قران پاک کو چوم کر سینے سے لگا لیا اور بچوں کو انکی ماؤں کے حوالے کردیا ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی شیر علی خالطی بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔رات کے پچھلے پہر کپکپاتے ہاتھوں میں قرآن اٹھائے سہمی ہوئی دو ادھیڑ عمر خواتین کچے کے پُرپیچ راستوں پر ڈگمگاتے قدموں مجرموں و لٹیروں کی کمین گاہوں کی جانب گامزن تھیں۔ ایک ایسے علاقے میں

جہاں دن کی روشنی میں بھی عام آدمی جاتے ہوئے کتراتے ہیں یہ خواتین قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مایوس ہو کر خود ہی اپنے اٹھا لیے گئے گم شدہ بچوں کی زندگیاں بچانے نکلی تھیں۔ان خواتین کے ساتھ دو ادھیڑ عمر مرد رشتہ دار اور مجرموں کا ایک سہولت کار بھی تھا جو انھیں ان بھول بھلیوں سے گزارتا لے جا رہا تھا۔ان خواتین کے ذہن میں ایک طرف یہ سوال ہے کہ ان کے بچے کس حالت میں ہوں گے تو دوسری جانب اپنی جان کا بھی خدشہ کہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں کیونکہ لٹیروں کی جانب سے تاوان کے مطالبے کے جواب میں ان کے ہاتھوں میں صرف اور صرف قرآن اور دلوں میں یہ امید تھی کہ شاید ان کی التجاؤں کے بدلے خطرناک لٹیرے ان کے بچوں کو رہا کر دیں۔ان میں سے ایک خاتون نے اس صحافی کو بتایا کہ چند ماہ قبل ایک شام ان کے بچوں سولہ سالہ مصطفی اور اٹھارہ سالہ اختر کو اس وقت تحصیل صادق آباد کے تھانہ بھونگ کی حدود سے اٹھا لیا گیا جب وہ مزدوری کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔پولیس کی ہیلپ لائن پر کال کی گئی لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی مجرم ان کی حدود سے دور ضلع راجن پور میں داخل ہو چکے تھے۔ اہلخانہ نے دونوں اضلاع رحیم یار خان اور راجن پور کے پولیس افسران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے اُن کی داد رسی نہیں کی۔ خاتون کے مطابق اپنے بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے انھوں نے ایف آئی آر کٹوانے کی بجائے ان مجرموں کے سہولت کاروں کے

ذریعے اُن سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔اور اب کچھ ہی دیر میں اُن کا سامنا ان مجرموں سے ہونے والا تھا جنھوں نے ان کے بچوں کو اٹھا لیا تھا۔خدشات اور توقعات سے گھری دونوں خواتین گنے کی گھنی فصلوں، قدرتی طور پر اُگے جنگلات اور چھوٹے ندی نالوں سے گزرتی ہوئی مجرموں کی پناہ گاہ پر پہنچیں تو انھیں چارپائی پر بیٹھنے کو کہا گیا۔ اُسی وقت ایک مجرم کی گرجدار آواز نے انھیں جیسے خواب سے جگا دیا۔’کتنی رقم لائے ہو؟‘ سوال ہوا تو دونوں خواتین نے سہمے ہاتھوں دوپٹے میں لپٹے قرآن آگے کر دیے۔ ان کے مرد رشتہ دار بھی مجرم کے پیروں سے لپٹ گئے۔ خاتون بتاتی ہیں کہ ہم نے اس موقع پر مجرموں کو بتایا کہ وہ غریب لوگ ہیں اور ان کے بچے مزدوری کرتے ہیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ہم نے روتے گڑگڑاتے ان کو قرآن کا واسطہ دیا کہ ان کے بچے جو ان کے گھر کا سہارا ہیں ان کو چھوڑ دیا جائے۔مجرموں کے چہروں پر وڈیروں جیسی رعونت دیکھ کر چند لمحے کے لیے خاتون کو خیال آیا کہ کہیں انھوں نے یہاں آ کر غلطی تو نہیں کی۔ اتنے میں مجرموں کے سرغنہ نے خواتین کے ساتھ آئے مردوں کو انھیں چپ کروانے کا کہا اور اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ خواتین کے ہاتھوں سے قرآن پاک لے لیں۔ خاتون کے مطابق جب انھوں نے ان مجرموں کو قرآن پاک کو چومتے دیکھا تو اُن کے دل میں امید کی کرن جاگی اور چند ہی لمحوں میں یہ امید ان خواتین کے بیٹوں کی شکل میں سامنے آگئی جن کی رہائی کا حکم جاری کر دیا گیا تھا۔سولہ سالہ مصطفی اور اٹھارہ سالہ اختر کو سامنے لایا گیا تو یہ بھی ایک دردناک منظر تھا۔ دونوں کے سر کے بال، داڑھی اور مونچھیں مونڈھے جا چکے تھے لیکن بچوں کو سامنے دیکھ کر مائیں دیوانہ وار ان کی جانب لپکیں اور انھیں لے کر کچے کے علاقے سے واپس آ گئیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.