لائیو ٹی وی شو میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا عملی تجربہ ۔۔۔۔۔

کراچی (ویب ڈیسک)وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ پرانے نظام سے فائدہ اٹھانے والے انتخابا ت میں ای وی ایم کا استعمال نہیں چاہتے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعال سے دھاندلی ممکن نہیں ہے ،نہ کوئی ووٹ مسترد ہوگا نہ مشین ٹیمپر ہوسکتی ہے۔ وہ نجی ٹی وی چینل

کے پروگرام میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں ن لیگ کے سینئر رہنما احسن اقبال اور پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھربھی شریک تھے۔پروگرام میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا عملی مظاہرہ بھی کر کے دکھایاگیا، اس موقع پر اپوزیشن رہنما احسن اقبال اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مشین کی افادیت اور استعمال سے متعلق سوالات اور اعتراضات بھی پیش کیے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر پہلے الیکشن کمیشن کو پریزنٹیشن دے، پاکستان میں انتخابی عمل کا مسئلہ قوانین کا نہیں نظام کا ہے، ریاستی مشینری غیرجانبدار ہو تو موجودہ الیکشن قوانین کے تحت بھی بہترین الیکشن کروایا جاسکتا ہے، ای وی ایم میں چپ بدل دی جائے تو وہ دوسرے طریقے سے کام شروع کردیں گی،یہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں نہیں دھاندلی کی مشینیں ہیں۔مصطفیٰ نواز کھوکھرنے کہا کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ پری پول دھاندلی ہے، الیکٹ ایبلز کو ایک مخصوص جماعت میں شامل کروادیا جاتا ہے اسے کیسے روکیں گے، وزیراعظم پاکستان کا فون ہیک ہوسکتا ہے تو ای وی ایم بھی ہیک ہوسکتی ہیں۔وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نےکہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کیلئے پہلی کمیٹی 2010ء میں پیپلز پارٹی کے دور میں بنی تھی، ن لیگ کی حکومت نے 2017ء میں انتخابی اصلاحات کمیٹی بنائی،دونوں کمیٹیوں کی سفارشات میں انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال کی بات تھی، ہماری بنائی گئی الیکٹرانک ووٹنگ مشین یوزر فرینڈلی ہے، انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ کے ساتھ پیپر بیلٹ بھی استعمال کیا جائے گا، ای وی ایم کے ذریعہ ووٹنگ میں کوئی ووٹ مسترد نہیں ہوگا اس لئے دھاندلی ممکن نہیں ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین ٹیمپر نہیں ہوسکتی اسے کھولنے کی کوشش بھی کی گئی تو کام کرنا چھوڑ دے گی، آر ٹی ایس ہمارے نہیں ن لیگ کی حکومت میں بنایا گیا تھا۔

Comments are closed.