لائسنس کیس کا ذمہ دار دراصل کون ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) کے سوالنامے کے تناظر میں جمع کرائے گئے جواب میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے موقف اپنایا کہ نہ تو وہ اور نہ ہی پنجاب کے چیف سیکریٹری یا ان کے پرنسپل سیکرٹری کا اس لائسنس کی منظوری میں کسی بھی طرح کا کردار ہے۔

نامور صحافی طارق بٹ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔لائسنس 19جنوری 2019 کو جاری کیا گیا تھااس حوالے سے مئی میں اسی سال ایک خبر سامنے آئی تھی جس کے بعد ایکسائز سیکریٹری نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے یہ لائسنس منسوخ کردیا تھا۔ تاہم لائسنس وصول کرنے والوں نے اسے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور اسے بحال کروالیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت انٹرا کورٹ اپیل میں چلی گئی ہے۔ گزشتہ ماہ گوندل نے وزیر اعلیٰ کے خلاف اہم گواہ بننے کیلئے نیب میں درخواست داخل کی تھی۔انہوں نے نیب کو بتایا کہ انہیں متعدد بار پرنسپل سیکریٹری کی جانب سے بلایا گیا اور وزیر اعلیٰ کے احکامات پنچائے گئے کہ لاہور ہوٹل کو یہ لائسنس جاری کیا جائے۔ نیب کو دئیے گئے ان کے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دفتر وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا تھا کہ لائسنس کی منظوری پالیسی اور قواعد کے خلاف ہوگی جیسا کہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سیز) مکمل نہیں۔اپنے جواب میں بزدار نے دلیل دی کہ ایسے لائسنس جاری کرنا کا اختیار قانون کے تحت ایکسائز ڈائریکٹر جنرل کے پاس ہے اور وزیر اعلیٰ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں گیارہ لائسنس جاری کئے گئے جن میں سے دو ایکسائز چیف اور دو گورنر کی جانب سے جاری کئے گئے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.