قصوری خاندان کے ساتھ پیش آنے والا وہ واقعہ جس نے پاکستان کی تاریخ بدل دی

لاہور (خصوصی رپورٹ) آج سے ٹھیک 47 برس قبل، یعنی 10 اور 11 نومبر 1974 کی درمیانی شب، ایک ایم 2 کار لاہور کے علاقے شادمان کالونی میں ایک گھر کے باہر بنی پارکنگ سے سڑک پر نمودار ہوئی۔اس گاڑی میں چار لوگ سوار ہیں جو شادمان کالونی سے ماڈل ٹاؤن

میں واقع اپنے گھر کی جانب طرف جا رہے ہیں۔ رات کے تقریبا ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہو چکا ہے اور ہر طرف ہُو کا عالم اور اندھیرا ہے۔نوجوان احمد رضا قصوری اس کار کو ڈرائیو کر رہے ہیں جبکہ ان کی برابر کی نشست پر اُن کے والد یعنی نواب محمد احمد خان قصوری بیٹھے ہیں۔ عقبی نشستوں پر احمد خان قصوری کی اہلیہ اور اہلیہ کی ہمشیرہ موجود تھیں ۔یہ سب لوگ شادمان کالونی میں تحریک استقلال گجرات کے ضلعی صدر بشیر حسین شاہ کی شادی کی تقریب میں شرکت سے واپس لوٹ رہے ہیں۔نواب محمد احمد خان کے لیے آج کی تقریب اس لحاظ سے بھی خاص رہی کیونکہ اس میں قوالی کا اہتمام بھی تھا۔ نواب احمد خان اگرچہ مغربی طرز زندگی کے دالداہ تھے لیکن آج انھوں نے قربان حسین قوال سے بلھے شاہ کا کلام ‘میرا پیا گھر آیا’ دومرتبہ فرمائش کر کے سُنی۔جیسے ہی گاڑی شادمان کالونی سے کچھ فاصلے پر واقع شاہ جمال کے راؤنڈ آباؤٹ (گول چکر) پر پہنچتی ہے تو اس پر تین اطراف سے کچھ نامعلوم لوگ دھاوا بول دیتے ہیں۔کار میں سوار تمام افراد اس اچانک دھاوے اور گھن گرج سے سٹپٹا جاتے ہیں، گاڑی چھلنی ہو جاتی ہے ۔ احمد رضا قصوری گاڑی روکنے کی بجائے سر نیچے کر کے اسے چلاتے رہتا ہیں تاکہ اس میں سوار تمام افراد کو اس جگہ سے دور لے جائیں۔ دھاوا بولنے والے چلتی گاڑی کو پیچھے سے بھی نشانہ بناتے رہے، لیکن گاڑی آگے بڑھ گئی۔اسی اثنا میں ڈرائیو کے

ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے محمد احمد خان قصوری گاڑی چلانے والے اپنے جوان بیٹے کے کندھے پر آن گرتے ہیں۔ بیٹے کا ہاتھ اچانک باپ کو چھوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ محمد احمد خان گھائل ہو چکے ہیں ۔ بیٹے پر غم کا شدید دورہ پڑا اور اس ن اونچی آواز سے رونا شروع کردیا ۔عقبی نشست پر بیٹھی پریشان حال ماں بیٹے کو تنبیہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے حواس پر قابو رکھے اور گاڑی فورا گلبرگ میں واقع یونائیٹڈ کرسچیئن ہسپتال لے چلے۔ڈرائیور کار دوڑاتا ہوا مسلسل گاڑی کے شیشے سے پیچھے دیکھتا رہا کہ وہ لوگ اُن کا تعاقب تو نہیں کر رہے۔ ایف سی کالج کا پُل عبور کر کے گاڑی گلبرگ میں واقع اُس ہسپتال میں پہنچ جاتی ہے جس کے متعلق ماں نے تاکید کی تھی۔ہسپتال پہنچ کر نوجوان احمد رضا قصوری سب سے پہلا فون اپنے بڑے بھائی کو اس واقعہ کی اطلاع دینے کے لیے کرتے ہیں، دوسرا فون ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر کو اور تیسرا فون اس وقت کے ایس ایس پی لاہور اصغر خان کو۔اس وقت تقریباً رات کے پونے ایک بج چکے ہیں۔تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر آ جاتے ہیں اور محمد احمد خان کی جان بچانے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے اور اسی دوران تین، چار سو پولیس اہلکاروں کی ٹرکوں میں سوار نفری بھی ہسپتال پہنچ جاتی ہے۔ ایس ایس پی لاہور، ڈی آئی جی لاہور سردار محمد عبدالوکیل خان اور ڈپٹی کمشنر لاہور بھی اطلاع ملنے پر فوری ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ایک طرف زندگی بچانے کی کوشش ہو رہی ہے اور دوسری طرف

پولیس اہلکار احمد رضا خان کے پاس جاتے ہیں تاکہ ابتدائی معلومات لے کر قانونی کارروائی شروع کی جا سکے۔اُس وقت کے ایس ایچ او تھانہ اچھرہ عبد الحئی نیازی نے ایف آئی آر کے لیے درخواست لکھنا شروع کی۔ ابتدائی معلومات کے اندارج کے بعد جب بات ’آپ کو کسی پر شک ہے‘ کی ہوئی تو احمد رضا قصوری نے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام لیا۔انھوں نے ایس ایچ او سے کہا کہ دراصل یہ کام وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کروایا ہے ۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام سُن کر ایس ایچ او کے ہاتھ سے پینسل نیچے گر گئی اور وہ چونک کر کہنے لگا کہ ایف آئی آر وزیر اعظم پر درج کروانی ہے آپ نے؟ جواب ملا: جی ہاں۔احمد رضا قصوری بولے ’کیونکہ وہ (بھٹو) مجھ پر پہلے بھی ایسی کوششیں کروا چکے ہیں۔ جب ذمہ دار وہی ہیں تو پھر پرچہ بھی انھی کے خلاف ہو گا۔‘احمد رضا قصوری نے اس رات پیش آنے والے واقعات کو یاد کرتے ہوئے اس رپورٹ کے مصنف شاہد اسلم کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں بتایا ’کچھ لمحے بعد میں نے دوبارہ عبارت لکھوانا چاہی، تو وہ (ایس ایچ او) باہر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد ایس ایس پی اور ڈی آئی جی دونوں آ گئے، کہنے لگے کے آپ اپنے ارد گرد دیکھیں جس نے نواب صاحب کے خلاف یہ سب کیا ہو، آپ سیدھا وزیر اعظم کا نام لے رہے ہیں۔’انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے ارد گرد نظر دوڑا چکے ہیں

لیکن کوئی نہیں ملا جو یہ کروا سکتا ہو، اس لیے ایف آئی آر کا متن وہی ہو گا جو وہ بتائیں گے اور اگر پولیس نے ایسا کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تو وہ کل صبح ہائی کورٹ کی مدد لیں گے۔احمد رضا قصوری کے ایک ماموں، جو کہ فوج میں بریگیڈیئر تھے، بھی ہسپتال پہنچ چکے تھے، پولیس والوں نے انھیں بھی بھیجا تاکہ وہ قصوری صاحب کو سمجھائیں لیکن وہ بضد رہے کہ ان کے والد کے ساتھ ہوئے واقعہ کا ذمہ دار بھٹو ہے۔تقریبا صبح کے تین بج چکے تھے اور ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ ڈاکٹر نے آ کر احمد رضا خان کو بتایا کہ ان کے والد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔وہ بتاتے ہیں کہ ’میں یہ سن کر شدید غم و غصے میں آگیا اور آپے سے باہر ہو گیا۔ پاس ہی پڑی ایک لمبی لکڑی اٹھا لیتے ہیں اور ایس ایس پی کو جو کہ یونیفارم میں تھا اس کوتین، چارجڑ دیے۔ اس کے بعد ڈی آئی جی کو بھی بھاگتے ہوئے پیچھے سے ایک رسید کر دیا، وہ بھی گرتا ہوا پولیس اہلکاروں کے پیچھے جا چھپا۔‘دوبارہ بات چیت کے بعد بالآخر پولیس نے کہہ دیا کہ وہ درخواست لکھ کر دے دیں تاکہ وہ ایف آئی آر درج کریں۔ تقریبا رات تین بج کر 20 منٹ پر احمد رضا قصوری نے اپنے ایک ہمسائے کی مدد سے درخواست تحریر کی اور خود پر ہوئے ماضی کے اٹیکس کا ذکر بھی کیا اور اپنے والد کے ساتھ ہونے والے خوفناک واقعہ کا الزام وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر لگایا۔پھر بالآخر اسی سال فروری میں ذوالفقار علی بھٹو کو انھی کی پارٹی کے ایک ایم این اے کے والد کے 302 کے کیس کی سازش کے الزام میں ایک مقدمہ میں نامزد کر دیا گیا ۔(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.