لاہور سے اہم خبر

لاہور(ویب ڈیسک )لاہور میں تین گروپوں میں عرصہ دراز سے چلی آنے والی خاندانی مخالفت اب صلح میں بدل گئی ہے ، تمام گروپ ایک دوسرے کے 25افراد کوزندگی سے محروم کر چکے ہیں جبکہ چوتھے جٹ گروپ نے صلح کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے

لکھوڈیر میں 22 سال پہلے شروع ہونے والی خاندانی مخالفت بالآخر صلح میں بدل گئی ۔ مخالفت کا آغاز نورا کشمیری کو زندگی سے محروم کیے جانے سے شروع ہوا جسے بابر سہیل بٹ نےزندگی س محروم کیا تھا جس کے بعد نورا کشمیری گروپ اور بابر سہیل بٹ گروپ کے درمیان شدید مخالفت کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ دونوں کی مخالفت میں دو اور گروپ شامل ہو گئے ، جٹوں کے گروپ نے نورا کشمیری گروپ جبکہ ٹیپو ٹرکاں والا گروپ نے بابر سہیل گروپ کا ساتھ دینا شروع کر دیا ، چاروں گروپس کی مخالفت میں 25افرادکی جانیں گئیں ۔ جن کے مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہیں، علاقہ کے معززین اور دوستوں نے دونوں گروپس میں صلح کروا ئی ہے ، بابر سہیل بٹ گروپ اور نورا کشمیری بٹ گروپ آپس میں رشتہ دار بھی ہیں، دوسال پہلے لکھوڈیر کے علاقے میں بابر سہیل بٹ کو زندگی سے محروم کر دیا گیا تھا جس کے بعد یہ مخالفت مزید بڑھ گئی تھی، بابر سہیل بٹ لاہور میں پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری بھی تھے ، تین گروپوں نے آپس میں صلح کرلی ہے جبکہ جٹوں کے گروپ نے صلح کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے ، صلح بسین پنڈ میں ہوئی،صلح کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے خواجہ عمران نذیر ، قاسم ضیا، سابق چیئرمین میاں اکبراور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سمیت علاقوں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، صلح کے موقع پر بادشاہی مسجد کے امام مسجد نے تینوں گروپس کیلئے دعا خیر بھی کی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.