا ہے ،مریم نواز کی طرح اکثر رہنماوں کو لگتا ہے فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کالعدم قرار پا جائے گی۔معاملہ قانونی ہے اس لئے جذبات کو تھوڑا دور رکھ

کر دیکھتے ہیں کہ اس معاملے کا نتیجہ ممکنہ طور پر کیا برآمد ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سابق رکن اسمبلی حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف دائر پٹیشن میں کہا تھا کہ عمران خان نے الیکشن کمشن کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈز وصول کرنے کے بارے غلط بتایا جو پولیٹکل پارٹیز آرڈر 2002ء کی خلاف ورزی ہے‘ حنیف عباسی کے وکیل نے سپریم کورٹ میں کچھ غیر ملکی افراد کی فہرست بھی فراہم کی جنہوں نے مبینہ طور پر پی ٹی آئی کو فنڈز دیے۔ حیرت کی بات ہے کہ کسی نے یہ حقیقت اجاگر نہیں کی کہ PPO’2001ء کے آرٹیکل 6(3) کے تحت کسی فرد سے چاہے وہ غیر ملکی ہو‘ فنڈز لینا قانون کی خلاف ورزی نہیں۔ پولیٹکل پارٹیز رولز 2002ء کے ضابطہ 4کے تحت ہر سیاسی جماعت پر لازم ہے کہ وہ اپنے اکائونٹس فارم آئی کے مطابق رکھے جس میں آمدن‘ اخراجات‘ فنڈز کے ذرائع‘ اثاثے ‘ قرض وغیرہ کی تفصیلات درج ہوں‘ یہ تفصیلات ہر مالی سال کے اختتام کے 16روز کے اندر الیکشن کمیشن کو جمع کرائی جائیں۔ ان حسابات کی جانچ چارٹرڈ اکائونٹنٹ سے ہو۔PPO 2002 اور 2002ء PPRکی تمام شقوں کو ملا کر پڑھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ الیکشن کمشن کو 2002ء PPR‘کے ضابطہ 6کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ فارن فنڈنگ کے معاملے کی تحقیقات کر سکے تاہم اس کی طاقت یہاں تک ہے کہ وہ غیر قانونی ثابت ہوئی رقوم کو ریاست کی ملکیت قرار دے کر ضبط کرنے کا حکم دے سکے۔ کسی سیاسی جماعت کو تحلیل کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیں۔ یہ کام صرف وفاقی حکومت کر سکتی ہے۔ 2002ء PPOکے آرٹیکل 15کے تحت سیاسی جماعت کی تحلیل کے ضمن میں اگر وفاقی حکومت مطمئن ہو کہ کوئی سیاسی جماعت غیر ملکی امداد سے پلنے والی جماعت ہے یا یہ پارٹی پاکستان کی سلامتی کے خلاف کام کرنے یا بدامنی کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے تو وہ سرکاری گزٹ میں سیاسی پارٹی کو تحلیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے۔ وفاقی حکومت یہ فیصلہ کرنے کے 15دن کے اندر معاملہ سپریم کورٹ کے سپرد کر سکتی ہے جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ سپریم کورٹ وفاقی حکومت کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے سیاسی جماعت کو تحلیل کرنے کی توثیق کر دے تو ایسی جماعت تحلیل ہو جائے گی۔ اس وقت وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ فارنگ فنڈنگ کیس کے حوالے سے بہت زیادہ خرابی ثابت بھی ہو جائے تو اس کی زیادہ سے زیادہ سزا الیکشن کمشن یہ دے سکتا ہے کہ ممنوعہ قرار دیے گئے فنڈز کو ریاست کی ملکیت قرار دے کر ضبط کر لیا جائے۔ پی ٹی آئی نے اگر اداروں کی جگہ غیر ملکی افراد سے فنڈز لئے ہیں تو اسے 2002ء PPO‘کے آرٹیکل 6(3) کو مدنظر رکھتے ہوئے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔پی ڈی ایم کے ہاتھ اس بار بھی کچھ نہیں آئے گا ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.