قومی اسمبلی کے 25 سے 30 گھوڑے آنے والے دنوں میں قوم کو کیا سرپرائز دینے والے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار و سینئر صحافی قیوم نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔شریف خاندان کے دو اہم مرکزی لیڈر میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف عدالتوں سے سزاؤں کی وجہ سے اگلے انتخابات لڑنے کے اہل نہیں رہے۔ میاں شہباز شریف کو ابھی تک کسی عدالت سے سزا نہیں

ہوئی البتہ لندن میں ہونے والی منی لانڈرنگ کے سلسلے میں انکوائری ان کے سر پر تلوار کی طرح لٹک رہی تھی۔ تحریک انصاف کی یہ خواہش تھی کہ میاں شہباز شریف بھی کسی نہ کسی مقدمے میں نااہل قرار پائیں تاکہ سیاسی میدان ان کے لئے خالی ہوجائے اور وہ اگلے انتخابات بھی جیت جائیں۔ اسی خواہش کے پیش نظر حکومت نے 2019 میں برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کو ایک درخواست دی کہ میاں شہباز شریف اور سلمان شہباز نے منی لانڈرنگ کی ہے اور پاکستان سے پیسے چوری کرکے لندن اور یو اے ای کے مختلف بینکوں میں جمع کرا رکھے ہیں۔ حکومت پاکستان کی اس درخواست کے بعد نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز شریف اور سلمان شہباز کے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے تھے جس کے بعد تحریک انصاف کے لیڈروں نے شادیانے بجانے شروع کر دیے تھے اور یہ دعائیں کرتے رہے کہ شہباز شریف برطانوی عدالت سے منی لانڈرنگ کے سلسلے میں سزا ملنے کے بعد نا اہل ہو جائیں ۔ اس انکوائری کی پیروی نیب اور ایف آئی اے دونوں مل کر رہے تھے۔ تحقیقات کا یہ سلسلہ 17 ماہ تک چلتا رہا جسے پاکستان برطانیہ کے علاؤہ یو اے ای تک بڑھا دیا گیا ۔ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے عدالت میں رپورٹ پیش کی کہ شہباز شریف اور سلمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے کوئی ثبوت نہیں مل سکے۔ برطانوی عدالت نے اس رپورٹ کے بعد سلمان شہباز کے دو منجمد بینک اکاؤنٹس وا گزار کر دیے ۔ یہ خبر شریف خاندان اور خاص طور پر

میاں شہباز شریف کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی جبکہ حکومت پر بجلی بن کر گری۔ برطانوی عدالت کے فیصلے نے پاکستان کے نظام احتساب پر سنجیدہ سوال اْٹھا دیے ہیں۔ میاں شہباز شریف نے اللہ تعالی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے برطانوی عدالت کے فیصلے کو اپنے لئے کلین چٹ قرار دیا ہے جبکہ مسلم لیگ نون کے مرکزی لیڈر نے جو آج کل برطانیہ میں مفرور ہیں ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ برطانوی عدالتیں جو فیصلے کرتی ہیں ان کو پوری دنیا مانتی ہے۔ میاں نواز شریف کے سخت ردعمل سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ “ووٹ کو عزت دو “کے بیانیہ پر آج بھی قائم ہیں اور سمجھتے ہیں ان کا یہ بیانیہ ان کی جماعت کو اگلے انتخابات میں کامیابی دلا سکتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ترجمان ڈیمیج کنٹرول کے لیے مختلف قسم کے بیانات جاری کر رہے ہیں ان کا موقف یہ ہے کہ برطانوی عدالت نے میاں شہباز شریف کو معصوم اور بے گناہ قرار نہیں دیا۔ راقم لندن میں تین سال جلاوطن رہا ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ لندن پوری دنیا کے مشکوک کردار کے حامل بااثر افراد کے لیے محفوظ جنت ہے۔ اس سلسلے میں الطاف حسین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ میاں نواز شریف کو بھی عدالتوں نے مفرور قرار دے رکھا ہے اور ان کی جائیدادیں بھی قرق کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے سفارتی دباؤ کے باوجود برطانیہ ان کو پاکستان واپس بھیجنے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔ راقم نے امریکہ اور

برطانیہ کے تیس سالہ ڈی کلاسیفائیڈ پیپرز کا مطالعہ کیا اور ان پیپرز کو خفیہ پیپرز کے نام سے کتابی صورت میں مرتب اور شائع بھی کیا۔ ان خفیہ پیپرز کی روشنی میں پورے یقین اور اعتماد سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ آج بھی پاکستان کے اندرونی حساس معاملات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ امریکہ ہرگز نہیں چاہتا کہ پاکستان جیسا جنوبی ایشیا کا اہم ترین سٹریٹیجک ملک جو ایٹمی صلاحیت بھی رکھتا ہے مکمل طور پر چین کی گود میں چلا جائے۔ وہ پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ امریکی سینٹ میں پاکستان کے خلاف قرارداد بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ نیوزی لینڈ اور برطانوی کرکٹ ٹیم کے پاکستانی دورے کا التوا اور اب برطانوی عدالت کا میاں شہباز شریف اور سلمان شہباز کے حق میں فیصلہ ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں۔ اگر عمران خان کی حکومت عوام میں مقبول ہوتی تو برطانوی عدالت کا فیصلہ مختلف بھی ہو سکتا تھا۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے کے انتخابات نے عمران خان کی مقبولیت کو سخت سیاسی دھچکا لگایا ہے۔ ان انتخابات کے بعد میاں شہباز شریف کی پاکستان کی سیاسی شطرنج میں اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ برطانوی عدالت کے فیصلے نے ان کی سیاسی اہمیت کو دوگنا کردیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے اندر جو بے چینی اور اضطراب پایا جاتا تھا وہ اب ختم ہو جائے گا۔ عمران خان الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول میں رکھنے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں مگر سوشل میڈیا ان کو

ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاکستان کی ریکارڈ توڑ مہنگائی نے ہر گھر کو متاثر کر رکھا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے اب عوام نے عمران خان کے خلاف بڑی سخت زبان بولنا شروع کر دی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر بلاول بھٹو پہلے ہی اگلے انتخابات میں وزیراعظم بننے کے لیے پوری جدوجہد کر رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف کے تعلقات اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ انکی گورننس کی صلاحیتوں کی معترف رہی ہے۔ افغانستان میں تالبان کی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کو مضبوط قیادت کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان کی سیاسی شطرنج میں آج بھی پنجاب کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ وہ پنجاب کے عوام میں غیر مقبول ہو جائے۔ قومی اسمبلی کی 25 سے 30 نشستیں اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ میں ہیں ۔ اگلے انتخابات میں نئی حکومت کا فیصلہ یہی پچیس تیس” انتخابی گھوڑے” کریں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگلے آنے والے ایک سال کے دوران پاکستان کے حالات کیا کروٹ لیتے ہیں اور اگلے انتخابات کے بعد بلاول بھٹو اور میاں شہباز شریف میں سے کون خوش قسمت ثابت ہوتا ہے اور پاکستان کا وزیراعظم بنتا ہے۔ پاکستان کی سیاست چونکہ اصولوں کی بجائے مکروفن اور دھونس دھاندلی پر مبنی ہے اس لیے پاکستان کی سیاست کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جب تک عوام جاگ نہ جائیں” چھڑی اور گاجر” اور “میوزیکل چیئر ” کا سیاسی کھیل یوں ہی چلتا رہے گا۔

Comments are closed.