لاہور کے خراب حالات کا سوشل میڈیا سے کیا تعلق نکل آیا ؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک سے معاملات طے پاگئے، سعد رضوی سمیت 210 ایف آئی آر قانونی طریقہ کار سے گزریں گی۔ٹی ایل پی کے 733 کارکنوں میں سے669کو رہا کر دیا گیا، تحریک لبیک کالعدم قرا ر دیے جانے کے خلاف 30 دن میں

اپیل کرسکتی ہے‘ فضل الرحمان سمجھے شاید دوبارہ ان کی کوئی لاٹری نکلنے لگی ہے‘ ٹی ایل پی کے اتوار کے روز کے احتجاج کے دوران سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا استعمال ہوا ‘سوشل میڈیا پاکستان کا امن تباہ کررہاتھا۔ساری صورتحال میں بھارت سے 2لاکھ لاکھ لوگ آن لائن تھے‘ امریکا اور کوریاسے بھی مہم چلی ‘بھارت ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا کیس خراب کرنا چاہتاہے ‘سوشل میڈیا پر ایسے لوگوں کو جان بحق دکھایا گیا جنہوں نے بعدمیں اپنے زندہ ہونے کی تصدیق کی۔سوشل میڈیا نے جو کیا اس کا جائزہ لیا جارہا ہے‘ ریاست نے کوئی دباؤقبول نہیں کیا اور اپنی رٹ برقرار کھی ‘جو شخص قانون کو ہاتھ میں لے گا اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔وہ بدھ کو وزارت داخلہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ایسا قانون لا رہے ہیں کہ کسی کے فرقے کو چھیڑا نہ جائے اور اپنا چھوڑا نہ جائے، اس حوالے سے وزارت داخلہ ایک جامع پالیسی لیکر آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ میں آج سوشل میڈیا کے حوالے سے اجلاس ہوا، سوشل میڈیا پر پوری اسٹڈی جاری ہے جس پر بعد میں بات ہوگی، بھارت میں ایک ہی وقت میں 2، 2 لاکھ افراد سوشل میڈیا پر آن لائن تھے۔ فضل الرحمان سمجھے شاید دوبارہ ان کی کوئی لاٹری نکلنے لگی ہے‘انہوں نے کہا میت اسلام آباد لانا تاکہ وہ بھی پہنچیں، آج کسی نے پی ڈی ایم کی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کے 30 دن میں جواب دینا ہے، اس پر کمیٹی بنے گی جو کیس کا فیصلہ کرے گی۔ٹی ایل پی کے اتوار کے روز کے احتجاج کے دوران سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا استعمال ہوا ، انڈیا، امریکہ، کوریا سے مہم چلی‘ اس کا مقصد پاکستان کے استحکام کو خراب کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 210 مقدمات عدالتی کارروائی کے عمل سے گزریں گے، اس میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کا مقدمہ بھی شامل ہے جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے علاوہ 78 (اے) لگائی گئی ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 700 پولیس والے زخمی ہوئے‘ٹی ایل پی نے بھی خوش اسلوبی سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور جو قرار داد پیش کی گئی اس میں یہ شق شامل کی گئی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے معاملات ریاست کو طے کرنا ہیں ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *