لاہور : عقیلہ سبحانی کیس کی ساری کہانی سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی یونس باٹھ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عورت ہی عورت کی دشمن ہے، یہ بات شاید سننے میں اچھی نہ لگے مگر ہم نے عورت پر ہونے والے ظلم کے کئی واقعات کے پس منظر کے ساتھ دیکھا، تو معلوم ہوا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی جا رہی ہے۔

تاریخ اٹھائیں یا حال پر نظر دوڑائیں، یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ اکثر آپس کی دشمنی میں ایک عورت، دوسری عورت کو تباہ کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔ دکھ سکھ میں سب سے بہترین ساتھی بھی عورت ہی عورت کی ہوتی ہے اوردوسری طرف کہیں زرا بھی اسکی اناء کو ٹھیس پہنچے تو آپکا سارا کیا دھرا پانی میں بہا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ 12 اکتوبر کو لاہور کے علاقہ جوہر ٹاؤن میں پیش آیا جہاں ایک خاتون نے اپنی سوتن کو کرائے کے ملزمان کے ذریعے زندگی سے محروم کروایا ہے، ملزمہ نے اعتراف جرم کر لیا ہے کہ میرا شوہر مجھے وقت اور توجہ نہیں دیتا تھا، اس لئے یہ منصوبہ بنایا۔ میرے شوہر نے سوتن کو گھر خرید کر دیا، جبکہ مجھے مناسب خرچہ نہیں دیتاتھا۔تھانے میں درج ہونے والی ایف آئی آر مقدمے کے مدعی اورنگ زیب نے موقف اختیار کیا ہے کہ12 اکتوبر کو تقریبا 11 بجے دن میری بیوی مسمات عقیلہ سبحانی جو کہ ایڈوکیٹ سجاد قریشی کے آفس میں بطور اسسٹنٹ کام کرتی تھی ایڈووکیٹ سجاد قریشی کے ہمراہ ان کی کار پر دفتر جانے کے لیے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی جبکہ میں اور میرا حقیقی بھائی عثمان جہانگیربھی میرے ہمراہ دکان پر جانے کے لئے اپنی موٹر سائیکل پر ان کے پیچھے پیچھے گھر سے نکلے جب گاڑی الرحیم ہومز کے گیٹ پر پہنچی تو اچانک دو نامعلوم موٹرسائیکل پر سوار گاڑی کے سامنے آگئے اور ان میں سے ایک نے موٹر سائیکل سے اتر کر میری بیوی کو نشانہ بنا دیا اور موقع سے فرار ہوگئے

میں اپنے بھائی کے ہمراہ فوری گاڑی کے پاس پہنچے ہم زخمی عقیلہ کو ہمراہ اپنے بھائی ایڈوکیٹ سجاد قریشی کے ان کی گاڑی پر ہی اپنی بیوی کو زخمی حالت میں برائے علاج معالجہ جناح ہسپتال لاہور لے گے جہاں پر میری بیوی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔اس واقعہ کے بعد وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پولیس راؤ سردار علی خان نے ایک خاتون کے دن دہاڑے ایڈوکیٹ کی گاڑی میں نشانہ بنا دیے جانے پر نوٹس لیتے ہوئے لاہور پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا، مدعی مقدمہ اورنگزیب سبحانی کے متعلق معلوم ہوا کہ اس نے پہلی شادی 2006/07 میں رابعہ سے کی یہ شادی دونوں خاندانوں کی رضامندی سے انجام پائی رابعہ کے بطن سے اس کی ایک اولاد جویریہ جس کی عمر اب تقریبا 14 سال ہے پیدا ہوئی اس دوران اورنگزیب سبحانی قتل ہونے والی عقیلہ سے بھی ملاقاتیں کرتا رہا جس کا علم اس کی پہلی بیوی رابعہ کو ہوگیا اور میاں بیوی کے درمیان جھگڑے شروع ہوگئے نوبت طلاق تک جا پہنچی اور علیحدگی ہوگئی اورنگ زیب نے دوسری شادی عقیلہ سبحانی سے 2008 میں کرلی تاہم عقیلہ سبحانی کے بطن سے آج تک اولاد نہ ہو سکی دوسری جانب اورنگزیب کی پہلی بیوی رابعہ کا اس دوران تین دفعہ نکاح ہوا، کوئی بھی شادی کامیاب نہ ہو سکی، عقیلہ سبحانی نے اولاد جیسی نعمت سے محروم ہونے اور اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے رضامندی سے اپنے شوہر اورنگ زیب اور رابعہ کا دوبارہ نکاح کروا دیا،اورنگزیب معاشی معاملات میں دونوں بیویوں سے انصاف سے کام نہ لیتا رہا جس کا ملزمہ رابعہ کو سخت رنج تھا اور وہ ان تمام معاملات کا ذمہ دار اپنی سوتن عقیلہ سبحانی کو قرار دینے لگی اور انتقام کی آگ میں بھڑکنے لگی، سی آئی اے کی تفتیشی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار کرکے تفتیش کی تو انہوں نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔دوران تفتیش ملزمہ رابعہ کا کہنا ہے کہ دو لاکھ روپے میں ملزموں کو اس کام کے لیے راضی کیا، ایک لاکھ ایڈونس دیا، اجرتی قاتل کئی روز تک عقیلہ کی ریکی کرتا رہا، پھرواردات کی۔ عقیلہ کے شوہر کا ملازم چاند بھی ریکی میں معاونت فراہم کرتا رہا۔ ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ نے بتایا ہے کہ واردات میں ملوث تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے،