لاہور کے حسین چوک کے قریب واقع ایک گھر میں حسن نثار نے بلاول بھٹو کا کونسا روپ دیکھا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) مجھے آج بھی یاد ہے محترمہ بے نظیر بھٹو گلبرگ لاہور کے مشہور حسین چوک سے ذرا آگے تب سینیٹر گلزار کے گھر قیام کیا کرتی تھیں۔ بلاول تب چھوٹا سا بچہ تھا (اب ذرا بڑا سا بچہ ہے)۔ ایک دن اسے آیا کے ساتھ شرارتیں کرتے دیکھ کر میں نے

نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہمدم دیرینہ جے بی (جہانگیر بدر مرحوم) سے کہا…..’’دیکھو پیپلز پارٹی کا چیئرمین کیا کر رہا ہے‘‘ جے بی ہنس پڑا لیکن مذاق اور بے دھیانی میں کہی گئی اپنی ہی یہ نان سیریس سی بات خود مجھے ہانٹ کرنے لگی تو میں نے ایک ہلکا پھلکا مزاحیہ استہزائیہ سا کالم لکھا کہ آیا ننھے چیئرمین کا پیمپر تبدیل کر رہی ہے اور چیئرمین بلاول ’’غوں غیں غاں‘‘ کی زبان میں ’’سی ای سی‘‘ سے خطاب فرما رہے ہیں جبکہ ’’سی ای سی‘‘ کے معزز ارکان ان کی سمجھ نہ آنے والی زبان میں جاری تقریر پر صدقے واری جا رہے ہیں۔سچی بات ہے تب میں بھی نہیں جانتا تھا کہ مجھے اپنی زندگی میں ہی کھلی آنکھوں سے دیکھے اس عظیم خواب کی تعبیر دیکھنا نصیب ہو گی۔ آج ایک طرف محترمہ بے نظیر بھٹو کا بیٹا پارٹی ٹیک اوور کر چکا ہے تو دوسری طرف نواز شریف کی بیٹی عملاً ن لیگ کی گدی پر براجمان ہو چکی اور دونوں خاندان بانہوں میں بانہیں ڈالے، کیسوں پر کیس ڈالے.وارداتوں پر وارداتیں ڈالے میرے اور آپ کے ووٹ کو عزت دے رہے ہیں یا کم از کم میرے ووٹ کو تو ضرور عزت دے رہے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ مسمی حسن نثار ولد میاں نثار الحق (مرحوم) کہنے سننے کی حد تک ہی غیور اور باشعور ہے ورنہ یہ دونوں لفظ اس کے قریب سے بھی نہیں گزرے اور یہ شخص نام نہاد آزادی کے 73سال بعد بھی خود کو ’’شہری‘‘ نہیں ’’رعایا‘‘ سمجھتا ہے۔ معاف کیجئے ذرا دور نکل گیا لیکن اکتوبر، دسمبر اور جنوری تو بہرحال دور نہیں۔کٹا کٹی یا دونوں ہی نکل آئیں گے اور ’’اے پی سی‘‘ ’’صاحبِ اولاد‘‘ ہو جائے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.