لاپتہ افراد کے ذمہ دار وزیراعظم اور کابینہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ لاپتا شہریوںکی بازیابی کی ذمہ داری وزیراعظم اور وفاقی کابینہ پر آتی ہے، کیوں نہ ریاست کی بجائے معاوضے کی رقم وزیراعظم اور کابینہ ارکان ادا کریں؟ ہماری آدھی زندگی غیر جمہوری حکومتوں میں گزری،

یہ انہی کا کیا کرایا ہے،لاپتا شخص کی بازیابی کیلئے ریاست کا ردعمل غیر موثر ہےریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے مگر وہ کہیں نظر نہیں آ رہی، کوئی بھی متاثرہ شخص آئے کہ اسکا کوئی عزیز لاپتا ہو گیا ہے تو یہ ریاست کی ناکامی ہے۔ جبکہ شیریں مزاری نے عدالت کو بتایا کہ ہماری حکومت جبری گمشدگی کو سنگین جرم سمجھتی ہے، جمہوریت میں کسی کو لاپتہ کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر نے لاپتا صحافی و بلاگر مدثر نارو کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار کی جانب سے عثمان وڑائچ ایڈوکیٹ پیش ہوئے تاہم ایمان مزاری بیماری کے باعث پیش نہ ہو سکیں۔وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شیریں مزاری صاحبہ، آپ کو اس لیے زحمت دی کہ ریاست نظر نہیں آ رہی، ملک میں جبری گمشدگیوں کا رجحان ہے، کسی کا لاپتا ہو جانا انسانیت کیخلاف جرم ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم اور کابینہ ارکان لوگوں کی خدمت کیلئے ہیں، لاپتا شخص کی بازیابی کیلئے ریاست کا ردعمل غیر موثر ہے، ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے مگر وہ کہیں نظر نہیں آ رہی، کوئی بھی متاثرہ شخص آئے کہ اسکا کوئی عزیز لاپتا ہو گیا ہے تو یہ ریاست کی ناکامی ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ آپ نے پہلے بھی قیدیوں کے معاملے پر بلوایا تھا جبری گمشدگیوں کا معاملہ ہمارے منشور میں تھا، ہم نے اس بارے میں قانون سازی کی ہے، سینیٹ میں جلد بھجوائی جائیگی، وزیراعظم بننے سے پہلے بھی عمران خان کا اس معاملے پر واضح مؤقف رہا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ ریاست کی طرف سے کسی کو اٹھا لینا انتہائی سنگین جرم ہے۔

Comments are closed.