لاہور کے ایک پروفیسر نے عمران اینڈ کمپنی کو لتاڑ کر رکھ دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یہ جوبڑ ا شور مچا ہوا ہے کہ رمضان بازاروں میں سستی چینی دی گئی، یہ شہباز شریف دور میں بھی دی جاتی تھی مگراس وقت پالیسی فیصلہ تھا کہ شوگر ملیں سستی چینی خود دیں گی سرکاری خزانے سے کچھ نہیں ملے گا۔

یہ شہباز شریف کا انداز حکمرانی تھا جس میں اس نے اپنے بیٹے کی ملز سے 30ملین اور باقی فیملی کی ملز سے 18ملین روپے خرچ کروا دئیے اور تم کہتے ہو کہ شہباز شریف فیملی کے ارکان کو نوازنے کے لئے منی لانڈرنگ کرتا تھا، ٹی ٹیاں بھیجتا تھا“۔ پروفیسر صاحب نے مزید نوٹس نکالے اور بولے،” شہباز شریف وہ حکمران ہے جس نے تنخواہ ہمیشہ عطیہ کی، ٹی اے ڈی اے نہیں لیا، میڈیکل اور آفیشئل انٹرنیشنل ویزٹس کے ٹکٹ تک نہیں لئے ۔ریکارڈ کے مطابق اگر وہ چاہتا تو وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے 5کروڑ 90لاکھ 32ہزار 793 روپے لینے کا حقدار تھا، شہباز شریف نے نہ صرف وہ چھوڑے بلکہ اپنے ہی خاندان کے کاروبار کو بطور وزیراعلیٰ اپنے ان فیصلوں سے دو ارب روپوں سے زائد کا نقصان پہنچایا۔۔“پروفیسر صاحب جذباتی ہوگئے، کہنے لگے، ” میرے شہر اور میرے صوبے کو تباہ کر دیا گیا ہے، مجھے لاہور کی سڑکوں پر کوڑے کے ڈھیر دیکھ کر شرم آتی ہے۔ میرا دل کرتا ہے موت کو سینے سے لگا لوں جب میں سرطان کے مریضوں کو ادویات نہ ملنے پر احتجاج کرتے دیکھتا ہوں، جب طلبا کو فیس نہ ہونے پرتعلیمی اداروں سے باہر ہوتے دیکھتا ہوں، پیف جیسے ادارے تباہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں۔۔۔ جس وزیراعلیٰ کے ایماندارانہ اور ایفی شینٹ انداز حکمرانی کو طالب علموں کے نصاب کا حصہ ہونا چاہئے، فیصلہ سازی میں مشعل راہ ہونا چاہئے اسے پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ کے لئے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تم پر فرض ہے کہ یہ سارے حقائق، اعداد و شمار کے ساتھ قوم کے سامنے رکھو تاکہ الزام لگانے والوں کو کچھ شرم آئے“۔ میں اپنے بوڑھے مگر شدید محب وطن استاد کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور احترام کے ساتھ عرض کیا،” سر!میں اپنی ڈیوٹی پوری کر دوں گا لیکن اگر موجودہ حکومت کے پاس اس تمام کو رد کرتے ہوئے کوئی ثبوت ہوئے تو وہ بھی شائع کروں گا، آپ اپنے ملک ، صوبے اور شہرکے لئے دعا کرتے ہوئے اپنے شاگرد کے لئے بھی کر دیجئے گا“۔

Comments are closed.